Daily Mashriq

حکومت کرنا آسان نہیں

حکومت کرنا آسان نہیں

ایک مدت بعد قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعظم تشریف لائے تو صحافی نے کہا کہ اپوزیشن سخت احتجاج کے موڈ میں ہے تو وزیراعظم نے مسکراتے ہوئے کہا کہ اچھا! جب اپوزیشن احتجا ج کے موڈ میں نہ ہو تو بتانا۔ دوسرا سوال یہ ہوا کہ حکومت کرنا آسان ہے کہ اپوزیشن کا کردارادا کرنا آسان ہے۔ جناب وزیراعظم نے معلوم نہیں کس موڈ میں کہا کہ حکومت کرنا آسان ہے۔ حالانکہ ایسا ہے نہیں۔ البتہ اس لحاظ سے حکومت کرنا آسان ہے کہ حکمران نہ خوف خدا نہ فکر آخرت اور سکھا شاہی ٹائپ حکومت چلانی ہو تو بس اُس میںیہ منجور یہ ا منجور کہنا واقعی آسان ہوتا ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں حکومت کرنا ایک زمانے میں واقعی آسان تھا۔ورنہ دیکھئے ناکہ کس آسانی کے ساتھ لوگ بغیر کسی مینڈیٹ کے عشروں تک حکومتیں کرتے رہے ہیں۔اور جن کو مینڈیٹ بھلا برا ملا ہوتا،اُنہوں نے بھی کبھی عوام کے درد کو اس طرح محسوس نہیں کیا ہے جس طرح اپنوں کا درد محسوس کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے ایوان صدر اور وزیراعظم ہائوس کا ماحول تو جنت نظیر ہوتا ہے اور اونچی فصیلوں والے عمارات میں رہنے والوں کو گلی کوچوں میں رہنے والوں ملوں کارخانوں میں صبح وشام کام کرنے والوں، کھیت کھلیانوں میں گردوغبار اور خاک پھانکنے والوں کا کیا اور کس طرح معلوم ہوسکتا ہے۔ان کی اولاد تو سونے کا چمچہ منہ میں لیکر پروان چڑھنے والے ہوتے ہیں،ان کو کیا معلوم کہ آج کل پاکستان میں دووقت کی روٹی کھانے کے لئے خود کو کھانا پڑ جاتا ہے۔اور یہ کوئی کل اور آج کا مسئلہ نہیں۔ برصغیر پاک وہند کے لوگ تو صدیوں سے ان ہی حالات میں صبح وشام کرتے ہیں۔بابا فریدؒ نے سچ فرمایا تھا

تو کی جانے یار فریدا!!

روٹی بندہ کھا جاندی اے

پاکستان میں ہر دور حکومت میں حکمران بڑے دعووں اور طنطنے کے ساتھ آتے رہے ہیں۔اُن کے لبوں پر ہروقت غریب غریب کا نعرہ ہوتا ہے، لیکن یہ تب تک جب تک وہ اقتدار کے ایوانوں سے باہر ہوتا ہے اور جب کوئی بھی اُس طلسماتی ایوانوں کے اندر داخل ہوجاہے تو اُس پر چھو منتر ہو جاتی ہے کہ وہ پتھر کے بن جاتے ہیںاور پتھر کے سینے میں دل کہاں ہوتا ہے اور پتھر پر غریب عوام کی آہوں،فریادوں اور سسکیوں کا کیا اثر ہوتا ہے،اثر ہوتا تو کیا ستر برسوں میں ان کا کچھ نہ بگڑتا حبیب جالب نے کیا خوب کہا تھا

حال اب تک وہی ہیں غریبوں کے

دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے

ہر بلاول ہے دیس کا مقروض

پائوں ننگے ہیں بے نظیروں کے

پاکستان میں حکمران بننے میں چونکہ مزے ہی مزے ہیں اس لئے تو وزیراعظم نے کہا ہے کہ حکومت کرنا آسان ہے،حالانکہ صحیح معنوں میں بہت مشکل کام ہے، بھلا جس شخص کو اللہ ورسولؐ کا خوف ہو کہ حکمران بننے کے بعد اگر حقوق العباد(روٹی،کپٹرا،مکان اور جان مال آبرو کی حفاظت) کا انتظام نہ کرواسکا تو روز محشر اللہ کو کیا جواب دوںگا وہ کبھی حکمران بننا نہیں چاہے گا۔ ورنہ حضرت عمر فارقؓ نے خلیفہ بننے کے بعد کی ذمہ داریوں کو ادا کرتے کرتے ایک موقع پر کیوں فرمایا کہ کاش! میں ایک تنکا ہوتا اور حکمران نہ ہوتا،کاش! میں ایک پرندہ ہوتا اور ان بھاری ذمہ داریوں سے مبرا ہوتا

شہادت گہ الفت میں قدم رکھنا

لوگ آسان سمجھتے ہیںمسلمان ہونا

لیکن چونکہ پاکستان کے حکمران طبقات میں ایسا احساس ہوتا ہی نہیں اس لئے ہر کوئی ایم پی اے اور ایم این اے بننے کے لئے سردھڑ کی بازی لگاتا ہے کہ دائو لگ گیا تو جتنا خرچ ہوا ہے اس سے کئی گنا زیادہ کمایا جا سکتا ہے اگرچہ عمران خان نے اس روایت کو بدلنے کی سرتوڑ کوشش کی ہے اور کررہا ہے ۔سُنا ہے کہ وزیراعظم غریبوں کا حال بدلنے اور سدھارنے کے لئے دن رات فکر مند رہتے ہیں اور اُن کے معمولات متاثر ہورہے ہیں۔ہوسکتا ہے ایسا ہی ہواور ہم جیسے لوگوں کو یہ بھی یقین ہے کہ گو کہ معاشی حالات گھمبیرہیں، لیکن اس وقت کم از کم جو وسائل موجود ہیں اُن کوکوئی آسانی سے ہڑپ کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا اگر کوئی کرے گا تو اپنی سیٹ عہدے اور سٹیٹس کو دائو پر رکھ کر دے گالیکن ظاہر بات ہے کہ اس چیز سے بھی غریبوں کے پیٹ میں کوئی چیز جانے والی نہیں۔اس کے لئے عمران خان کو ریاست مدینہ کے اُن مقدس والیوں کی حالات زندگی اور حکمرانی بہت غوروفکر اور علم وتدبر کے ساتھ مطالعہ کرنا ہوگا۔حضرت ابوبکرؓصدیق کی طرح اپنے کپڑوں میں دفن ہونے کی وصیت کرنا ہوگی۔ بیت المال سے اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے ایک مزدور کی دیہاڑی کے برابر لینا ہوگا۔ حضرت عمر فاروقؓ کی طرح بھیس بدل کر شہروں میں پھرنا ہوگا۔ رمضان میں غریبوں کو مہنگائی کے طوفان اور سونامی سے بچانے کے لئے کوڑے کا استعمال کرنا ہوگا،ذخیرہ اندوزوں کو سلاخوں کے پیچھے رکھنا ہوگا۔ اور یہ بھی تو ممکن ہے کہ رمضان المبارک کے مہینے میں سارے وزراء،ایم این ایز اورایم پی ایز اپنی تنخواہیں، مراعات، اور ٹی اے ڈی اے اُس غریب عوام کے نام کردیں جن کے ووٹ پر یہ حکمران بنے اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں۔

خدائی اہتمام خشک وتر ہے

خداوند! خدائی درد سر ہے

ولکن بندگی استغفراللہ!یہ درد سر نہیں درد جگر ہے۔

متعلقہ خبریں