Daily Mashriq


ڈیمز فنڈ… چند گزارشات

ڈیمز فنڈ… چند گزارشات

میڈیا پر روزمرہ سیاست اس قدر غالب ہے کہ انسانی اور قومی مسائل کبھی کبھار ہی ابھرتے ہیں اور پھر پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ ایک عرصہ سے تھر کی خشک سالی کا مسئلہ میڈیا میں زیرِ غور ہے ۔ اس پر بیان بازی تو بہت ہوتی ہے لیکن یہ مسئلہ اپنی جگہ جوںکا توں ہے۔ تقریباً ایک سال پہلے اقوام متحدہ نے خبردار کیاتھا کہ سارا پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث 2025ء میںخشک سالی کا شکار ہونے والا ہے۔ تب ان لوگوں کو جن کی رائے سنی جاتی ہے یہ خیال آیا کہ پاکستان میں تو ڈیم بنانے کی طرف توجہ ہی بہت کم دی گئی ہے۔اب کسی کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ پاکستان میں پانی کی کمی ہے اور یہ کمی بحرانی صورت اختیار کرنے والی ہے اور میڈیا پرخشک سالی کی خبروں کے باعث یہ بھی اب کسی سے چھپی ہوئی بات نہیںہے کہ پاکستان میںپانی کی جو کمی نمودار ہو چکی ہے اس کے خشک سالی تک پہنچنے میں محض چھ سات سال باقی ہیں۔ ایک مرد خدا چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے پانی کے بحران کے حوالے سے ایک دلیرانہ پہل کاری کی۔ دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم منصوبے کی تکمیل کے لیے ازخود ایک فنڈ قائم کر دیا۔ پانی کے وسائل کا صحیح استعمال مختلف دریاؤں پر ڈیم بنانا ایک قومی سوچ اور قومی سطح کی منصوبہ بندی کا تقاضا کرتا ہے۔ لیکن دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم ایسے منصوبے تھے جن کے قابل عمل ہونے کی رپورٹیں تیار ہو چکی تھیں اور جن پر کوئی سیاسی تنازع نہیںتھا شاید اسی لیے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ان ڈیمز کی تعمیر کے لیے فنڈ قائم کر دیا کہ اگر حکومتیں وسائل مختص نہیںکرسکتیں تو عوام ازخود چندہ کر کے حکومتوںکو پیش کر دیں۔ یہ چندہ مہم آگے بڑھی تو اس میں وزیر اعظم عمران خان کانام بھی شامل کر دیا گیا اور یہ فنڈ چیف جسٹس آف پاکستان اینڈ پرائم منسٹر آف پاکستان ڈیمز فنڈ کے نام سے موسوم ہو گیا۔

یہ فنڈ 6جولائی کو قائم کیا گیا تھا۔ چار ماہ سے کچھ دن اوپر ہو گئے ہیں۔ ایک معاصر نے خبر دی ہے کہ اس میں ساڑھے سات ارب روپے کے قریب جمع ہوئے ہیں۔ اس میں وہ رقم شامل نہیںجو مختلف اداروں نے اس کے لیے اشتہارات کی ادائیگی پر خرچ کی ہے۔ اس چار ماہ کے دوران شروع شروع میں تو فوج اور دوسرے کئی اداروں نے عطیات کے اعلان کیے اور عطیات دیے‘ ان کی خبریں بھی شائع ہوئیں لیکن رفتہ رفتہ یوں لگتا ہے کہ بات رفت گزشت ہو گئی ۔ خدا کرے یہ محض بدگمانی ہو اور اب بھی عطیات مسلسل آ رہے ہوں لیکن دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم بنانے پر خرچ کا تخمینہ ایک ہزار چار سو پچاس ارب روپے سے زیادہ کا ہے ۔ اگر چندہ مہم پہلے ہی جوش و جذبے کے ساتھ چلتی رہی ہے تو ساڑھے چودہ سو ارب روپے جمع ہونے میں سات سال کے قریب لگ جائیں گے۔ لیکن کیا یہ چندہ مہم اشتہارات کے باوجود اسی جوش و جذبے سے چل رہی ہے اور ہر مہینے اس میں دو ارب سے کچھ کم روپے جمع ہو رہے ہیں۔ اور توقع ہے کہ اسی رفتار سے جمع ہوتے رہیں گے؟ سات سال میں شدید خشک سالی نازل ہو چکی ہوگی۔ اس مہم کو تیز کرنے کی ضرورت سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔

