Daily Mashriq

صوبائی کابینہ کے احسن اور قابل نظر ثانی فیصلے

صوبائی کابینہ کے احسن اور قابل نظر ثانی فیصلے

وزیراعلیٰ محمود خان کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کے اجلاس میں ہونے والے اہم فیصلوں میں سے تحسین کے قابل فیصلے زیادہ اور نیک نیتی سے کئے جانے والے ایک فیصلے پر تحفظات جبکہ ایک اور فیصلے پر تنقید کی کافی گنجائش ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ بطور مسلمان ہمارے فرائض خواہ وہ حکمران ہوں عمال ہوںیا عوام دینی معاملات پراحتیاط اور اس ضمن میں کسی دانستہ ونادانستہ کو تاہی پر تادیب بصورت عمل تحریروتقریر سب کی بنیادی ذمہ داری ہے اس ضمن میں سب سے بڑی اور بنیادی ذمہ داری حکمرانوں کی ہے جس کی ادائیگی ان کا دینی وسرکاری اور اخلاقی فرض ہے کابینہ کے اجلاس میں اس ذمہ داری کو پورے احتیاط اور احسن طریقے سے نبھاتے۔ وزیراعلیٰ نے چوتھی کلاس کی درسی کتاب میں ختم نبوت ؐ کے حوالے سے مضمون میں الفاظ کی تبدیلی کے معاملے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اس سلسلے میں ذمہ داران کا تعین کرنے اور اُن کے خلاف بھر پور قانونی کارروائی کی ہدایت کی ہے ۔ جو کہ ذمہ دارانہ اقدام کے ساتھ ساتھ دینی جذبات کا احترام اور پاس رکھنا بھی ہے جس کے بعد اس سلسلے میں تحفظات اور بے چینی کا خاتمہ ہونا چاہیئے اور حکومتی اقدام اور اس کے نتائج کا انتظام کرنے کی ضرورت ہے۔وزیراعلیٰ نے سرکاری سکولوں کے نصاب میںحضور بنی کریم ؐ کی حیات طیبہ کے حوالے سے جامع مضمون شامل کرنے کی ہدایت کی ہے کہ بچوں کو بنی کریم ؐ کی زندگی ، آپ کے اوصاف اور خصائص کے حوالے سے خاطر خواہ معلومات حاصل ہوں وزیراعلیٰ نے کہاکہ عقیدہ ختم نبوت ؐ ایمان کا بنیادی تقاضا ہے اور اُن کی حکومت عقیدہ ختم نبوتؐ سے کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ برداشت نہیں کرے گی ۔ وزیر اعلیٰ نے این ایف سی ایوارڈ میں فیڈرل ڈویزیبل پول سے خیبرپختونخوا کے مجموعی حصے کا تین فیصد حصہ جو کہ 10.8 ارب روپے بنتا ہے ، قبائلی اضلاع کی تیز تر ترقی پر خر چ کرنے کی منظوری دی ہے اور کہا ہے کہ یہ صوبائی حکومت اور اس صوبے کے عوام کے ضم شدہ اضلاع کے لئے اخلاص اور نیک نیتی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔صوبائی کابینہ کے اجلاس میں این ایف سی ایوارڈ کے صوبے کے حصے کا تین فیصد قبائلی اضلاع کو دینے سے قبل ازیں اتفاق ضرور ہوچکا ہے اور یہ قبائلی اضلاع کے عوام کا حق بھی ہے اس ضمن میں خیبرپختونخوا کی جانب سے پیشرفت دیگر صوبوں کیلئے تقلید کا باعث امر بھی ہے لیکن اگر اس کے اخلاقی پہلو سے قطع نظر دیگر پہلو سے جائزہ لیا جائے تو اس قابل تقلید اقدام سے اثرات کے منفی طور پر سامنے آنے کا امکان قوی نہیں تو کمزور بھی نہیں پورا پورا امکان ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اصولی طور پر یہ ایک مشترکہ قومی ذمہ داری ہے جو وزیراعظم کے زیر صدارت چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے اجلاس میں اجتماعی طور پر لی جانی چاہئے تھی اور تمام صوبوں کو اس اصولی موقف سے اتفاق کرتے ہوئے عملی طور پرقبائلی اضلاع