Daily Mashriq


سرائیکی وسیب میں 5دن

سرائیکی وسیب میں 5دن

پچھلے پانچ دن سرائیکی وسیب کی مسافرت میں گزرے ۔ ملتان میں اماں حضور کی تربت پر حاضری کے علاوہ خانپور میں منعقدہ سرائیکی قومی مشاورتی کٹھ میں شرکت کیساتھ دوستوں کیساتھ مکالمے کی چند نشستیں بھی ہوئیں۔ سرائیکی وسیب کے سیاسی موسم میں مہینہ بھر کی گرما گرمی کے بعد بدھ کی سہ پہر ’’موسم‘‘ کو قرار آگیا۔ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ بنانے والے الیکٹیبل درگاہ عالیہ بنی گالہ شریف کی بیعت کر گئے۔ سدا بہار برانڈ الیکٹیبل کی اپنی دنیا اور مفادات ہوتے ہیں۔ ہر الیکشن میں نئی وفاداریاں عہد وپیمان نسل در نسل یہی سلسلہ ہے۔ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ (مشاورت) سے بنا تھا نون لیگ کا کمبل اور پیپلز پارٹی کا کھیس چرانے کا منصوبہ تھا۔ نون لیگ نے کمال مہارت سے بہاولپور صوبہ بحالی کی تحریک کے تن مردہ میں جان ڈالی لیکن یہ مسئلہ ہر گز نہیں۔ نا یہ مسئلہ ہے کہ سرائیکی قوم پرست کشتوں کے پشتے لگانے کی پوزیشن میں ہیں۔ اصل قصہ یہ ہے کہ ’’سیانوں‘‘ نے غور کیا کہ یہ داؤ الٹ نہ پڑ جائے۔ صوبہ محاذ والوں نے اگر صوبے کے نام پر الیکشن لڑا تو ظاہر ہے رائے عامہ ہموار ہوگی عوامی جذبات کو بعداز الیکشن کیسے قابو کیا جائے گا؟ اس سوال پر غور کرنیوالے مالکان نے بالآخر صوبہ محاذ والوں کو بنی گالہ کی بیعت کا اشارہ کیا۔ مرضی کا ایس ایچ او‘ پٹواری اور تحصیلدار نکلوا کر سیاست کرنیوالوں میں اتنا دم خم نہیں تھا کہ وہ سوال کر سکتے۔ اچھا سوال وہ کرتے ہیں جن کی کوئی سیاسی سوچ ہو۔ ہر صورت میں ایوان اقتدار کی مجاوری کو کئی نسلوں سے نبھاتے خاندانوں سے بغاوت یا زمین زادوں کیساتھ کھڑا رہنے کی اُمید جاگتی آنکھ کے خواب کے سوا کچھ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سرائیکی مشاورتی کٹھ میں عرض کیا تھا کہ صوبہ محاذ (اب مرحوم و مغفور) والوں کو منہ بھر کے گالی دینے کی ضرورت ہے نا ان کی چاکری پر آمادہ ہونے کی۔ قوم پرستوں کو ان سے سوال جواب بہرطور کرنا چاہئے۔ مذاکرات کا دروازہ بند نہ کیجئے فقط ان کیلئے نہیں کسی کیلئے بھی۔نون لیگ‘ پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف سمیت سب سے بات کیجئے جس جماعت کو وسیب زادوں کا مقدمہ اور موقف قبول ہو بسم اللہ‘ نصف صدی کی جدوجہد ریاست کے اندر پانچویں اکائی کے قیام اور 2جون 1818ء کو چھینی گئی قومی شناخت کی بحالی ہے۔ مشاورتی کٹھ میں ایک مشاورتی کونسل بنی جس میں وسیب کی تمام قوم پرست جماعتوں کیساتھ ممتاز اہل دانش وقانون کی نمائندگی ہے۔ صوبہ محاذ والے پیا کے آنگن میں اُتر گئے‘ سیاسی جماعتیں موجود ہیں‘ کونسل کیلئے زیادہ آسانی رہے گی سیاسی جماعتوں سے مکالمہ کرنے کی۔ ٹھنڈے دل کیساتھ وسیب زادوں کو یہ امر بہرطور مدنظر رکھنا ہوگا کہ نصف صدی سے جاری جدوجہد ایک قومی تحریک ہے‘ طبقاتی جدوجہد نہیں قومی تحریک میں آبادی کے کسی طبقے کی شمولیت پر اعتراض درست نہیں البتہ یہ ضرور دیکھا جاتا ہے کہ کون کس مقصد کیلئے تحریک کا حصہ بنا۔ سرائیکی وسیب آج بھی وہ بدقسمت خطہ ہے جہاں پیروں میروں‘ مخدوموں‘ سرداروں اور جاگیرداروں کی گرفت مضبوط ہے۔ ترقی نہ ہونے کے برابر‘ غربت کی شرح دوسرے علاقوں کے مقابلہ میں کہیں زیادہ‘ تعلیم کی روشنی اس طور نہیں پھیل پائی جیسے پھیلنی چاہئے تھی۔ یہ وہ مسائل ہیں جن کی وجہ سے بالادستوں کی گرفت ابھی قائم ہے اور اس گرفت کو قائم رکھنے میں ساری بڑی چھوٹی سیاسی جماعتیں ایک سی سوچ رکھتی ہیں۔ قوم پرستوں کیلئے اچھا موقع ہے وہ انتخابی ماحول کے ہنگام میں سیاسی جماعتوں سے مذاکرات بھی کریں اور عوام کے سامنے اپنا مقدمہ بھی رکھیں۔ آبادی کے مختلف طبقات کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ قوم پرست کسی کے دشمن نہیں بلکہ وسیب میں آباد دوسری لسانی اکائیوں کے لوگوں کو اس اتحاد کی لڑی میں پرونا چاہتے ہیں جو ہر قسم کے بالادست طبقات کے جبر وستم سے نجات اور ایک نئی صوبائی اکائی کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں، جو اپنے وسیب میں عوام کے حق حکمرانی کے خواب کو پورا کرسکے۔سرائیکی وسیب کے پیروں میروں‘ سرداروں‘ مخدوموں اور جاگیرداروں کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ ان خاندانوں نے ہمیشہ اُبھرتے سورج کو نجات دہندہ قرار دیا۔ ہر دور میں حکومتی فوائد ان کے خاندانوں تک محدود رہے۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ مالکان نے تقسیم پنجاب کا فیصلہ تبدیل کر لیا ہے تو وسیب زادوں کو اس سے فرق نہیں پڑتا قوم پرست تو پہلے سے ہی وسیب اور زمین زادوں کیساتھ کھڑے تھے۔ ہمارے دوست خواجہ عبید کی انٹرنیشنل سرائیکی کانگریس کے زیر اہتمام منعقد ہونیوالی مشاورتی کانفرنس نے قوم پرستوں کو ایک موقف اپنانے اور مل کر جدوجہد کرنے کی جو راہ دکھائی وہ تاریخ ساز عمل ہے۔ وسیب میں پانچ روزہ مسافرت کے دوران رانا محبوب اختر‘ پروفیسر عامر فہیم‘ مجاہد جتوئی‘ عثمان کریم بھٹ‘ شاہنواز خان مشوانی‘ حسن معاویہ بلوچ اور دیگر اہل دانش ودوستوں سے ملاقاتیں رہیں۔ ملتان میں اپنی والدہ حضور کی تربت پر حاضری سے بہت سکون حاصل ہوا۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ والدہ صاحبہ کے درجات بلند فرمائے، زندگی بھر قرآن وحدیث اور اخلاق حسنہ کی تبلیغ فرماتی رہیں۔ مجھ سے مسافرکو اپنی والدہ مرحومہ کی تربت پر حاضری دے کر اطمینان ملتا ہے۔ بہت سارے دکھ‘ شکوے اور سوال اماں حضورکی خدمت میں عرض کرتا ہوں۔ حرف آخر یہ ہے کہ جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کا انت مسکار ہوا اب کون اپنے تھیلے سے کیا نکال لاتا ہے اس کا انتظار کیجئے البتہ ایک حقیقت یہ ہے کہ قوم پرستوں کو اپنی اپنی صفوں میں اتحاد قائم رکھتے ہوئے وسیع تر اتحاد کی صورت میں اپنا مقدمہ خود لڑنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں