Daily Mashriq


آئیں اپنے اپنے حصے کا سچ بولیں

آئیں اپنے اپنے حصے کا سچ بولیں

گرمی‘ مہنگائی اور تلخی تینوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گرمی تو چلیں موسم کے ساتھ ہے مگر مہنگائی اور تلخی ان دونوں کے حوالے سے سنجیدگی کے ساتھ سوچنے کی ضرورت ہے۔ ساڑھے چار دہائیوں کے دوران یہ دوسرا موقع ہے جب ’’انجانے مہربان‘‘ فون کرکے تحریروں اور آراء پر نا پسندیدگی کے ساتھ ڈھکے چھپے لفظوں میں کچھ سمجھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کیا بہت ادب و احترام کے ساتھ یہ عرض کروں‘ حضور! ہم نے کیا سوچنا اور کیا لکھنا ہے یہ آپ ہمیں سمجھانے رٹانے کی کوشش نہ کیجئے‘ ہم کھیت مزدوروں جتنی فہم بہر طور رکھتے ہیں‘ اگلے ہوئے لقموں اور خیرات پر نہیں پلے۔ اپنے حصے کا سچ بولنے کو واجب جانتے ہیں۔ تاریخ کی غلط سمت کھڑے ہوئے نہ شوق ہے۔ یہ ہمارا ملک ہے بائیس کروڑ انسانوں کا۔ دستور اور قانون موجود ہے عدالتیں بھی‘ نا درست بات کہیں لکھی ہے تو بسم اللہ کیجئے۔ نواز شریف کا معاملہ عدالتوں میں ہے‘ محض سیاسی فہم پر اختلاف کسی کے ملک دشمن ہونے کی سند نہیں۔ روزی روٹی لکھنے پڑھنے سے بندھی ہے پرکھوں نے کوئی خانقاہ ورثے میں چھوڑی نہ لمبی چوڑی جاگیر چوتھی جماعت سے محنت مزدوری کر رہا ہوں اس لئے اپنے حال میں مست بھی ہوں اور خوش بھی البتہ ایک تحریر بصورت خط جناب جنرل قمر جاوید باجوہ کو لکھ بھیجی ہے تاکہ سند رہے۔ ہم آگے بڑھتے ہیں سیاست میں تیزی سے در آئی تلخی بد زبانی و بد کلامی میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ برداشت پیدا کیجئے۔ خصوصاً تحریک انصاف کے دوست اب شعوری طور پر اس حقیقت کو مان لیں کہ وہ ڈی چوک کے دھرنے میں منتخب ایوانوں میں موجود ہیں اور ایوانوں کی زبان چوراہوں سے مختلف ہوتی ہے۔ ایک شکوہ اور ہے اگر بابا کوڈا نامی لشکر (یہ کوئی درجن بھر سوشل میڈیا اکائونٹس ہیں اور ایک ہی نام سے ہیں) کا تحریک انصاف سے کوئی تعلق نہیں تو وفاقی حکومت ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے ذریعے ان کی گردن ناپنے کا عمل تاخیرکئے بغیر کرے بابا کوڈا نامی سوشل میڈیا اکائونٹس سے ملک میں فرقہ وارانہ جنون اور صوبائی تعصبات کو ہوا دی جا رہی ہے۔ حب الوطنی پر کسی کی اجارہ داری نہیں نہ اسلام کسی کی ذاتی پرچون کی دکان ہے۔ حیرانی اس بات پر ہے کہ ایف آئی اے والے حکومت پر تنقید کرنے والوں کو تو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں مگر انہیں فرقہ پرستی اور دوسرے تعصبات کو ہوادینے والے کوڈے دکھائی نہیں دیتے؟ کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ جو کہا لکھا جا رہا ہے اس میں تحریک انصاف ارو ریاست کی رضا مندی شامل ہے؟تحریک انصاف کے د وستوں کو سوچنا ہوگا کہ کل جب وہ اپوزیشن میں تھے تو اس وقت کی حکومتوں کو کیا کیا نہیں کہتے تھے۔ اب حکومت میں ہیں تو تنقید برداشت کریں۔ یہ کیا بات ہوئی کہ حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے کبھی بھارتی ایجنٹ قرار پائیں کبھی افغان ایجنٹ اور کبھی کافر و مشرک؟ عدم برداشت سے نقصان ہوگا۔ دو ہزار گیارہ سے دو ہزار انیس 8سال بہت ہیں ہجوم کو منظم کرنے اور سیاسی عمل میں شریک فہمیدہ کارکنوں کا رویہ اپنانے کے لئے یہاں کوئی انہیں ان القاب سے نہیں نواز رہا جن سے وہ دوسروں کو نوازتے ہیں۔ سیاست شعوری طور پر نہ ہو تو مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ ہمارے جو دوست اٹھتے بیٹھتے یہ کہتے ہیں کہ ستر اکہتر سال کا گند آٹھ سے نو ماہ میں کیسے صاف ہوگیا وہ اس امر سے لا علم ہیں کہ میجر جنرل سکندر مرزا سے جنرل پرویز مشرف تک پانچ جرنیلوں نے اقتدار پر قبضہ کیا اور یہ عرصہ 37 سال کا ہے باقی کے 32-33 سالوں کے دوران اس ملک میں جو حکومتیں بر سر اقتدار رہیں ان کے ادوار میں بالا دست سول ملٹری اشرافیہ کی مداخلت کتنے فیصد تھی؟ جناح صاحب اور بھٹو کے ادوار کو نکال کر باقی سالوں اور ادوار کاتجزیہ کرلیجئے اورتو اور 1988ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کو کن شرائط کے ساتھ حکومت دی گئی اولاً صدر مملکت کے منصب پر غلام اسحاق خان کو منتخب کروانا ہوگا ثانیاً مشیر خزانہ اور وزیر خارجہ تحفے میں قبول کرنا ہوں گے۔ بے نظیر بھٹو کی جگہ جب نواز شریف کو لایا گیا تو کیا ہوا تھا عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس ملک میں جو مسائل اور گھٹالے ہوئے ان کی تمام تر ذمہ داری سیاستدانوں پر ڈال دینا یکسر نا مناسب ہے۔ تاریخ دوستی کتب کی مرہون منت نہیں ہوتی۔ ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ یہاں درسی کتب کی تاریخ اور نسیم حجازی کے ناولوں پر ایمان لانے والے چاروں طرف دندناتے پھرتے ہیں۔ تحقیق و جستجو سے منہ پھیرے سرکاری بیانئیے پر اتراتے پھرتے کتنے لوگ جانتے ہیں کہ خود جناح صاحب کے حکم پر بریگیڈئیر ایوب خان کا مشرقی پاکستان تبادلہ کر دیا گیا تھا کیونکہ وہ مغربی پاکستان میں سیاسی دلچسپیاں ظاہر کرتے تھے۔ ہم آج بھی سقوط مشرقی پاکستان کاذ مہ دار غدار بنگالیوں کو ٹھہراتے ہیں مگر قیام پاکستان سے 16 دسمبر1971ء کے دوران ان کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں پر بات کرنے سے گھبراتے ہیں۔ ہم لمحہ بھر میں یہ تو مان لیتے ہیں کہ بلوچستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ غیر ملکی ایجنڈے کاحصہ ہے لیکن کبھی یہ سوال نہیں کرتے کہ اکہتر برسوں میں حکومتوں نے سردار اور سردار زادے پال پروگراموں کو ہی کیوں اولیت دی ایسے اقدامات کیوں نہ کئے گئے جن سے عام بلوچ کی زندگی بہتر ہوتی۔ کیاہم میں سے کسی نے کبھی لالہ غلام محمد بلوچ اور حبیب جالب بلوچ جیسے ترقی پسند عوام دوست رہنمائوں کے قتل پر سوال اٹھایا؟ مکرر عرض ہے تاریخ کی غلط سمت کھڑے رہنا یا پھر خاموش رہنا بھی ظلم ہی ہے۔ ہم سب کو یہ بات بر ملا کہنی لکھنی چاہئے کہ دستور کی پابندی ہر کس و ناکس پر واجب ہے۔ یہ ہماری بد قسمتی ہی ہے کہ روزانہ شام کو نجی چینلوں پرجو سیاپہ پروگرام ہوتے ہیں ان کے میزبان تاریخ اور زمینی حقائق سے ناواقف ہیں۔ عوام کو درپیش مسائل اس کے سوا ہیں۔ سکرین پر نہ ابھرنے والے نمبروں سے دی جانے والی دھمکیوں اور شور شرابے سے حقائق کی پردہ پوشی ممکن ہی نہیں اس لئے بہت ضروری ہے کہ ہر شخص اپنے حصے کا سچ بولے۔

متعلقہ خبریں