Daily Mashriq


دم توڑتی اقدار

دم توڑتی اقدار

آج کل محبت میں کیوں کمی آرہی ہے بھائی کی بھائی سے ملاقات نہیں ہوتی۔ جسے دیکھو مصروفیت کا راگ الاپ رہا ہے۔ زمانہ بدل چکا ہے سائنس کی بے تحاشہ ترقی نے حضرت انسان کو مشین میں تبدیل کردیا ہے۔ دنیا کے گلوبل ویلج بننے کے جہاں بہت سے فائدے نظر آتے ہیں وہاں نقصان بھی کم نہیں ہیں جہاں ہم نے دوسروں کی اچھی باتیں لی ہیں وہاں بہت سی خراب باتیں بھی ہماری زندگی کا اٹوٹ انگ بن چکی ہیں۔زندگی کے طور طریقے بدل رہے ہیں۔انسان انسان سے دور ہوچکا ہے اچھی اقدار بتدریج دم توڑ رہی ہیں۔خودغرضی کی آندھیوں نے ہمیں کہیں کا نہیں رکھا۔ بہن بھائی ایک دوسرے سے دور ہوچکے ہیں۔ آج کے دور کا جدید انسان اپنے پڑوسی کے حالات سے بے خبر ہے محبت کی کمی کی سب سے بڑی وجہ ہماری نام نہاد ترقی ہے پہلے لوگ آپس میں کس محبت سے ملا کرتے تھے کوئی بیمار ہوجاتا تو اس کی عیادت کے لیے جاتے۔ شادی والا گھر شادی سے ایک ہفتہ پہلے ہی مہمانوں سے بھر جاتا۔ دوست رشتہ دار کام کاج سے فارغ ہوتے ہی شادی والے گھر پہنچ جاتے۔ مزے مزے کے پکوان پکتے ایک دوسرے کو مبارکبادیں دی جاتیں۔پیار بھرا ماحول تھا۔ آج کل تو شادیاں شادی ہالوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہیں ۔جس کے گھر شادی ہے وہ بھی خوش ہے کہ شادی ہال کی فیس دے کر بہت سی الجھنوں سے چھٹکارا مل جاتا ہے۔ مہمان آتے ہیں اور کھانا کھا کر رخصت ہوجاتے ہیں۔ صاحب خانہ بھی ولیمے کے اختتام پر اپنے گھر کی طرف سدھارتے ہیں پہلے چند دن کسی رشتہ دار سے ملاقات نہ ہوتی تو اس کی خیریت اس کے گھر جا کر ضرور دریافت کی جاتی۔ اب جسے دیکھو مصروفیت کا رونا رو رہا ہے جسے دیکھو بھاگ رہا ہے کسی کو سر کھجانے کی فرصت بھی نہیں ہے ۔ 

ہمارا بہت سا وقت ٹی وی کھاجاتا ہے ٹی وی کی ایجاد کے بعد لوگ مصروف ہوگئے۔ دن بھر کا تھکا ہارا باپ گھر پہنچتے ہی ٹی وی کا ریموٹ اپنے ہاتھ میں اٹھا کر ٹی وی کے سامنے براجمان ہوجاتا ہے ۔بیسیوں چینلز ہیں شریک حیا ت اور بیوی بچوں کے ساتھ بات کرنے کا وقت ہی نہیں ہے کھانا کھانے کے دوران بھی نظریں ٹی وی پر ہیںٹاک شوز چل رہے ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بڑی گرمجوشی سے اپنا تبصرہ بھی کررہے ہیں۔ اگر اس دوران کسی نے کوئی بات کی تو چلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ بات تو سننے دو دیکھو حالات حاضرہ پر کتنا اہم تبصرہ ہو رہا ہے۔ اب اس قسم کی صورتحال میں ایک ہی گھر کے مکین ایک دوسرے سے دور نہیں ہوں گے تو کیا ہوگا؟باپ ٹی وی دیکھنے میں مصروف ہے تو بچے اپنا اپنا لیپ ٹاپ گود میں رکھے نیٹ کی وسیع دنیا میں غرق ہیں امی جان نے کھانا ڈال دیا ہے سب کو آوازیں دی جارہی ہیں لیکن کسی کو آواز ہی نہیں آتی۔ سب کے کانوں پر ہینڈ فری لگے ہوئے ہیں۔ اب آخری حربہ یہی رہ جاتا ہے کہ مس کال دی جائے یا ہوا کے دوش پر پیغام بھیجا جائے کیونکہ لیپ ٹاپ پر کام کرتے ہوئے سیل فون سامنے ہی رکھا جاتا ہے تاکہ دنیا سے رابطہ قائم رہے۔ اب رابطے کا واحد ذریعہ سیل فون ہی رہ گیا ہے۔ کسی کی بیماری کا سنا تو سیل فون پر میسج کرکے حال پوچھ لیا اگر بڑا قریبی دوست یا رشتہ دار ہوا تو کال کر لی عام طور پر اس طرح کا مکالمہ ہوتا ہے۔ یار سنا ہے کہ آپ کی والدہ صاحبہ ہسپتال میں ایڈمٹ ہیں اللہ پاک ان کو شفائے کاملہ نصیب کرے ہسپتال اس لیے نہیں آیا کہ آپ کو کیا تکلیف دوں گا اگر میرے لائق کوئی خدمت ہو تو ضرور بتانا۔ دوچار رسمی جملے بول کر جان چھڑا لی جاتی ہے ۔پہلے اگر خاندان کا ایک فرد بھی ہسپتال میں داخل ہوتا تو اس کی خدمت کے لیے قریبی رشتہ داروں کی ایک فوج ظفر موج ہسپتال میں موجودہوتی ڈاکٹرز بھی تنگ آجاتے لیکن یہ سرفروش وارڈ کے باہر چمن میں دریاں بچھا کر بیٹھے رہتے۔ شام کو تو ہسپتال میں ایک میلے کا سا سماں ہوتاپانی کا کولر پڑا ہوا ہے چائے اور قہوے کے دور چل رہے ہیں۔ یہ تو بھلا ہو لوڈ شیڈنگ کا کہ کچھ دیر کے لیے ٹی وی کمپیوٹر بند ہوجاتے ہیں تو گھر کے افراد کو ایک دوسرے کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ اسی طرح ایک مرتبہ لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ کچھ طویل ہوگیا تو لیپ ٹاپ کی بیٹریاں بھی جواب دے گئیں، اب افراد خانہ کے لیے فراغت ہی فراغت تھی۔ میاں بیوی اوربچے ایک ہی کمرے میں بیٹھ کر واپڈا والوں کی شان میں قصیدہ خوانی کررہے تھے( ویسے یہ ہمارا ذاتی خیال ہے کہ اگر واپڈا والوں کی بخشش کی کوئی سبیل نکلی تو اس کی سب سے بڑی وجہ ان کے بارے میں کی گئی غیبت ہی ہوگی)۔ ٹی وی کمپیوٹر تو بیچارے کچھ زیادہ ہی بدنام ہیں۔ یہ ڈیپ فریزر اور فریج بھی تو کسی سے کم نہیں ہیں ان کی وجہ سے بھی پڑوسیوں کے مابین تعلقات میں ایک گہری خلیج حائل ہو رہی ہے۔ پہلے گھر میں کوئی لذیذ ڈش پکتی تھی تو ہمسائے کا حصہ ضرور کیا جاتا تھا جب سے ڈیپ فریزر گھر وں کی زینت بنا ہے اب جو سالن بچ جائے فریزر میں رکھ دیا جاتا ہے۔ خواتین خانہ بھی جب دو چار دنوں کے بچے ہوئے سالن فریزر میں دیکھتی ہیں تو کہتی ہیں کہ آج کچھ نہیں پکے گا پہلے فریج میں پڑے ہوئے سالن تو کھالو ویسے بھی میں نے آج ڈرامے کی بڑی دلچسپ قسط دیکھنی ہے !پہلے اچھے لوگوں کے گھر جب سالن پکتا تو بڑی بوڑھیا ںاس میں پڑوسیوں کا حصہ ضرور نکالتیں اور اگر کوئی کنجوس خاتون کسی کو کچھ نہ بھی دینا چاہتی تو دل میں سوچتی سالن بچ گیا ہے گھر میں پڑا رہا تو خراب ہوجائے گا۔یہ خیال آتے ہی پلیٹ بھرکر پڑوسیوں کی طرف بھجوادیتی۔اسی طرح پڑوسیوں ،رشتہ داروں، دوستوں کے درمیان محبتوں کے سلسلے بڑھتے رہتے !۔

متعلقہ خبریں