Daily Mashriq


کیا پھر کوئی سازش ہے ؟

کیا پھر کوئی سازش ہے ؟

ہمیں ہر چیز میں سازش دکھائی دیتی ہے ۔ ہر زور آوربات میں فوج کا ہاتھ دکھائی دیتا ہے ہر آواز کے پیچھے ایک گردش سنائی دیتی ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ سب واقعی ایسا ہے یا ہمیں واہمہ لاحق ہو چکا ہے ۔ ہم خود اپنے ہی سائے سے بدکتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ پیچھے پیچھے آنے والا یہ سایہ در اصل ہم پر حملہ کرنے کی تیاری میں مصروف ہے ۔ اگر یہ حقیقت ہے تو بہ حیثیت قوم ،ہم انتہائی مشکل کیفیت کا شکار ہیں اور اگر یہ ہمارا وہم ہے تو یہ اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات ہے کیونکہ ایک پوری قوم کا نفسیاتی علاج ہوتا کبھی کسی نے نہیں دیکھا ۔ میں نے اس بات کا تجزیہ کرنے کی بہت کوشش کی ہے کہ سمجھ سکوں اصل حقیقت کیا ہے لیکن کچھ جان نہیںسکی اصل با ت کیا ہے ؟اگر ہم داخلی اور خارجی دشمنوں میں گھرے ہیں تو اس کی وجہ کیا ہے ۔ آخر کونسا رویہ ایسا ہے جس کے باعث ہم محض دشمن بناتے ہیں ، دوست کم ہی ہوا کرتے ہیں ، اور اگر یہ حقیقت نہیں ، محض وہم ہے ، ہم صرف ایسا سمجھ رہے ہیں تو معاملات اور بھی زیادہ خراب ہیں ۔ ہم ایک ایسا کمال ملک ہیں کہ ہمار ا کوئی متفقہ قومی بیانیہ نہیں ہے ۔ ہمارا دفاعی بیانیہ ضرور موجود ہے جسے سیاست دانوں کی حکومتیں اپنالیتی ہیں ، اور اس حد تک اپنا بناتی ہیں کہ یہ بیانیہ بنانے والوں کو محسوس ہونے لگتا ہے کہ وہی اصل سمجھ بوجھ کے مالک ہیں ۔ جو وہ سوچتے ہیں وہی بالکل درست ہے اور اس سے زیادہ اچھی اور درست بات نہ کوئی ہو سکتی ہے ، نہ ہی کوئی سوچ سکتا ہے کہ انہیں یہ بھی یقین ہونے لگتا ہے اس ملک میں سوچ بچار کا کام بھی انہی کا ہے۔ بیانیہ ، پالیسی اور حکومت کی رٹ سب انہی کے دم قدم سے ہے۔ جب وہ ایسا سمجھنے لگتے ہیں‘ اس کا اظہار کرنے لگتے ہیں تو اچانک ہی سیاست دانوںمیں شور مچ جاتا ہے ۔ جمہوریت کو خطرہ ہونے لگتا ہے ۔ ایک ہڑ بونگ مچ جاتی ہے سب کو اپنے اپنے دائرہ اختیار و کار دکھائی اور سجھائی دینے لگتے ہیں ۔ اور کہا جاتا ہے کہ جمہوریت پر شب خون مارنے کی تیاریاں ہورہی ہیں ۔ کوئی یہ نہیں کہتا کہ جمہوریت پر پاکستان میں نہ شب خون مارنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی اسکی تیاری کی ۔ لنگڑے لولے بد عنوان سیاست دان جن کی سوچ سے بھی باس آتی ہے اور جو کبھی اس ملک سے وفاداری کا سوچتے تک نہیں۔ جنہوں نے آج تک پاکستان کے حوالے سے کچھ نہیں سوچا جن کی بد عنوانیاں کھل کر سامنے آجائیں تو بھی وہ ڈھٹائی سے پوچھتے ہیں کہ ’’آخر میں نے کیا کیا ہے‘‘ جن کا کیوں نکالا‘‘ مذاق بن جائے تو بھی وہ محسوس نہیں کرتے۔ اس ملک کے عوام کو احمق سمجھ کر اپنی ہانکے جاتے ہیں۔ انہیں کبھی ایک لمحے کو بھی یہ خیال نہیں آیا کہ وہ اس ملک کے لئے کبھی ایک بیانیہ تک تو سوچ نہیں سکے۔ وہ اپنی جن کامیابیوں کی دعویداری سے اپنی سیاست چمکانے کی کوشش میں مصروف رہے ہیں وہ بھی ایسی ہیں کہ ہر باشعور پاکستانی کف افسوس ملتا ہے۔ ان سے بھلا جمہوریت کی کونسی امیدیں وابستہ ہیں کہ ان کے بغیر جمہوریت پھل پھول نہ سکے گی۔

اس ملک کے لوگ اگر ان سیاستدانوں کی منافقت دیکھ دیکھ کر نفسیاتی مریض بن گئے ہیں تو کون ایسا ہے جس نے کبھی بھی اس سب کا کوئی علاج سوچنے کی کوشش ہی کی ہو۔ اگر آج اس ملک کے لوگ اس کیفیت کا شکار ہیں کہ انہیں ہر کوئی دشمن محسوس ہوتا ہے یا انہیں ہر بات میں کوئی سازش دکھائی دیتی ہے تو اس میں ان کا کیا قصور۔ انہوں نے اپنے ملک کے بانی کے ساتھ بھی سازش ہوتے دیکھی اور ان کی وہ بات بھی سنی کہ ’’ میری جیب میں سارے کھوٹے سکے ہیں‘‘ اس ملک کے لوگوں کو اور اس ملک کے نظام کو تو سازش کے چمچ سے ہر لقمہ کھلایاگیا۔ یہ ڈرتے ہیں تو کیا غلط کیا کرتے ہیں۔ انہیں ہر لمحہ‘ ہر قدم پر سازش دکھائی دیتی ہے تو کیا غلط ہے۔ اس قوم نے اپنی پیدائش کے پہلے سال سے آج تک سازش دیکھی ہے‘ منافقت برداشت کی ہے‘ جھوٹ کا ہاتھ تھام کر گزارا کیا ہے اور اس سب کے قصور وار محض سیاستدان کہاں ہیں جس جس کا جتنا بس چلا ہے اس نے مقدور بھر اس میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ اس ملک کے لوگوں کو اگر اپنا سایہ اپنے اوپر حملہ کرتا محسوس ہوتا ہے تو بیچاروں کا کیا قصور۔ ان پر کتنی ہی بار ان کے سایوں نے شب خون مارا ہے۔ وزیر اعظم کو رات کو‘ اس کی خوابگاہ میں بیدار کرکے گرفتار کیا ہے۔ اس قوم نے بہت کچھ دیکھا ہے اور اب بھی یہ جو کچھ دیکھ رہے ہیں اس میں کونسی بھلائی پوشیدہ ہے۔ حال تو یہ ہے کہ جس کادل چاہتا ہے منہ اٹھا کر احتجاج کا بگل بجا دیتا ہے۔ راستے بند کردیتا ہے۔ دھرنا دے دیتا ہے۔ بندشوں کے پار کہیں کوئی جان سے گزر گیا تو کیا اور کسی نے اذیت برداشت کی تو کیا۔ یہ ملک اور اس کا ہر شخص اپنی اپنی کوشش میں مصروف ہے کہ کیسے اپنی منہ زوری سے کسی دوسرے کامنہ توڑ دے میں سوچتی ہوں تو خون کھولنے لگتا ہے۔ سازش سازش کھیلتے اور ڈھونڈتے تو ایک عرصہ ہوگیا یہ تلاش ہی کرلیں کہ کیا پھر کوئی سازش ہے یا پھر آگے بڑھ جائیں اور سمجھدار ہوجائیں اور اب کی بار فیصلہ کرلیں کہ بالغ ہو جائیں گے‘ سمجھدار ہو جائیں گے اور اپنی غلطیوں سے کچھ سیکھ لیں گے۔

متعلقہ خبریں