Daily Mashriq

درسی کتب میں غلطیوں کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے

درسی کتب میں غلطیوں کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے

خیبرپختونخوا میں اسلامیات کی کتاب سے ختم نبوت کے حوالے سے مواد ہٹانے کے بعد دیگر درسی کتب میں بھی غلطیوں کی نشاندہی کی حد تک ذمہ دارانہ کردار کا مظاہرہ اور وقتی وغیر مستقل تصحیح قابل قبول عمل ہے اس ضمن میںہدایت کی گئی ہے کہ اسلامیات کی چوتھی جماعت کی کتابیں تمام سکولوں سے منگوا کر متعلقہ سرکل دفاتر میں سٹور کی جائیں، اسی طرح دسویں جماعت کی اسلامیات اختیار ی کی کتاب بھی طلبہ سے لیکر ضلعی دفاتر میں رکھی جائیں، مراسلے کے مطابق پرنٹنگ غلطی کیوجہ سے پانچویں جماعت کی سوشل سٹڈی کی کتابوں میں صفحہ نمبر پانچ اور پینتس پر پاکستان کے نقشے پر جموں اینڈ کشمیر کا لفظ غلط پرنٹ ہوا ہے تاہم مالی مشکلات اور طلبہ کے وقت کو ضائع ہونے سے بچانے کیلئے نئی کتابوں کی چھپائی اوردوبارہ تقسیم کا عمل شاید ممکن نہ ہولہذاتمام ہیڈٹیچرزبچوں کی کتابوں میں متعلقہ غلطی ہاتھ سے درست کرکے جموں کشمیر (متنازعہ علاقہ) لکھیں۔ ان اقدامات سے اتفاق کے باوجودہم سمجھتے ہیں کہ ٹیکسٹ بورڈ کے حکام نے بروقت ذمہ داری کا مظاہرہ نہ کیا اور سکولوں میں طلبہ کے زیر مطالعہ آنے تک کے عمل کے دوران نہ تو اس کی نشاندہی کی گئی اور نہ ہی تصحیح ہوئی۔ ان میں سے بعض غلطیاں ایسی ہیں جن کی نشاندہی اسی صفحے کے کالم ’’روزن خیال‘‘ میں کرک سے اسلامیات کے ایک ٹیچر کی جانب سے دو مرتبہ کی گئی مگر دوسری اشاعت میں غلطی کی تصحیح نہ ہوئی جو نہ صرف غیر ذمہ دارانہ اور فرائض سے سنگین غفلت کا ارتکاب ہے بلکہ اسے ڈھٹائی قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا جو غلطی پہلی مرتبہ سامنے آئی اس حوالے سے بھی ٹیکسٹ بک بورڈ کے متعلقہ حکام اور عملے کے خلاف سخت تاددیبی کارروائی ہونی چاہیئے نیز اس امر کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیئے کہ جموںوکشمیر کے متنازعہ علاقہ نہ لکھے جانے میں سہو کا عمل دخل زیادہ ہے یا پھربورڈ میں اس قسم کی ذہنیت کے لوگ موجود ہیں جنہوں نے قصداً یہ جگ ہنسائی کروائی۔ درسی کتب میں ہاتھ سے تصحیح کے باوجود کچھ کتابوں میں غلطیاں رہ جانے اور تصحیح شدہ کتب بچوں کے پاس رہ جانے کا احتمال ہے لہٰذا اس ضمن میں پوری احتیاط کا مظاہرہ کیا جائے۔

شادی سے قبل ٹیسٹ لازمی کرانے کو یقینی بنایا جائے

خیبر پختونخوا میںشادی سے قبل تھیلے سیمیا ٹیسٹ لازمی کرانے کے قانون کی روشنی میں ایک سال سے زائد تاخیر کے بعد ایکٹ کیلئے رولز کی تیاری کے عمل کو مزید تاخیر کے بغیر مکمل کرنا چاہیئے تاکہ مزید بچوں کو خون کی بیماری سے محفوظ رکھنے کی بہتر سعی ممکن ہوسکے اور ایسے جوڑوں کی نشاندہی ہوسکے جن کے بچوں کو ممکنہ طور پر خطرات کا سامنا ہونئے قوانین کے مطابق شادی سے قبل تمام افراد کیلئے تھیلے سیمیا ٹیسٹ لازمی ہوگا جس کا اندراج نکاح رجسٹرار کے پاس کرایا جائیگا اگرچہ تھیلے سیمیا بیماری پر کنٹرول کیلئے صوبائی حکومت نے شادی سے قبل جوڑوں کیلئے ٹیسٹ لازمی قرار دیا ہے لیکن اس سلسلے میں رولز کا مسودہ منظور نہ ہونیکی وجہ سے تاحال صوبے کے کسی بھی حصے میں شادی سے قبل لڑکا ،لڑکی کیلئے اس قسم کے ٹیسٹ کی پابندی لازمی نہیں ہے جس کی وجہ سے ایک برس میں بھی سینکڑوں بچے تھیلے سیمیا کیساتھ پیدا ہوئے ہیں۔ تاہم دوسری طرف ذرائع کا دعویٰ کیا ہے کہ تھیلے سیمیا کے عالمی دن کے موقع پر محکمہ صحت کے حکام اس طرح کے اعلانات کرتے ہیں لیکن بعد میں اس پر پیش رفت نہیں ہوتی قانون کے باوجود تھیلے سیمیا ٹیسٹ لازمی نہیں جبکہ تاحال قواعد وضوابط بھی نہیں بنائے گئے ہیں جس کی وجہ سے مذکورہ قانون کا عملی صورت میں کوئی نام ونشان نہیں ذرائع نے بتایا کہ رولز کامسودہ آئندہ ماہ تک چیف سیکرٹری سے منظور کرالیا جائیگا جس کے بعد ہی ٹیسٹ لازمی ہونیکا فیصلہ کیا جائیگا۔صورتحال جو بھی ہو اس ضمن میں مزید تاخیر کی گنجائش نہیں اس صوبے کے لئے خاص طور پر اس قسم کی قانون سازی اور اس کی سخت پابندی اس لئے بھی ضروری ہے کہ یہاں کزن میرج عام ہے جو خون کی بیماری میں مبتلا بچوں کی پیدائش کی ایک بڑی وجہ ہے اس ضمن میں قانون سازی اور قانونی ممانعت کے ساتھ ساتھ عوامی طور پر شعور اجا گر کرنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ اس پیچیدہ صورتحال سے بچا جا سکے۔

متعلقہ خبریں