Daily Mashriq

آئی ایم ایف کے زیر سایہ بجٹ کی تیاری

آئی ایم ایف کے زیر سایہ بجٹ کی تیاری

جون کے اوائل میں تحریک انصاف کی حکومت اپنا پہلا باقاعدہ وفاقی بجٹ پیش کرنے جارہی ہے،یہ بجٹ آئی ایم ایف کی براہِ راست نگرانی اور اس کی سفارشات کی روشنی میں تیار کیا جارہا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے لیے گورنر رضا باقر اور ایف بی آر کے چیئرمین کے لیے شبر زیدی کی تقرری اس پیکیج کا حصہ ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ اور چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو جہانزیب خان کو ان کے مناصب سے عین اس وقت فارغ کیے جانے کی خبر آئی جب وہ آئی ایم ایف کی ٹیم سے مذاکرات کی سرگرمیوں میں شریک تھے۔ مشیرِ خزانہ حفیظ شیخ کہتے ہیں کہ امید ہے مارکیٹ ہمارے اقدامات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرے گی۔ انتخابات سے قبل ملکی مسائل کے حل کے لیے جس طرح کے دعوے کیے جارہے تھے اور ماضی کی حکومتوں کے بارے میں جو زبان اور لہجہ تحریک انصاف کی قیادت اختیار کیے ہوئے تھی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ملکی مسائل کا حل اس کے سوا کسی کے پاس نہیں۔ تحریک انصاف حکومت سنبھالنے کے بعد جب میدان میں اتری تو اسے اندازہ ہوا کہ پانی کتنا گہرا ہے۔ آج دس ماہ ہونے کو ہیں، معیشت سمیت کسی بھی شعبے میں حکومت نظر نہیں آرہی۔انتخابی مہم کے دوران عمران خان نے کہا تھا کہ وہ ٹیکس ریونیو کو 4000 ارب سے 8000 ارب یعنی دوگنا کردیں گے۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ یہ کرشمہ کیسے کریں گے؟ تو انہوں نے کہا تھا کہ میں آپ کو کرکے دکھائوں گا۔ موجودہ مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں ٹیکس کا پرانا ہدف بھی پورا نہیں ہو سکا۔ پچھلے 6 ماہ میں 2000 ارب روپے کے بجائے صرف 1750ارب حاصل ہوسکے۔ پاکستان میں اس وقت 45 سے زیادہ قسم کے ٹیکس ہیں جو عوام کو دینا پڑتے ہیں۔ اس میں خیرات، زکوٰۃ اور صدقات شامل نہیں ہیں، مگر اس کے باوجود ٹیکس ملکی خزانے میں جانے کے بجائے ٹیکس اہلکاروں کی جیبوں میں جارہے ہیں۔اس وقت بجٹ سر پر ہے، یہ بجٹ کیسا ہوگا؟ حکومت کی تیاری کیا ہے؟ یہ اہم ترین سوال ہیں۔ اسد عمر کی جگہ اب حفیظ شیخ آئے ہیں جنہوں نے اسد عمر کی ٹیم کے ساتھ کام کرنے سے انکار کردیا ہے، اسی لیے گورنر اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر کے چیئرمین تبدیل ہوئے ہیں۔ یہ دونوں عہدے عملاً اب آئی ایم ایف کے سپرد کردیے گئے ہیں کہ آئی ایم ایف جو بھی پیکیج دے گا اس قرض کی واپسی کا بندوبست اسٹیٹ بینک کے گورنر اور ایف بی آر کے چیئرمین کریں گے۔ ان دو کلیدی عہدوں پر آئی ایم ایف کی پسندیدہ اور قابلِ قبول شخصیات کی نامزدگی کے بعد اب حکومت اور آئی ایم ایف کا معاہدہ بھی ہوجائے گا۔ وفاقی بجٹ عالمی ساہوکار ہی تیار کرے گا اور وزیر خزانہ قومی اسمبلی میں صرف پڑھ کر سنائے گا۔ اسٹیٹ بینک کے نئے گورنر کی تقرری باقاعدہ اس شرط پر ہوئی ہے کہ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر اب حکومت نہیں بلکہ اسٹیٹ بینک طے کرے گا۔ آئی ایم ایف نے روپے کی قدر کو کنٹرول نہ کرنے اور شرح سود بڑھانے کی شرائط رکھی ہیں۔ آئی ایم ایف توانائی اور دوسرے شعبوں پر سبسڈیز ختم کرنے کا مطالبہ کررہا ہے، آئی ایم ایف نے یہ یقین دہانی بھی حاصل کی ہے کہ بجٹ میں ٹیکس محاصل کا ہدف5400 ارب روپے رکھا جائے گا۔ نوازشریف کی حکومت ملک میں4200 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کرسکی تھی۔ حکومت نے ٹیکس وصولیوں کا ہدف 4600 ارب روپے مقرر کرنے کا کہا ہے لیکن آئی ایم ایف ٹیکس وصولیوں کا ہدف 5200 ارب سے 5400 ارب روپے کے درمیان چاہتا ہے۔ یہ شرط تسلیم کرلی گئی ہے۔ تحریک انصاف نے ماضی سے ایک ہزار ارب روپے زیادہ ٹیکس اکٹھا کرنے کا وعدہ کرلیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بجٹ میں ماضی کی نسبت ایک ہزار ارب روپے کے نئے ٹیکس نافذ کیے جائیں گے۔ لیکن یہ اعدادو شمار ایک ہزار ارب تک محدود نہیں رہیں گے، حکومت کو گزشتہ مالی سال کے دوران ساڑھے چار سو ارب روپے کی کمی کا سامنا ہے، لہٰذا مجموعی طور پر بجٹ میں 5700 ارب روپے کے ٹیکس اکٹھے کرنے کی سفارشات دی جائیں گی جس کے نتیجے میں1400 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے جائیں گے جن میں سے روزانہ چھ ارب روپے غیر ملکی قرضوں کی ادائیگی کے لیے خرچ کیے جائیں گے۔ وفاقی بجٹ میں لازمی اخراجات میں دفاعی ضروریات اور غیر ملکی سود کی ادائیگی کے بعد جو کچھ بچے گا وہ ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہوگا۔ حکومت کے 10 ماہ میں ایف بی آر کا ٹیکس شارٹ فال 380 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔ پاکستان میں رجسٹرڈ ٹیکس دہندگان کی تعداد 18لاکھ ہے جو مجموعی آبادی کا 1.4فیصد ہے جنہیں ٹیکس فائلر کہا جاتا ہے۔ حکومت فائلر کی تعداد میں اضافہ کرنے کے بجائے انہی ٹیکس دہندگان کو مزید تنگ کرنے کا ذریعہ بنتی ہے۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ملکی خزانے کو فائلر کے بجائے نان فائلر کی جانب سے اِن ڈائریکٹ ٹیکسوں کی مد میں زیادہ وصولی ہوتی ہے۔تحریک انصاف کی حکومت اپنے دور اقتدار کے شروع میں ہی معاشی تجربہ کرنے جا رہی ہے ،پاکستانی معیشت پر اس تجربے کے کیا اثرات مرتب ہوں یہ آنے والا قت بتائے گاتاہم یہ بات یقینی ہے کہ ملک وقوم کا بہت کچھ داؤ پر لگا ہوا ہے۔

متعلقہ خبریں