گھیراتوڑنے کی کوشش؟

گھیراتوڑنے کی کوشش؟

مشرق وسطیٰ کی صورت حال خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے ۔عرب سمندر میں گھرا ہو ا جزیرہ اسرائیل اس خطے کے واحد مستحکم ملک کے طور پر باقی رہ گیا ہے ۔اس ’’مضبوط ومستحکم‘‘ ملک کے دائیں بائیں موجود مسلمان ملک خانہ جنگی ،جارحیت اور مسلح شورش کے باعث بدحالی اور بے چینی کی علامت بن کر رہ گئے ہیں ۔ان میں سے اکثر کے سول سٹرکچر اور سماجی تانے بانے ادھڑ چکے ہیں ۔عراق ،لیبیا ،یمن ،مصر ،قطر،لبنان اور اب سعودی عرب عدم استحکام کی طرف لڑھکائے جا رہے ہیں۔سعودی عرب میں طاقت کی کشمکش کو تیز کیا جا رہا ہے ۔ ترکی میں فوجی بغاوت کے ذریعے حکومت اور نظام حکومت کی تبدیلی کی کوشش کی گئی تھی جو ناکام رہی ۔پاکستان میں بھی ترک سٹائل میں طاقت اور دبائو سے ریاست کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش میموگیٹ کے ذریعے کی گئی تھی ۔ 

ا مریکہ ایران کا گھیرائو کرنے کی تیاری کر رہا ہے کیونکہ اس کا خیال ہے یہ ملک اب علاقے میں اسرائیل کی بالادستی کو چیلنج کرنے والا واحد ملک ہے۔ایسے میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ایران کے ایک اہم دورے پر ہیں ۔انہوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ،صدر حسن روحانی ،دفاع اور خارجہ وزراء اور پاسداران انقلاب کے سربراہ سمیت اہم شخصیات سے ملاقاتیں کی ہیں ۔دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے خلاف اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے دینے کے عہد وپیمان کئے ہیں۔ ان ملاقاتوں میںبارڈر مینجمنٹ اورسیکورٹی تعاون بڑھانے سمیت کئی امور پر اتفاق کیا گیا ۔ایسے میں جب مشرق وسطیٰ میںکشیدگی کا آتش فشاں پھٹ پڑا اور ایک نئی صف بندی جاری ہے آرمی چیف کا دورہ ایران اہمیت کا حامل ہے ۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے کچھ عرصہ قبل کشمیر کے حوالے سے دوٹوک بیان دے کر دونوں ملکوں کے تعلقات پر برسوں کی پڑی برف پگھلانے کی ابتدا کی تھی ۔اب تعلقات کا گلیشئر پوری طرح پگھلائو کا شکار ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ نئی عالمی اور علاقائی صف بندی میں ایران اور پاکستان ایک دوسرے کے فطری حلیف ہیں ۔ دونوں ملکوں سے امریکہ کے دو تزویراتی شراکت دار اسرائیل اور بھارت خوف کھاتے ہیں۔پاکستان کی ایٹمی صلاحیت اور ایران کا میزائل پروگرام خار بن کر کھٹک رہے ہیں۔ امریکہ نے کسی ملک کے لئے اس نئی صورت حال میں ’’غیر جانبداری‘‘ کی گنجائش ہی نہیں چھوڑی۔گویا کہ ایک اور سرد جنگ کا ماحول پوری طرح تیار ہے ۔ایسے میں پاکستان اور ایران کا قریب آنااس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ جو صورت حال ایران کو مشرق وسطیٰ میں درپیش ہے اسی کا سامنا پاکستان کو جنوبی ایشیا میںہے جہاں بھارت کے ذریعے پاکستان کا گھیرائو کیا جا رہا ہے ۔افغانستان میں امریکی اور بھارتی اثر رسوخ اس کھیل کا اہم حصہ ہے ۔ایران اور چین دو سرحدیں اس سکیم کو ناکام بنا سکتی ہیں۔ جس طرح ایران پاکستان کے مکمل گھیرائو کی کوشش کو ناکام بنانے کے لئے اہم ہے اسی طرح پاکستان ایران کے گرد پھندا کسنے کی کوشش کو ناکام بنا نے میں اہم کردار کا حامل ہے ۔ یہ بھی طے ہے کہ دونوں اپنی اپنی باریوں کے لئے مسلمان ملکوں کی طویل قطار میں کھڑے کر دئیے گئے ہیں۔یوں دونوں کا تعلق بقائے باہمی کے لئے ناگزیر ہے۔ پاکستان کے گھیرائو کی سکیم میں بھارت تنہا نہیں رہا بلکہ اسرائیل پوری طرح کھل کر اس کی فوجی مدد کو آرہا ہے۔جس کا ثبوت اسرائیلی کی گرائونڈ فورسز کے سربراہ میجر جنرل یعقوو بیرک کا جموں میںبھارتی فوج کی شمالی کمان کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ ہے۔جہاں اسرائیلی جنرل نے بھارتی فوجیوں کو فلسطین میں عوامی مزاحمت سے نمٹنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات اور طریقوں کے بارے میں بریفنگ دی۔یہ بات اب پوری طرح کھل چکی ہے کہ اس وقت اسرائیل اور بھارت کی باہمی دلچسپی کیا ہے؟ ۔ اسرائیل کو فلسطین کی عوامی مزاحمت نے بے چین اور پریشاں حال بنا رکھا ہے تو بھارت کو کشمیری عوام کی جائز اور عالمی طور پر مسلمہ تحریک نے تگنی کا ناچ نچایا ہے ۔ اسرا ئیل اور بھارت اس بات پر متفق ہوچکے ہیں کہ دونوں کو ایک ہی ذہنیت اور ایک ہی سوچ اور فکر کا سامنا ہے ۔دونوں نے جب یہ طے کر لیا کہ فلسطین اور کشمیر میں انہیں ایک ذہن اور ایک جیسے حالات کا سامنا ہے تو دونوں نے اس کے مشترکہ مقابلے ،معلومات اور حکمت عملی کے تبادلے اور تعاون کا فیصلہ کیا ۔اس دوران یہ ہوا کہ امریکہ نے اسرائیل کی طرح بھارت کوا پناسٹریٹجک پارٹنر بنالیا۔ اس سے پہلے امریکہ نے دنیا میں یہ حیثیت صرف اسرائیل کو دی تھی جس کی سلامتی اور تحفظ کا بیڑہ امریکہ نے خود اُٹھا رکھا تھا ۔اب اس جھُولے میں بھارت کو بھی بٹھا لیا گیا اور یوں امریکہ کی چھتری تلے اسرائیل اور بھارت کیا منصوبے بنا رہے ہیںاور امن عالم پر اس کے کیا اثرات ہوں گے ؟ ۔اس کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں ۔بھارت نے کشمیریوں کی تحریک کو بے رحمی سے کچلنے کے تمام طریقے اور گُر اسرائیل سے سیکھے ہیں ۔کنٹرول لائن پر باڑھ سے پیلٹ گن تک تمام سیاہ کاریوں میں اسرائیل بھارت کا اُستاد ہے ۔یہی وجہ ہے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں پاکستان کے مستقل مندوب نے جب پیلٹ گن سے زخمی چہرے کی ایک تصویر فضاء میں لہرائی تو وہ کشمیر کی نہیں بلکہ فلسطینی لڑکی تھی ۔اب اسرائیلی جنرل کا ایک ایک متنازعہ علاقے کا دورہ اور فوجی منصوبوں میں شرکت خطرے کی نئی گھنٹی ہے ۔

اداریہ