Daily Mashriq

بلوچستان میں دہشت گردی اور راجگال میں حملہ

بلوچستان میں دہشت گردی اور راجگال میں حملہ

کوئٹہ کے حساس علاقے چمن روڈ پر قاتلانہ حملے میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جی) بلوچستان پولیس حامد شکیل سمیت تین افراد کے جاں بحق ہونے اور راجگال میں افغانستان سے دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایک سپاہی کی شہادت کاواقعہ ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔خیال رہے کہ گزشتہ کچھ سال میں سیکورٹی اداروں نے امن عامہ کی صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، تاہم شرپسند عناصر تخریبی کارروائیوں کی کوشش میں کامیاب ہو جاتے ہیں، پاک چین اقتصادی راہداری میں بلوچستان کے اہم کردار کی وجہ سے حکام دیگر ممالک کے خفیہ اداروں پر حالات خراب کرنے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔اس حوالے سے صوبائی حکومت متعدد مرتبہ یہ دعویٰ کرچکی ہے کہ بھارت کی خفیہ ایجنسی را، افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے ساتھ مل کر پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔یاد رہے کہ بلوچستان کے ساحلی پورٹ شہر گوادر سے متعدد راستوں کے ذریعے چین سے تجارت بڑھانے کے لیے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر کام جاری ہے۔ جس کے تحت بلوچستان سمیت دیگر صوبوں میں ترقیاتی کام جاری ہیں، اس منصوبے کے حوالے سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ یہ خطے اور خاص طور پر پاکستان میں معاشی تبدیلی کا باعث ہوگا۔حساس نوعیت کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ قبل ازیں بھی اس طرح کے کئی واقعات ہوچکے ہیں۔ صوبہ بلوچستان کا دارالحکومت کوئٹہ ایک عرصے سے امن دشمنوں کے نشانے پر ہے،کوئٹہ میں سیکورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں کی بڑی تعداد دہشتگرد حملوں میں جان گنواچکی ہے ،ڈاکٹروں ، صحافیوں ، اساتذہ سمیت شہر کی سول سوسائٹی کی بڑی تعداد دہشتگردی کا شکار ہوچکی ہے۔قبل ازیں بھی کوئٹہ میں پولیس افسر کو نشانہ بنایاگیا تھا۔ خیبر پختونخوا کے ایک سپوت اعلیٰ پولیس افسر بھی حال ہی میں دہشت گردوں کا نشانہ بنے تھے۔اس طرح کے واقعات کی ذمہ داری عموماً وہ عناصر قبول کرتے ہیں جو اس طرح کے واقعات میںبراہ راست ملوث نہیںہوتے۔ اس واقعے کی ذمہ داری کسی جانب سے قبول ہوتی ہے یا نہیں اس سے قطع نظر بلوچستان میں متحرک راء کی تخریب کاری اور دہشت گردی کے واقعات میںبالواسطہ و بلا واسطہ ملوث ہونا گویا نوشتہ دیوار ہے۔امن دشمنوں کا یہ وار درجنوں قیمتی انسانی جانوں کو تو ضرور لے گیا اور عوام خاص طور پر ہراساں ضرور ہوئے لیکن دشمن قوتیںنہ تو ہمیں دبائو میںلا سکتی ہیں اور نہ ہی مغلوب کرسکتی ہیں۔ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں پے در پے آپریشنز اور خاص طورپر سرحدوں پر باڑ لگا کر حفاظتی اقدامات کو سخت کرنے کے بعد حالات میں بہتری آئی ہے۔ اس کے باوجود اکا دکا واقعات کا امکان رہتا ہے۔ جیسا کہ دہشت گردوں نے پاک افغان سرحد پر راجگال میں ایک نئی چوکی پر موقع پر حملہ کیا جسے پاک فوج نے پوری شدت سے مغلوب کردیا۔ ایسا لگتاہے کہ دہشت گرد خیبرپختونخوا میں شکست کھانے کے بعد بلوچستان میں امن وامان کی بہتر صورتحال خراب کرنے کے درپے ہیں ۔ جس کا بنیادی مقصد اقتصادی راہداری منصوبے کو سبوتاژ کرناہے۔ اس حوالے دورائے نہیں کہ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ ملک کی تقدیر بدلنے کا انقلابی منصوبہ ہے جس کے لئے امن کا قیام او ر استحکام ناگزیر ہے۔ اگر چہ برائی کی کوکھ میں اچھائی تلاش کر نا کوئی ہوشمندی نہیں جوواقعہ رونما ہوچکا ہے اس پر دلی رنج اور افسوس ہونا فطری امر ہے۔ ہمارے تئیں ملک کی اعلیٰ قیادت سے لے کر ایک عام آدمی کا یکساں طورپر دکھی ہونا اور دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ نے کے عزم کے ہر بار اعادے کے بعد ہر گزرتے دن کے ساتھ دہشت گردوں کے دن تھوڑے رہ جانا شروع ہوتے ہیں ۔اگر دیکھاجائے تو خیبرپختونخوا میںایک وقت میں کسی طوراس امر کی امید دکھائی نہیں دے رہی تھی کہ روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے دھماکے اور خود کش حملے بندہوں گے اور دہشت گردوں پر ایک دن ایسا قابو پالیا جائے گا کہ دہشت گردی کی خطرناک لہر کی یادیں ذہنوں سے محو ہونے لگیں گی۔ آج دیکھاجائے تو وہ ناممکن ممکن بن چکا ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایک دہشت گرد کو ڈھونڈ نکال کر کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔بلوچستان میں سرگرم عمل عناصر اور راء کے ساتھ گٹھ جوڑ رکھنے والے سرحد پار سے آنے والے دہشت گردوں اور تخریب کاروں اور ان کے ہمدردوں کے خلاف سخت اقدامات اور ان کے داخلے کے امکانات کو نہ ہونے کے برابر لانے کے لئے بھی خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے۔ خفیہ ایجنسیوں کے ساتھ ساتھ پولیس اور دیگر متعلقہ شعبوںاور اداروں میںبھی فعالیت وفرض شناسی کی مثالیں قائم کرنی ہوں گی ۔یہ ایک مشکل مرحلہ ہے جس میں جب تک ریاست کے سارے وسائل قوت اور عوام سبھی یکساں جانفشانی ذمہ داری اور وطن عزیز کو دہشت گردوں سے پاک کرنے کی نہیں ٹھان لیں گے مطلوبہ نتائج کا ماحول تشنہ طلبی کا شکار رہنے کا خدشہ ہے ۔ مربوط اورمشترکہ کوششیں اورعوام کا بھرپور تعاون کامیابی کا ضامن ہوگا۔

اداریہ