Daily Mashriq

نئے ’’پھواڑے‘‘

نئے ’’پھواڑے‘‘

سندھ میں جہاں چند روز قبل سندھ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس تخلیق ہوا بدھ کے روز اس کے دارالحکومت کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی (مصطفی کمال کی پی ایس پی کو لوگ محبت سے پولیس سروس پاکستان بھی کہتے ہیں) متحد ہوگئے اور یہ ایک روزہ اتحاد اگلے ہی دن ختم بھی ہوگیا کیونکہ اصل فیصلہ تو لندن سے فون کے ذریعے بھائی ہی کرتے ہیں باقی تو سب دکھاوا ہے یہاں۔ ان واقعات کے بیچوں بیچ تحریک انصاف نے سندھ میں ایک جلسہ پھڑکایا تھا۔ گھوڑے سارے میدان میں اتار دئیے گئے ہیں۔ ریس (انتخابات) جب ہوگی جیتے گا کون؟ ابھی خاطر جمع رکھئے اور دیکھئے کہ پردے کے پیچھے سے کیا کیا ظہور ہونے کو ہے۔ اس ملک میں پردے کے پیچھے سے تبدیلی‘ احتساب‘ انقلاب‘ مارشل لاء اور نجانے کیا کیا برآمد ہوا۔ پنجاب میں تحریک انصاف کے بعد ملی مسلم لیگ اور تحریک لبیک یا رسول اللہؐ خراماں خراماں چلتے ہوئے آئے اور اب ’’متحدہ نظام مصطفی محاذ‘‘ کابھی ظہور ہوگیا ’’ الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ انتظامات نے کام کیا‘‘۔ کاش نصرت فتح علی خان زندہ ہوتے اور ہمارے ’’ سائنسدان‘‘ ان سے یہ قوالی ترتیب دلوالیتے۔ فقیر راحموں کا کہنا یہ ہے کہ موزوں قوال مرحوم عزیز میاں ہیں۔ کیا کہیں فیصلہ ہوچکا ہے کہ سیاسی جماعتوں یہ جیسی تیسی بھی ہیں کا بندوبست کرلیا جائے۔ہم ایسے ملک میں رہتے ہیں جہاں مشاہدات و تاریخ سے کوئی بھی سبق سیکھنے کو تیار نہیں۔ لنکا میں سب باون گزے ہوں تو یہی ہوتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ شریف خاندان کی کرپشن ثابت کرنے کے لئے اپنائے گئے طریقہ کار پر وسطی پنجاب کے لوگ اور دوسرے حصوں میں اس کے حامی کامل اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔ سیدھی سی وجہ ہے وہ یہ کہ شریف خاندان پروپیگنڈے کروانے میں چار دہائیوں کی مہارت رکھتا ہے۔ وہ اپنا جھوٹ بھی سچ بنا کر فروخت کرتے ہیں۔ سب سامنے کی باتیں ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس ملک کے اداروں میں سے ایک ادارہ بھی ایسا نہیں جس پر آپ فخر کرتے ہوئے یہ کہہ سکیں کہ اس ادارے کی کارکردگی دستور کے عین مطابق اور امتیازات سے پاک ہے۔ سو ان حالات میں انتقام کا پروپیگنڈہ زیادہ کار گر ثابت ہوتا ہے وجہ یہ ہے کہ ہر ادارہ کسی نہ کسی طرح مخالفوں کے خلاف استعمال ہوچکا۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ نواز شریف کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ انہوں نے ملک کے اقتدار میں رہتے ہوئے اداروں کو متنازعہ بنایا ستم یہ ہے کہ ان اداروں میں سے ایک بھی ایسا نہیں جس نے کسی سازش میں حصہ نہ ڈالا ہو یا اپنے وقت پر اہل اقتدار کے مفادات کا تحفظ نہ کیا ہو۔ اب نتیجہ یہ ہے کہ ایک ایک کرکے سارے معاملات متنازعہ ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک دوسرا پہلو بھی ہے وہ یہ کہ اس ملک میں پچھلے 40 برسوں سے کسی نظرئیے کی بنیاد پر سیاست نہیں ہو رہی ہے۔ شخصیت پرستی ہے‘ اندھی تقلید یا پھر انتہا پسندی یہی مال فروخت ہو رہا ہے اور اس کی بڑے پیماے پر فروخت میں اداروں نے بھی تعاون کیا اس لئے نتائج انہیں بھی بھگتنا ہوں گے۔ سائنسدانوں کو جس بات کی جلدی ہے وہ یہ ہے کہ ان کی گرفت قائم رہے اور لوگ انہیں ہی حقیقی نجات دہندہ سمجھتے رہیں۔ ان کے اس شوق نے اس ملک کو کیا دیا اس پر لمبی چوڑی بحث کی ضرورت نہیں۔ محض یہ کہہ دینے سے کچھ نہیں ہوتا کہ ہمارا کسی معاملے میں کردار نہیں۔ کیونکہ عملی طور پ کردار اور دلچسپیاں سب کو دکھائی دے رہی ہیں۔ اب بھی ایسا صاف دکھائی دے رہا ہے کہ کوئی ہے جسے صف اول کی دستیاب سیاسی قیادت قبول نہیں۔ وہ کون ہے‘ حد ادب اور حالات مانع ہیں۔ اس لئے آپ بھی خود ہی اندازے لگاتے رہیں۔ کیونکہ اب اٹھانے والے معلوم ہوتے ہوئے بھی نامعلوم ہوتے ہیں ۔ عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ایم کیو ایم اور پی ایس پی کا ایک روزہ اتحاد سندھ میں 18جماعتی ایس جی ڈے اے کا قیام ۔ پنجاب میں ملی مسلم لیگ اور تحریک لبیک یا رسول اللہ ؐ کے بعد متحدہ نظام مصطفیٰ محاذان سب کے پیچھے کون ہے ۔ وہی جو جولائی 1977ء سے طاقت و اختیار ات کے بلا شرکت غیرے مالک ہیں ۔ سہولت کے لئے معاہدے کرتے ہیں اور چہرے تبدیل ہوتے رہتے ہیں ۔ سہولت کے لئے تبدیل ہوتے چہروں کا کمال یہ ہے کہ وہ وقت آنے پر مالکوں کے گلے پڑجاتے ہیں ۔ جناب نواز شریف تازہ ترین مثال ہیں ( ویسے ان کی ایک شہرت یہ بھی ہے کہ گلے نہ پڑ سکیں یا گلے پڑنے کی اداکاری کر کے سمجھوتے کا راستہ نکالتے ہیں اور خاموشی سے چل دیتے ہیں ۔یہ سارے کھجل خرابے اصل میں اس ملک میں عوامی جمہوریت کے قیا م کے لئے جدوجہد کو منظم ہونے سے روکنے کی پرمغز سعادتوں کا حصہ ہیں ۔ ایک ایسے وقت میں جب ہر طرف مشکلات ہی مشکلات ہیں اس پر ستم یہ کہ 87ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ بھی تو ان حالات میں تجربوں کا کوئی فائدہ ہوگا ؟ ۔ میری دانست میں تو بالکل نہیں بلکہ معاملات بگڑیں گے ، اس کے باوجود منہ ٹیڑھا کر کے انگریز ی میں اردوبولنے والے نوری نت ہمیں سمجھا رہے ہیں کہ ’’پاک سر زمین شاد باد ‘‘ ۔ بندگان خدا پتہ نہیں کس احمق مشیر نے مشورہ دیا تھا کہ کرپشن کے سیدھے سادھے مقدموں کو پروپیگنڈے کے زور پر ثابت کرنے کی کوشش کرو۔ مشیروں کا مشورہ تھا سو اب بھگت بھی لیجئے ۔ لیکن یہ لکھ لیجئے کہ معاملات اس طور نہیں چلنے والے جیسی خواہش ہیں ۔ یعنی دکھ اور طرح کے ہیں اور دوا اور طرح کی والا معاملہ ہے ۔ سیاست کی معمولی سی سوجھ بوجھ رکھنے والا بھی درست اندازے لگا سکتا ہو تو سائنس کیسی حضور ؟ ۔ حرف آخریہ ہے کہ کیا ایم کیو ایم کے محض چار ارکان قومی اسمبلی کی پیپلز پارٹی والوں سے ملاقاتوں نے کھیل ہاتھ سے نکلنے کا الارم بجا دیا ؟ ۔ جی حضور ایسا ہی ہے اور کوئی ہے جو سیاسی عمل کو سیاسی طریقوں سے آگے بڑھتا ہوا نہیں دیکھ سکتا وہ کون ہے ۔حد ادب اور خوف مانع ہیں ذکر کرنے میں ۔ 

اداریہ