Daily Mashriq


لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے کبھی کبھی متفرقات پر بھی کالم باندھنا چاہئے کیونکہ اکثر موضوعات ایسے ہوتے ہیں جو اپنی جانب متوجہ ضرور کرتے ہیں تاہم ان میں اتنی ہی جان ہوتی ہے کہ مختصر تجزیہ ہی کافی ہوتاہے۔ مثلاً آج ایک اخبار نے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کے ایک بیان پر جو سرخی جمائی ہے وہ اپنے اندر ایک جہان معنی لئے ہوئے ہے اور یہ سرخی ایک مشہور لطیفے کی یاد بھی دلاتی نظر آتی ہے‘ تو اب وہ سرخی ملاحظہ کریں جو یوں کہ ’’ اب جو کچھ آئی ایم ایف کرے گا ہم اسے دیکھیں گے‘‘۔ آگے چل کر خبر کے متن میں یہ باتیں بھی شامل ہیں کہ بقول سراج الحق آئی ایم ایف جس طرح دھڑا دھڑ اپنی شرطیں منوا رہا ہے خدشہ ہے کہ کہیں وہ وزارت عظمیٰ نہ مانگ لے وغیرہ وغیرہ۔ جناب سراج الحق کے خیالات سے الطاف حسن قریشی کا یہ شعر یاد آگیا ہے کہ

اندھوں نے مل کے شور مچایا ہے چار سو

تاسن سکے نہ کوئی کسی دیدہ ور کی بات

ان دنوں قومی اسمبلی میں نان ایشوز پر جس قدر ہنگامہ آرائی ہو رہی ہے اس میں حقیقی ایشوز دب سے گئے ہیں اس لئے سراج الحق جیسے دیدہ وروں کو بیانات سے کام لینا پڑ رہا ہے یہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف کے حوالے سے انہوں نے جن خیالات کااظہار کیا ہے اس پر ہم نے ایک مشہور ( گھسا پٹا ہی سہی) لطیفے کاحوالہ دیا جو ایک چڑیا گھر میں دو دوستوں کے درمیان ایک مکالمے کی صورت ہے‘ یعنی شیر کے پنجرے میں اتفاقاً اندر پہنچ جانے کے حوالے سے ایک دوست دوسرے سے اختیار کی جانے والی حکمت عملی کے بارے میں پوچھتا ہے تو اس کا جواب وہی ہوتا ہے جس کی جانب سراج الحق نے توجہ دلائی ہے یعنی ’’ اب جو کچھ آئی ایم ایف کرے گا ہم اسے دیکھیں گے‘‘ البتہ لطیفے والے دوست اورسراج الحق کے مکالموں میں ایک بنیادی فرق ضرور ہے یعنی شیر کے پنجرے میں جا گرنے والے نے یہ نہیں کہا کہ ہم دیکھیں گے کیونکہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہوتی ہی نہیں اور ظاہر ہے موت کے منہ میں جا کر کون دیکھنے کو زندہ رہ سکتاہے البتہ سراج الحق نے فیض احمد فیض کی ایک مشہور زمانہ نظم یاد دلانے کی کوشش کی ہے جس میں فیض نے کہا تھا کہ

ہم دیکھیں گے

لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے

ہم دیکھیں گے۔۔۔۔

سراج الحق صاحب نے دیکھنے کے حوالے سے جو تصویر الفاظ میں بنانے کی کوشش کی ہے وہ آئی ایم ایف کی جانب سے دھڑا دھڑ اپنی شرطیں منوانے کے حوالے سے بالآخر وزارت عظمیٰ مانگنے کے مطابے پر منتج ہوتی دکھائی دیتی ہے۔ گویا مغلیہ بادشاہ محمد شاہ رنگیلا اور نادر شاہ درانی کے مابین پگڑی بدل بھائی والی کیفیت کی جانب اشارہ ہے ۔ اس پر کیا حافظ شیرازی سے رجوع کیاجاسکتا ہے یا نہیں جنہوں نے کہا تھا کہ