پاکستان کا شمار ان ملکوں میںہوتا ہے جہاں کے لوگ خیر خیرات کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔یہ ڈیم فنڈ جو صدقہ جاریہ ہے اس میں اس قدر کم دلچسپی کی وجوہ کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ لوگ جب کسی نیکی کے کام کے لیے کچھ دیتے ہیں تو انہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ انکا عطیہ کہاں جا رہا ہے۔ ڈیمز فنڈ میں جوعطیہ جاتا ہے اس کے بارے میں عطیہ دینے والے کو معلوم ہونا چاہیے اور اسے تسلیم کیا جانا چاہیے۔ آج کمپیوٹر کے زمانے میںیہ ممکن ہے کہ ہر عطیہ دینے والے کا نام یا ٹیلی فون نمبر کا اندراج ایک ویب سائٹ پر معلوم کیاجا سکے۔ پاکستان میں کہا جاتا ہے کہ چار کروڑ موبائل فون استعمال ہو رہے ہیں۔ چیف جسٹس کے ایک فیصلے کی رو سے موبائل کے صارفین کو ہر سو روپے پر بیس پچیس روپے کی کٹوتی سے نجات مل چکی ہے۔ یہ ایک سو روپے موبائل صارفین ہفتے دس دن میں صرف کر لیتے تھے۔ کیا موبائل صارفین مہینے میںبیس روپے ڈیمز فنڈ کے لیے دے سکتے ہیں؟ اس طرح ایک رقم ہر ماہ ڈیمز فنڈز میں آ سکتی ہے۔ ہر بجلی کے بل پر پی ٹی وی کے لیے 35روپے لائسنس فیس کاٹی جاتی ہے۔ یہ کیسے خرچ ہوتی ہے اس کے بارے میں اخبارات میں بہت کچھ شائع ہوتا رہتا ہے کیا اس 35 روپے میں سے 5روپے ڈیمز فنڈ کے لیے مختص کیے جا سکتے ہیں؟ قومی بچت والے ہر ماہ کروڑوں روپے انعامی بانڈز کے انعامات کی صورت میں تقسیم کرتے ہیں۔ یہ انعام انہیں مفت ملتا ہے۔ کیا انعام حاصل کرنے والوں سے کہاجا سکتا ہے کہ وہ اس کا دس فیصد حصہ ڈیمز فنڈ کے لیے دے دیں۔ ایک عرصہ تک بجلی کے بلوںمیں نیلم جہلم ڈیم سرچارج وصول کیا جاتا رہا ہے۔ اسی طرح ایک زمانے میں بجلی کی ترسیل کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے بلوںمیں ایک سرچارج وصول کیا جاتا رہا ہے۔ کیا ایسا ہی سرچارج دیامر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی تعمیر کے لیے وصول کیاجا سکتا ہے۔ یہ سرچارج بہت معمولی رکھا جا سکتا ہے‘جو بجلی صارفین آسانی سے دے سکیں۔ لیکن صارفین کی تعداد سے ضرب دینے سے ماہانہ رقم قابل قدر ہو سکتی ہے۔ ایسی ہی مزید تجاویز پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ڈیمز فنڈ کا رضاکار یا تنخواہ دار اہل کاروں پر مشتمل ایک مرکزی انتظامی دفتر ہونا چاہیے جو عوام کو وقفے وقفے سے یہ اطلاع مہیا کرتا رہے کہ فنڈ میں کتنے پیسے جمع ہو چکے ہیں ‘ ان میں سے کتنے رضاکارانہ عطیات کی صورت میں آئے ہیں۔ کتنے اہل تجارت کی طرف سے آئے ہیں ‘ کتنے سرکاری ملازمین نے دیے ہیں ‘ کتنے بلدیاتی اداروں سمیت عوامی نمائندوں نے دیے ہیں اور کتنے موبائل فون صارفین نے دیے ہیں ‘ کتنے سرچارج سے وصول ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں