Daily Mashriq

سعودی عرب میں سیاسی ہلچل کے اثرات اور مقاصد

سعودی عرب میں سیاسی ہلچل کے اثرات اور مقاصد

گزشتہ دنوں سعودی حکومت نے کرپشن کے الزام میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کیں جن سعودی عرب کے کھرب پتی اور دنیا کے ۱۰ بڑے امیروں میں شامل شہزادہ ولید بن طلال سمیت 11 شہزادے، 4 موجودہ اور 38 سابق وزراشامل ہیں۔ان شہزادوں کے اثاثے منجمد کرتے ہوئے انہیں بیرون ملک جانے سے روکنے کی غرض سے انکے نجی طیارے بھی گرائونڈ کر دئیے گئے ہیں۔امریکہ کے مشہور اخبار نیو یا رکر نے لکھا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدد سے سعودی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبد العزیز اور اُنکے طاقت ور بیٹے محمد بن سلمان بن عبد العزیز نے یہ کارروائی کی۔اس واقعے کی مخا لفت اور حمایت کرنے والوں کا خیال ہے کہ کرپشن اور بد عنوانی کے خلاف مہم چلانے اور شہزاووں اورسابق و موجودہ وزراء کو گرفتار کرنے کے پیچھے شہزادہ محمد بن سلمان ہے جنکو اُنکے والدبا دشاہ سلمان بن عبد العزیز نے سال 2015 میں29 سال کی عمر میں وزیر دفاع بنا یا۔سعودی عرب کے با دشاہ اور اُنکے بیٹے دونوں کا یہ خیال ہے کہ ہم سعودی عرب کے قبائلی روایت پسند معاشرے کو ایک جدید روشن خیال اور ترقی پسند معاشرہ بنائیں گیاور ان کے خیال میں یہ سب اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک سعودی عرب کے سیاسی ، معاشی، اقتصادی، رائل کورٹ یعنی سعودی عرب کی عدالتوں اور میڈیا کے اختیارات اُن کے پاس نہ ہوں۔امریکہ کے ایک سابق سفیر چاس ڈبلیو فری مین نے سعودی عرب کی موجودہ صورت حال پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ سعودی بادشاہ اور اُنکے بیٹے کی حالیہ کارروائی پرانے اور فر سودہ نظام کے خلاف بغا وت ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے با دشاہ نے اس قسم کا اقدام کر تے ہوئے سارے اختیا رات اپنے ہاتھ میں لئے۔ شہزادے کاNick Name یعنی عرفMr. Every thing ہے یعنی وہ شہزادہ جس کے پاس بے تحا شا اختیارات ہوں اور وہ سب کچھ کر سکتا ہو۔مزید کہتے ہیں کہ اُنکے والد نے شہزادے کو تمام اختیارات حوالے کئے ۔امریکہ کے سفیر اور خلیج کے سیاسی اور اقتصادی معاملات کے ماہر نے مزید کہا کہ شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیزگزشتہ دو سالوں سے وزیر خارجہ بھی ہے ۔ اور سعودی عرب کے تمام معاملات کو وزیر خارجہ کے طور پر نمٹاتے ہیں۔حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب کے دورے کے مو قع پر تمام انتظامات شہزادے نے کئے تھے۔جہاں تک کھرب پتی شہزادہ ولید کا تعلق ہے تو امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان میں تنائو کئی سالوں سے چلا آرہا ہے۔دسمبر 2015 میں سعودی عرب کے کھرب پتی شہزادہ ولید نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک ٹویٹ کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ تم نہ صرف ری پبلکن پا رٹی بلکہ امریکی عوام کے لئے ذلت کی علامت ہو۔ امریکی انتخابات کے دوران شہزادہ ولید نے ٹرمپ پر زور دیا تھا کہ وہ امریکہ صدارتی الیکشن سے دست بر دار ہوجائے۔ جسکے جواب میں ٹرمپ نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ بے وقوف شہزادے تم والد کے پیسوں سے امریکی سیاست دانوں کو خریدنا چاہتے ہو۔اگر میں منتخب ہوا تو تم ہر گز ایسا نہ کر سکو گے۔اگر ہم حالات اور واقعات کا تجزیہ کریں تو امریکی صدر اور سعودی کھرب پتی شہزادے کے درمیان تلخی پہلے سے چلی آرہی تھی اقتدار میں ٹرمپ نے وہ کر کے دکھا یا جو وہ کرنا چاہتے تھے۔ایک اور اہم بات زیادہ توجہ طلب ہے وہ یہ ہے امریکہ دوسری خلیجی ممالک کی طر ح سعودی عرب کے اسلامی تشخص کو ختم کرنا چاہتا ہے اور اس کو دیگر خلیجی ممالک کی طرح آزاد خیال بنانا چاہتا ہے جس کے لئے سعودی عرب کے موجودہ بادشاہ اور اُنکے طا قت ور بیٹے نے حامی بھرلی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے با دشاہ نے وہ تمام ادارے جن میں عدالتیں بھی شامل ہیں،کا کنٹرل اپنے ہاتھ میں لے لیا تاکہ جدیدیت اور روشن خالی کی آڑ میں اسلامی تشخص ، روایات اور اقدار کو آسانی ختم کرسکیں ۔ سعودی عرب میں امریکہ کی یہ منشا اور مر ضی اُس وقت تک پو ری نہیں ہو سکتی جب تک تمام ادارے جس میں انفا رمیشن ، براڈ کا سٹنگ عدالتیں بادشاہ کے ہاتھ میں نہ ہوں۔میں عالمی مبلغ مولانا طا رق جمیل اور جماعت اسلامی کے مر حوم رہنماء قاضی حسین احمد کی اس بات سے ۱۰۰ فی صد اتفاق کرتا ہوں کہ جب کافر کسی اسلامی ریاست پر وار کرتے ہیں تو سب سے پہلے وہاں ثقافت کو ہدف بنا یا جاتا ہے۔اب بھی ٹرمپ پہلے سعودی عرب کی ثقافت اور کسی حد تک اسلامی روایات کو نشانہ بنائیں گے بعد میں اور بھی اہداف حا صل کرنے کی کوششیں کی جائیں گی۔ جس طرح لیبیائ، عراق، شام میں کی گئیں۔ علاوہ ازیں سعودی عرب جو دنیا میں سب سے زیادہ یعنی ۱۲ ملین بیرل روزانہ کے حساب سے تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔ امریکہ اس کے تیل کی سب سے بڑی کمپنی آرمکو Aramco,s پر قبضہ کرنا چاہتا ہے حال ہی میں ٹرمپ نے سعودی عرب پر زور دیا تھا کہ وہ نیو یا رک کے سٹاک ایکسچینج میں ۵ فی صد حصص خریدے جبکہ گرفتار شہزادہ ولید امریکہ کی راہ میں رکاوٹ تھا۔لہٰذاء کرپشن اور بد عنوانی کی آڑ میں سعودی عرب کے کئی لوگ جیلوں میں ڈالے گئے۔ ابھی تو یہ ایک جھلک ہے ، آگے آگے دیکھئے ، ہوتا ہے کیا؟۔ اس وقت تقریباً ۹۰ لاکھ کے قریب بیرون ممالک میں مقیم پاکستانی وطن عزیز کو ۱۹ ارب ڈالر کا زرمبادلہ بھیج رہے ہیں جن میں ۲۰ لاکھ کے قریب سعودی میں بھی رہائش پذیر ہیں۔ سعودی عرب سے گزشتہ ۷ یا ۸ مہینوں میں ۸۰ ہزار کے لگ بھگ پاکستانی واپس اپنے ملک آگئے ہیں اور یہ سلسلہ بد ستور جا ری ہے۔ اگر سعودی عرب میں حالات خراب ہو گئے تو اسکے بُرے اثرات دوسرے خلیجی ممالک پر بھی پڑیں گے جہاں پر39 لاکھ پاکستانی مقیم ہیں۔

اداریہ