کی وفاق سے صوبے کو منتقلی کے بعدان کیلئے وسائل کی فراہمی میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیئے تھا جس سے سندھ اور بلوچستان نے واضح طور پر انکار کیا تو پنجاب نے صرف حامی بھری صرف خیبرپختونخوا کی حکومت نے عملی طور پر کردکھایا اس میں قباحت یہ نظر آتی ہے کہ خیبرپختونخوا کی اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں پہل کرنے کے بعد دیگر صوبے اس معاملے کو خیبرپختونخوا کا مسئلہ اور معاملہ سمجھنے لگیں گے اور عملی طور پر اپنا حصہ ڈالنے سے گریز کریں گے ۔صوبائی حکومت کو قبل از انضمام یہی مشورہ دیا گیا تھا کہ پہلے وہ ان اضلاع کے مالیاتی حصے کے بارے میں معاملات کا تعین کروائے اس کے بعد انضمام کا اقدام کیا جائے اگر یہ صورت اختیار کی جاتی تو آج قبائلی اضلاع کو ان کا حصہ مل چکا ہوتا یا پھر انضمام کا عمل مئوخر ہونے سے وفاق پر دبائو پڑتا کہ وہ اس کا فیصلہ جلد سے جلد کرے بہرحال اب جبکہ کابینہ نے یہ فیصلہ کر ہی لیا ہے تو وزیراعلیٰ اور صوبے کے معاشی منیجروں کو اس ضمن میں وزیراعظم وزارت خزانہ اور متعلقہ حلقوں سے رابطہ کر کے قبائلی اضلاع کے حصے کی تین فیصد رقم ہر صوبے کے حصے سے ادائیگی کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے صرف یہی نہیں بلکہ مرکز کے ذمے بجلی کے خالص منافع کے بقایا جات کی پوری ادائیگی کیلئے بھی متحدہ آواز اور مطالبے کی ضرورت ہے یہ دونوں معاملات صوبے کے عوام جس میں اب قبائلی اضلاع کی شمولیت کے بعد خیبر پختونخوا ملک کا دوسرا بڑا صوبہ بن چکا ہے کی ضرورت اور جملہ عوامی نمائندوں کی ذمہ داری ہے کہ خواہ وہ حکومت میں ہوں یا حزب اختلاف میں۔کابینہ کے اجلاس میں وزراء،مشیروں،معاونین خصوصی اورسرمایہ کاری افسران کو ہیلی کاپٹر کے استعمال اور خاص طور پر سرکاری ہیلی کاپٹر کو سیاسی مقاصد اور جلسوں میں شرکت کیلئے استعمال کرنے کی منظوری نہ صرف عوامی وسائل کا انتہائی غلط ناجائز اور غیر قانونی استعمال ہوگا بلکہ یہ خود تحریک انصاف کے بنیادی منشور مقاصد سادگی وکفایت شعاری کے فیصلے کی سنگین خلاف ورزی ہوگی صوبائی کابینہ کا یہ فیصلہ ناقابل قبول اور بلاجواز ہے جس پر جتنی جلد نظر ثانی کی جائے اتنا بہتر ہوگا اس کے پس پردہ اگر حکومت کی کوئی مجبوری یا مقاصد بھی کارفرما ہیں تو ان کو بھی خاطر میں نہ لایا جائے اگر ایک مرتبہ یہ سلسلہ چل نکلا اور اس بدعت کی ابتداء تحریک انصاف کی حکومت سے ہوئی تو آئندہ حکومتوں میں بھی اس کے غلط استعمال کا بار تحریک انصاف ہی کے کھاتے میں لکھا جائے گا یہ فیصلہ خود تحریک انصاف کے میرٹ اور معیار کے شیدائی کارکنوں کیلئے بھی قابل قبول نہیں ہوگا۔صوبائی کابینہ کو ایسے فیصلوں سے گریز کیا جانا چاہیئے جو عوامی مفادات سے متصادم ہوں۔ سرکاری ہیلی کاپٹر کا سرکاری کاموں اور ہنگامی صورتحال ہی میں استعمال جائز ہے کجا کہ اسے سیاسی جلسوں میں جانے شادی کی تقریبات میں شرکت اور یاردوستوں کو گھمانے پھرانے کیلئے استعمال کیا جائے اس فیصلے کو واپس نہ لیا گیا تو یہ حکومت اور تحریک انصاف کے گلے کا ہار بن جائے گا ۔بہتر ہوگا کہ صوبائی کابینہ کے اس فیصلے سے رجوع کیا جائے۔

متعلقہ خبریں