Daily Mashriq

اپوزیشن نے آئی ایم ایف معاہدہ معیشت کو 'آؤٹ سورس' کرنے کے مترادف قرار دے دیا

اپوزیشن نے آئی ایم ایف معاہدہ معیشت کو 'آؤٹ سورس' کرنے کے مترادف قرار دے دیا

اسلام آباد: ایک طرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت اس وقت انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ معاہدہ طے کرنے میں مصرف عمل ہے تو دوسری جانب سے اپوزیشن اسے ملکی معیشت آؤٹ سورس پر دینے کے مترادف قرار دے رہی ہے۔

سینیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر تحریک التوا پر بحث کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر میاں رضا ربانی کا کہنا ہے تھا کہ اس وقت آئی ایم ایف پاکستان کے آئندہ مالی سال کے بجٹ پر ہدایات دینے میں مصروف ہے۔

انہوں نے اسلام آباد اور آئی ایم ایف کے درمیان ممکنہ معاہدے کو مغل بادشاہ اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے درمیان ہونے والے معاہدے سے تشبیہ دی جس سے قبل مغل بادشاہ کو شکست ہوئی تھی اور بر صغیر میں سلطنت برطانیہ نے اپنا راج شروع کیا تھا۔

میاں رضا ربانی کا کہنا تھا مغل دور حکومت میں ہونے والے معاہدے میں خزانے کی چابی ایسٹ انڈیا کمپنی کے لوگوں کو دے دی گئی تھی جنہوں نے برِ صغیر کی حکومت لوٹی اور اسے انگلینڈ لے گئے۔

پی پی پی رہنما نے کہا کہ ظاہری طور پر پاکستانی معیشت بھی اسی طرح آئی ایم ایف کے حوالے کی جارہی ہے۔

سابق چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ گزشتہ حکومتیں بھی آئی ایم ایف کے پاس گئیں اور معاہدے کیے لیکن کبھی اس طرح 'بیچنے والا' معاہدہ کبھی نہیں کیا گیا، یہ واضح ہے کہ وزیر خزانہ کو تبدیل کرکے آئی ایم ایف کا بندہ لایا گیا ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک کی تقرری سے متعلق میاں رضا ربانی نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ایک حاضر سروس حکام کو مرکز بینک کا سربراہ مقرر کر دیا گیا، جبکہ چیئرمین ایف بی آر کی تقرری واضح طور پر مفادات سے تصادم کا معاملہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس اطلاعات موجود ہیں کہ حکومت گیس اور بجلی کی قیمتوں میں مزید اضافہ کرے گی، جبکہ یہ بات بھی علم میں آئی ہے کہ آئی ایم ایف حکومت سے 7 سو ارب روپے کے ٹیکس میں چھوٹ واپس لینے کا بھی خواہش مند ہے۔

میاں رضا ربانی نے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ کو پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) کو حکومت کی نجکاری ہونے والے اداروں کی فہرست میں شامل کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا۔

متعلقہ خبریں