Daily Mashriq


ڈی جی نیب کے حوالے سے قومی اسمبلی میں گرما گرمی

ڈی جی نیب کے حوالے سے قومی اسمبلی میں گرما گرمی

قومی اسمبلی میں جمعہ کے روز اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے خلاف جاری نیب کی تحقیقات کے حوالے سے نیب کے ایک اعلیٰ افسر کے نجی چینلوں کو دیئے گئے انٹر ویوز پر اعتراض کرتے ہوئے حزب اختلاف نے تحریک استحقاق جمع کروادی۔ قبل ازیں اس حوالے سے اپوزیشن اور حکومتی ارکان نے گرما گرم تقاریر سے ماحول کو مزید گرما دیا بجا ہے کہ زیر تفتیش مقدمات کے حوالے سے نیب کے افسر کا میڈیا پر اس طور اظہار خیال نا مناسب ہے مگر بعض عوامی فیصلوں کو لے کر حزب اختلاف کی ایک جماعت نون لیگ کے قائدین پچھلے تقریباً ڈیڑھ سال سے اداروں اور ان کے ذمہ داروں کے خلاف جو خطابات فرما رہے ہیں ان کی اخلاقی حیثیت کیا ہے ؟ کیا یہ حق صرف نون لیگ کو حاصل ہے کہ وہ احتساب کے عمل، سپریم کورٹ اور فوج کے بارے میں اپنے عوامی جلسوں اور بیانات میں ایسے خیالات کا اظہار کرے جن سے ان اداروں کی ساکھ متاثر ہوتی ہو؟ سوال یہ ہے کہ جس نیب کو لیگی قیادت آج سیاسی جماعت قرار دے رہی ہے اس کی تنظیم نو کرتے وقت سابق حکمران جماعت اور اس کی اپوزیشن نے متفقہ فیصلے کیوں نہیں کیئے؟۔وفاقی وزیر اطلاعات کا یہ کہنا بجا طور درست ہے کہ اپوزیشن لیڈر نے قومی اسمبلی میں اپنے ایک حالیہ خطاب کے دوران جس طرح اداروں پر الزامات کی دھول اڑائی وہ کس قاعدے کے تحت درست ہے ۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ نیب کے سربراہ نے اپنے ادارے کے ایک ذمہ دار کے ٹی وی انٹرویوز کا نوٹس لیتے ہوئے انٹر ویوز کی ریکارڈنگ طلب کرلی ہے ۔ یہ امر بھی بجا ہے کہ کرپشن سیاستدانوں کے علاوہ بھی لوگ کرتے ہیں اور احتساب بلا امتیاز ہونا چاہیئے ۔ تفتیشی اداروںکے ذمہ داران کو سیاسی رہنمائوں کی طرح اظہار خیال سے گریز کرنا چاہیئے لیکن یہ بھی تو بتایا جائے کہ اگر تفتیشی اداروں، عدالتی عمل اور نظام انصاف پرحقارت بھر رکیک حملے جاری رہیں گے تو نتیجہ کیا نکلے گا۔ جن سوالات کا جواب الزامات کی زد میں آنے والوں کو متعلقہ فورموں پر دینا چاہیئے ان پر عوامی اجتماعات میں زہر بھری تقاریر کی ضرورت کیوں پیش آجاتی ہے ۔ قابل غور بات یہ ہے کہ نیب میں حکمران جماعت اور پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کے علاوہ متعدد بیوروکریٹس اور دیگر افراد کے خلاف بھی تحقیقات جاری ہیں مگر نون لیگ کی قیادت اٹھتے بیٹھے یہ تاثر دے رہی ہے کہ احتساب صرف اس کا ہورہا ہے ۔نیب کے اعلیٰ افسر کے انٹرویوز کا کوڈ آف کنڈکٹ کی روشنی میں جائز ہ لیا جانا ضروری ہے اسی طرح اس امر کا بھی کہ کن لوگوں کے ایما پر احتساب کے عمل، عدالتی نظام اور اداروں کو متنازعہ بنایا جارہا ہے اور اس طرح کن مقاصد کا حصول پیش نظر ہے۔

غیر معیاری ادویات کی فروخت

91غیر معیاری ادویات کی کھلم کھلا فروخت سے پیداشدہ صورتحال سے متعلقہ اداروں کی چشم پوشی مجرمانہ غفلت ہی قرار پائے گی ۔ 91مختلف ادویات کو پچھلے ماہ پنجاب کی ڈرگ ٹسٹنگ لیبارٹری نے ایک بار پھر غیر معیاری قرار دیا تھا ۔40ادویہ ساز اداروں کی ان ادویات کو پچھلے5برسوں کے دوران کم از کم چھ بار لیبارٹری ٹیسٹ کے دوران انسانی صحت کے لئے مضر قرار دیا گیا اس کے باوجود یہ ادویات ملک بھر میں نہ صرف فروخت ہو رہی ہیں بلکہ معالجین حضرات بھی مریضوں کے لئے لکھے جانے والے نسخوں میں شامل کرتے ہیں ۔ صحت کی وفاقی و صوبائی وزارتوں کے حکام کی اس حساس معاملے پر روایتی خاموشی معنی خیز ہے ۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں معمول کی طبی مشاورت سے زیادہ سیلف میڈیکیشن یا پھر میڈیکل سٹور کے سیل مین کو اپنی تکلیف سے آگاہ کرکے متعلقہ ادویہ لینے کا رواج عام ہے ایسے میںغیر معیاری ادویات کی فروخت جتنی آسان ہے اس پر لمبی چوڑی بحث کی ضرورت نہیں ۔ غیر معیاری ادویہ کیسے کھلم کھلا فروخت ہورہی ہیں اور کیوں متعلقہ حکا م نوٹس نہیں لے رہے یہ نہ سمجھ میں آنے والی بات نہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیاوہ 40ادویہ ساز ادارے جو غیر معیاری ادویات تیار کر کے مارکیٹ میں فروخت کروارہے ہیں طبی وملکی قوانین سے زیادہ طاقتور ہیں ثانیاً یہ کہ آخر کن وجوہات کی بنا پر ہمارے معالجین کی ایک بڑی تعداد اپنے نسخوں میں ان ادویات کو شامل کرتی ہیں ؟۔ اندریں حالات وفاقی اور چاروں صوبوں میں صحت کی وزارتوں کو صورتحال کا کسی تاخیر کے بغیر نوٹس لیتے ہوئے 91غیر معیاری ادویات تیار کرنے اور ملی بھگت سے اس کی فروخت کا فوری طور پر نوٹس لے کر متعدد کمپنیوں اور دیگرافراد کے ساتھ صحت کی وزارتوں سے منسلک ان افراد کے خلاف بھی کارروائی کرنی چاہیئے جو مجرمانہ غفلت کے مرتکب ہورہے ہیں۔

متعلقہ خبریں