Daily Mashriq


افغان تنازعہ‘ ماسکو امن کانفرنس

افغان تنازعہ‘ ماسکو امن کانفرنس

میں افغان امن کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میزبان ملک کے وزیر خارجہ سرگئی لاروف کا کہنا تھا کہ داعش کے بیرونی سرپرست افغانستان کو دہشت گردوں کا گڑھ بنانا چاہتے ہیں۔ ماسکو فورمیٹ کے نام سے منعقد ہونے والی کانفرنس میں پہلی بار پاکستان‘ طالبان اور بھارت کے نمائندے ایک ساتھ شریک ہوئے۔ چین سمیت 12 ملکوں کے وفود اور امریکی مبصر کی شرکت کے علاوہ اہم بات افغان امن کونسل اور طالبان کے وفود کی ملاقات بھی ہے۔ طالبان کے نمائندے کا کہنا تھا کہ ہم افغانستان سے بیرونی افواج کے انخلاء کے بنیادی مطالبہ کے ساتھ دیگر امور پر امریکہ سے براہ راست مذاکرات چاہتے ہیں تاکہ پر امن حل تلاش کیا جاسکے۔ طالبان نے افغانستان سے مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ حکومت غیر قانونی ہے۔ افغانستان میں دیر پا قیام امن کے لئے ماسکو میں منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس میں 12ممالک اور طالبان کے وفود جبکہ امریکہ اور بھارت نے بطور مبصر شرکت کی۔ سفارتی حلقوں میں کانفرنس کے کامیاب انعقاد کو عالمی سیاست میں روس کی نئی حیثیت کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ افغانستان میں قیام امن کے لئے اس کے پڑوسی ممالک کی دلچسپی خطے میں امن و استحکام کے قیام کو یقینی بنانے کی سنجیدہ کوششوں کا حصہ ہے۔ روس سمیت سب کے لئے یہ امر باعث تشویش ہے کہ عراق و شام سے شکست کے بعد پسپا ہوتے داعش کے جنگجو درمیانی ممالک کی سرحدوں کو عبور کرتے ہوئے افغانستان پہنچ گئے۔ روسی وزیر خارجہ نے داعش کے جن بیرونی سر پرستوں کی بات کی ہے ان سے دنیا بخوبی واقف ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کبھی کبھی قاتل ہی ثواب سمیٹتے دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان کی ماسکو کانفرنس میں شرکت افغانستان میں قیام امن اور خطے میں استحکام لانے کی دیرینہ خواہشوں سے عبارت ہے۔ افغانستان کے عوام سے صدیوں کے مذہبی‘ ثقافتی اور جغرافیائی تعلقوں کے پیش نظر پاکستان کے عوام افغان بھائیوں کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد محسوس کرتے ہیں۔ افغان امن کونسل اور طالبان کے نمائندوں کا یکجا ہونا بھی خوش آئند ہے۔ افغان حکومت کے حوالے سے طالبان کا دیرینہ موقف ان کا فہمی حق ہے البتہ اس امر کا مد نظر رکھا جانا از بس ضروری ہے کہ انتخابی عمل کے ذریعے اقتدار میں آنے والی افغان حکومتوں کو بہر طور عوام ہی ووٹ دیتے ہیں۔طالبان کی قیادت جس طرح اپنے سیاسی حقوق اور حکومت سازی کے لئے کردار کو درست سمجھتی ہے اسی طرح اسے افغان عوام کے اس حصے کی رائے کا بھی احترام کرنا چاہئے جو اپنی حکومت کے انتخاب میں ووٹ ڈالتا ہے۔ افغانستان میں قیام امن کی ہر وہ سنجیدہ کوشش لائق تحسین ہے جس سے خانہ جنگی کی سی صورتحال ختم ہو ۔ پڑوسی ممالک میں پھیلے ہوئے مہاجرین کی وطن واپسی کا راستہ ہموار ہونے کے ساتھ ساتھ یہ امید بھی پیدا ہو کہ اس صورت میں افغان سر زمین میں قائم ان غیر ملکی جنگجوئوں کے محفوظ ٹھکانے بھی ختم ہوں گے جو طالبان کے زیر اثر علاقوں سے اپنے ممالک میں کارروائی کرتے ہیں۔ سرد جنگ اور پھر سوویت یونین کے خاتمے کے بعد جنوبی ایشیاء کی صورتحال کے حوالے سے روسی قیادت نے پہلی بار اپنی سیاسی ترجیحات کو ان ممالک کے سامنے رکھا ہے جو افغان تنازعہ سے کسی نہ کسی طرح متاثر ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ افغان تنازعہ کا حل بندوق اور بے رحم نسل کشی سے نہیں نکالا جاسکتا مگر تنازعہ کا حل نکالتے وقت افغان عوام کے جمہوریت پسند حلقوں کی رائے اور مستقبل کو بھی سامنے رکھنا ہوگا۔ زیادہ مناسب یہ ہوتا کہ طالبان کی قیادت اپنی ہم وطن حکومت سے مذاکرات کا راستہ نکالتی۔ بہر طور افغان حکومت کی جگہ امن کونسل کے وفد سے طالبان کی ملاقات بھی خوش آئند ہے۔ افغان تنازعے کے جو اثرات پڑوسی ممالک خصوصاً پاکستان پر مرتب ہوئے ہیں انہیں بھی نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ امید ہے کہ ماسکو میں منعقد ہونے والی افغان امن کانفرنس سے معاملات آگے بڑھیں گے۔ قیام امن اور استحکام کے لئے ایسا پائیدار حل بہر طور تلاش کرلیا جائے گا جس سے افغان عوام کے مختلف الخیال طبقات کے سیاسی‘ معاشی اور ملی حقوق کا تحفظ ممکن ہو اور ایسا تاثر نہ ابھرے کہ کسی ایسے منصوبے کو افغان عوام پر مسلط کیا جا رہا ہے جس سے افغان عوام حکومت سازی کے جمہوری حق سے محروم ہوجائیں گے۔پاکستان کی حکومت ہو یا عوام ہر دو اپنے افغان بھائیوں کے روشن مستقبل کے حوالے سے پر امید ہیں۔ ایک پر امن‘ مستحکم اور ترقی کی طرف پیش قدمی کرتا ہوا افغانستان خطے کے لئے بہت اہم ہے۔ افغان تنازعات کی کوکھ سے پیدا ہونے والے مسائل سے سب سے زیادہ پاکستان متاثر ہوا ہے اس حوالے سے بعض حلقے پاکستان پر بھونڈی الزام تراشی سے رزق چنتے ہوئے اس امر کو نظر انداز کردیتے ہیں کہ اپنے ملکی و سیاسی مفادات کو پیش نظر رکھنا پاکستان کا حق ہے۔ افغانستان میں امن قائم ہوتا ہے تو اس کی سب سے زیادہ خوشی پاکستان کو ہوگی۔ بہر طور یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ افغان تنازعہ کے اندرونی فریقوں میں سے کسی ایک کو بھی نظر انداز نہیں کیاجانا چاہئے۔ امید واثق ہے کہ افغان عوام آج نہیں تو کل طلوع صبح جمہور کی روشنی سے بہرہ مند ہوں گے۔

متعلقہ خبریں