ز قسمت ازلی چہرہ سیاہ بختاں

بہ شست و شوئی نہ گرد و سفید ایں مثل است

وفاقی وزیر بجلی عمر ایوب نے بڑے پتے کی بات کی ہے‘ انہوں نے سوال اٹھایا ہے کہ کیا بجلی چوری کرنا اور ساتھ روزہ رکھنا جائز ہے؟ خبر پڑھنے کے بعد پہلی بات ہمیں اس پاکستانی فلم کے حوالے سے یاد آئی جس میں ایک چور شاہی محل میں گھسنے کی جرأت کرکے چوری کرتا ہے لیکن جیسے ہی واپسی کا ارادہ کرتا ہے کہ فجر کی اذان سن کر چوری کا مال وہیں رکھ دیتا ہے اور نماز ادا کرنے کے لئے نیت باندھ لیتا ہے‘ اتنے میں شہزادی بھی جاگ جاتی ہے وہ ایک اجنبی کو اپنے کمرہ عروسی کی بالکنی میں نماز پڑھتے دیکھتی ہے تو نماز ختم ہونے کے بعد پوچھتی ہے ‘ چوری بھی کرتے ہو اور نماز بھی پڑھتے ہو؟ جواب میں چور کہتا ہے چوری میرا پیشہ ہے اور نماز میری فرض۔ یہ کہہ کر چور تو چلا جاتا ہے مگر چوری شدہ سامان کے ساتھ شہزادی کا دل بھی چوری کرلیتا ہے۔ اب یہ کہنا تو ضروری نہیں کہ جو لوگ بجلی چوری کرتے ہیں اور نماز ادا اور روزے بھی رکھتے ہیں وہ کسی کادل بھی ساتھ ہی لے جاتے ہیں کیونکہ جن کادل چوری ہونے کا خدشہ ہوسکتا ہے وہ خود بڑے ’’سنگدل‘‘ ہیں اور ہر ماہ دو ماہ بعد بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرکے بجلی چوروں کو مجبورکرتے ہیں کہ چونکہ ان کی حیثیت بجلی کے بڑھتے ہوئے بلوں کی ادائیگی کی نہیں ہے اس لئے اکثریت تو بے چارے بلا چوں و چرا کسی نہ کسی طور پر پیٹ پر پتھر پہ پتھر باندھ کر بل ادا کر ہی لیتے ہیں مگر جو سر فروش فلم کی طرح کے ’’ شاہی چور‘‘ ہوتے ہیں وہ بجلی چوری بھی کرلیتے ہیں کہ یہ ان کااگرچہ پیشہ تو نہیں بلکہ ’’ مجبوری‘‘ ہوتی ہے‘ البتہ فرض نمازیں اور روزے بھی نہیں چھوڑ سکتے۔ وزیر موصوف اگر اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کے بارے میں بھی کچھ فرما دیتے جو رمضان جیسے مقدس مہینے میں عوام پر مہنگائی مسلط کرتے رہتے ہیں اور پھر اسی منافع سے حج و عمرے (خاص طورپر رمضان کاآخری عشرہ) ادا کرنے حجاز مقدس کارخ کرتے ہیں تو شاید بجلی چوروں کو تھوڑی بہت شرم ضرور آجاتی اور ساتھ ہی اگر وہ بجلی کے بلوں میں بلا وجہ اضافہ کرکے عوام سے ناجائز رقوم لائن لاسز کے نام پر وصول کرتے ہیں اور یہ کام سرکاری سرپرستی میں کئی دہائیوں سے جاری ہے‘ تو بھی عوام کادل خوش ہو جاتا جو نہ صرف بقول وزیر موصوف بجلی چوروں کی چیرہ دستیوں کاشکار ہیں بلکہ بجلی کمپنیوں کے کارندوں کایہ ظلم بھی برداشت کر رہے ہیں تو ہم ضرور کہتے کہ ’’ موگیمبو خوش ہوا‘‘ مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ۔

متعلقہ خبریں