Daily Mashriq


ایم ایم اے کی بحالی

ایم ایم اے کی بحالی

ملک میں مختلف مکتبہ فکر کی نمائندگی کرنے والی چھ سیاسی و مذہبی جماعتوں کی جانب سے متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے)کی بحالی کو ملک میں ایک موثر سیاسی اتحاد کی بحالی کے زمرے میں شمار کیا جاسکتا ہے جس کے ملکی سیاست پر اثرات سے انکار ممکن نہیں۔ایم ایم اے کی بحالی کا اعلان کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کا کہنا تھا کہ دسمبر میں نئے اتحاد کا سربراہی اجلاس منعقد کیا جائے گا۔واضح رہے کہ 2002 میں بنائی گئی متحدہ مجلس عمل کی خیبر پختونخوا میں 2002 سے 2007 تک حکومت رہی جس کے بعد جماعت کے اندر اختلافات پیدا ہونے سے اس کی مقبولیت ختم ہوگئی تھی۔جمعیت علما اسلام (ف) نے 2013 کے انتخابات سے قبل اس کی بحالی کی کوشش کی تھی لیکن جماعت اسلامی کے اس وقت کے امیر سید منور حسن نے اس کا حصہ بننے سے انکار کردیا تھا۔متحدہ مجلس عمل کی بحالی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب ملک میں ایسی دینی جماعتوں کے مختلف عناصر بھی خاصے متحرک ہیں جو متحدہ مجلس عمل کا حصہ نہیں لیکن پہلی مرتبہ وہ سیاسی منظر عام پر آئے ہیں اور ضمنی انتخابات میں ان کی انٹری بھی خاصی گرمجوشی کی رہی۔ این اے 120لاہور اور این اے4 پشاور میں اس طرح کے عناصر نے اپنی الگ الگ حیثیت میں حصہ لے کر ووٹروں کو کامیابی سے متوجہ کیا۔ اس تناظر میںمتحدہ مجلس عمل کو فعال اور موثر بنانے کے لئے ان دینی و سیاسی عناصر سے بھی ہاتھ ملانے کی ضرورت ہوگی لیکن اس میں کامیابی کا امکان شاید کم ہی ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ 2018ء کے انتخابات میں متحدہ مجلس عمل اور محولہ دیگر دینی و سیاسی عناصر انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی اہمیت کے حامل ہوں گے۔ متحدہ مجلس عمل کی بحالی سے خیبر پختونخوا ‘ فاٹا اور بلوچستان میں دینی رجحان کے حامل علاقوں میں ایم ایم اے کے امیدواروں کی کامیابی کے امکانات میں اضافہ ہوگا۔ بنتے ٹوٹتے اتحادوں اور سیاسی جماعتوں کی مشکلات و عدم ہم آہنگی اور مد مقابل آنے اور سیاسی اتار چڑھائو اور بدلتے حالات میں 2018ء تک عملی طور پر کیا صورت ہوگی اس حوالے سے کچھ واضح اندازہ مشکل ہے۔ البتہ ایم ایم اے کی بحالی سے دینی قیادت کے موثر ہونے اور کامیابی کی شرح میں اضافہ کے امکانات واضح ہیں۔ کے پی میں شامل اقتدار سیاسی جماعت کی ایم ایم اے میں شمولیت کے بعد خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی آئندہ مشکلات کا اندازہ کیاجاسکتا ہے لیکن بہر حال انتخابات کے انعقاد اور نتائج کی آمد میں ابھی تقریباً سال کا عرصہ باقی ہے۔ ایم ایم اے کی کامیابی کا دار و مدار اس بات پر بھی ہوگا کہ اس کی قیادت اس کو ایک مرتبہ پھر عوام کے لئے کس حد تک قابل قبول بنانے کے جتن کرتی ہے۔ ایک بات بہر حال یقینی لگتی ہے کہ اب والا ایم ایم اے پہلے والے ایم یم اے سے کم موثر اتحاد ثابت ہوگا۔

عوام کیلئے بلائے جاں اقدامات سے گریز کیا جائے

تحریک لبیک کتنے ہی ارفع مقصد کے لئے دھرنا دے رہی ہو لیکن اس دھرنے سے عوام کو جو مشکلات درپیش ہیں اس کی کسی طور توجیہہ پیش نہیں کی جاسکتی۔ دھرنا کے باعث ہسپتالوں‘ عدالتوں‘ تعلیمی اداروں اور مسافروں کو منزل کے لئے روانگی اور منزل تک پہنچنے میں مشکل ہی نہیں قدم اٹھانا ہی مشکل ہوگیاہے۔ اس طرح کی صورتحال میں غیر ملکی میڈیا کو تین ہزار مولویوں نے اسلام آباد کو یر غمال بنا لیا ہے کے تبصرے پر مجبور ہونا پڑا۔ خود مقامی افراد سوشل میڈیا میں جن مشکلات کا اظہار کر رہے ہیں وہ بھی کوئی اچھی صورت نہیں۔ کیا ان حضرات کے پاس غلطی کا ازالہ کرنے کی کوئی قیمت نہیں سوائے اس کے کہ غلطی کرنے والوں کو لازماً سزا دی جائے اس کے باوجود کہ وہ رجوع بھی کرچکے اور غلطی کی تصحیح بھی کرلی گئی۔ ایسا لگتا ہے کہ وطن عزیز میں ایک منصوبہ بندی کے ساتھ دھرنا کلچر متعارف کرایا جا رہا ہے اور اسے دبائو کی پالیسی کے طور پر اختیار کیا گیا کبھی ڈی چوک پر اور کبھی کہیں اور اس کے باوجود کہ دھرنا کسی ایسے مسئلے کا حل نہیں جس کا وجود ہی نہ ہو بلکہ دھرنا دینے کا مقصد اس کو وجود میں لانا ہوتاہے اور مسئلہ پیدا کرنے کی سعی ہوتی ہے۔ ہماری دینی و سیاسی جماعتوں کو قومی سطح پر اس بات کا فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے کہ کوئی ایسا احتجاجی اقدام نہیں کیا جائے گا جو حکومت کو دبائو میں لانے یا مطالبات منوانے کے لئے اٹھایا جائے اور اس کے اثرات پورے ملک پر پڑیں اور عوام کی معمول کی زندگی و آمد و رفت متاثر ہو۔ سیاسی و دینی قیادت کو اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ عوام کو بھاڑ میں جھونک کر نہ تو حمایت حاصل کی جاسکتی ہے اور نہ اس طرح کی عقیدت کے اظہار سے مالک حقیقی کی خوشنودی حاصل ہوسکتی ہے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ ہمارے سیاسی اور دینی قائدین ایسے اقدامات سے گریز کریں گے جس کا نتیجہ عوام اور ملک کو بھگتنا پڑے۔ اصولی طور پر کسی احتجاج اور دھرنے کی مخالفت نہیں کی جاسکتی اس کے مقام کا اگر عوام کے کم سے کم متاثر ہونے کا جائزہ لے کر تعین کیا جائے تو احتجاج اور دھرنے کا مقصد بھی پورا ہوگا اور عوام کو بھی زیادہ شکایت نہیں ہوگی۔

متعلقہ خبریں