Daily Mashriq


پاکستانی سیاست کے تین حساس موضوعات

پاکستانی سیاست کے تین حساس موضوعات

پی ٹی آئی حکومت کے قیام کے چند ہی دن بعد ان سطور میں اُن تین نازک اور حساس موضوعات پر اس حوالے سے بحث کی تھی کہ پی ٹی آئی گورنمنٹ کے کرتا دھرتااگر ان کے حوالے سے سوچ سمجھ کر کوئی ایسی پالیسی بنائے کہ کوئی رکن اسمبلی وپارٹی اُس کے خلاف بات نہ کرے توحکومت سکون سے رہے گی اور سیاسی مخالفین کو طوفان برپا کرنے کے مواقع کم ہی میسر آئیں گے ۔ 

ان تین موضوعات پر ایک دفعہ پھر آج کے جاری حالات کے تناظر میں مکرر کچھ گزارشات پیش کرنے کی کوشش کروں گا ۔ پاکستان عقیدہ ختم نبوتؐ اور ناموس رسالتؐ حوالے سے سر فہرست ہے ۔ دنیا کے کسی دوسرے مسلمان ممالک میں اس کے حوالے سے کبھی اتنی حساسیت نہیں پائی گئی جتنی یہاں ہے اور اس کی بڑی اور بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کا قیام اور وجود ہی اس عقیدے ونظریہ کا مرہون منت ہے۔ لہٰذا جو کوئی بھی اس حوالے سے کوئی چھیڑخانی کی کوشش کرے گا اُسے پاکستانی عوام کے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستانی مسلمانوں کے لئے عشق رسولؐ زندگی کی سب سے قیمتی متاع اور پونجی ہے ۔ یہ بات پاکستان کے دشمنوں ، مخالفین اور مغرب کو بخوبی معلوم ہے ، اس لئے وہ وقتاً فوقتاً اس حوالے سے ہماری حساسیت ، حمیت اور بیداری وردعمل کو جانچنے کیلئے ہمارے ساتھ چھیڑ چھاڑ جاری رکھتے ہیں ۔ یہ چھیڑ خانی کبھی مغرب میں قرآن کریم کے اوراق مقدسہ جلانے ، کبھی اس کی بے حرمتی ، کبھی حضورپاکؐ کی سیرت پاک پر بے بنیاد و بے دلیل اعتراضات کی صورت میں ہوتی ہے اور کبھی ہمارے اندر سلمان رشدی ، نسرین بنگلہ دیشی، اور عبدالرحمن افغانی یا بعض بلاگرز کی شکل میں نمودار ہوتی ہے اس وقت آسیہ مسیح کا مسئلہ بھی ایک علامت کی صورت ان عناصر کی نمائندگی کے طور پر سامنے آیا ہے۔ جس سے یہ ایک ایسا موضوع بن گیاکہ آسیہ مسیح کی سزا کو عالمی سطح پر بالخصوص مغربی مسیحی دنیا میں ایسے انداز میں مانیٹر کیا گیا کہ گویا دوتہذیبوں کے درمیان تصادم ہے ۔ ویٹی کن کے بڑے پوپ فرانس نے اُس کی رہائی کے لئے بہت الحاح کے ساتھ ایک بڑے اجتماع میں دعا مانگی۔ یہ بات بہت قابل غور ہے کہ آسیہ مسیح کے کتنے ہی ہم مذہب جیلوں اور عدالتوں میں پڑے اور چکر کاٹ رہے ہیں لیکن کسی کو معلوم ہی نہیں ۔ کیا کسی اور ملزم کے لئے مغرب سے ایسی توانا آوازیں اُٹھی ہیں کہ آسیہ کی عدالت میں بریت کی خبر برطانوی وزیراعظم پارلیمنٹ میں بنفس نفیس سنار ہے ہیں اور اراکین پارلیمنٹ وفور جذبات سے کھڑے ہو کر تالیاں بجا رہے ہیں۔ لہٰذا مسلمانان عالم اور بالخصوص پاکستانی مسلمانوں کو بیدار رہنا ہوگا ، لیکن ایک بات یاد رکھنے کی ہے کہ احتجاج، مظاہرے اور جلسے جلوس تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے علم اور دلیل کی بنیاد پر ہوں تو نہ عوام کو تکلیف ہوگی نہ ملک کے اثاثوں کو نقصان ہوگا اور مغرب پر اس کا خاطر خواہ اثر بھی ہوگا ورنہ آپ کو مذہبی جنونی اور دہشت گرد قرار دینے میں تاخیر نہیں ہوگی ۔ اور ہماری ہر حکومت کو یاد رکھنا ہوگا کہ ختم نبوت اور ناموس رسالتؐ پر پاکستان میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔دوسرا نازک موضوع دو قومی نظریہ ہے ۔ پاکستان کے لبرل سیاستدان اسے چھیڑتے رہتے ہیں ۔ یہ اچھی بات نہیں ہے ۔ دوقومی نظریہ کے ساتھ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت بھی وہ موضوع ہے جس پر قوم کوئی کمپرومائز کرنے کے لئے کبھی تیار نہیں ہوگی۔ کیونکہ اس کے لئے بھی قوم نے بڑی قربانیاں دی ہیں ۔ پاک افواج ان دونوں حساس ونازک معاجلات کی فرنٹ لائن نگہبان ہے ، لہٰذا آج کل بیرونی اور اندرونی شرپسند ففتھ جرنیشن وار کے ذریعے دو قومی نظریے اور ایٹمی صلاحیت کی حفاظت پر مامور جذبہ جہاد سے سرشار پاک افواج کے خلاف دریدہ دہنی کی مہم چلائے ہوئیہیں ۔ مسلم لیگ(ن) کے دو حکومتیں ان ہی حساس موضوعات ومعاملات پر صحیح موقف اختیار نہ کرنے کے سبب رخصت ہوئی ہیں ۔

عمران خان کے حوالے سے یہ تصور بھی نہیں کرسکتا کہ وہ ان اہم معاملات پر کبھی آگے پیچھے ہونے کا سوچیں گے لیکن مغرب میں مقبول ہونے اور جمائماخان کی طرف سے وقتاًفوقتاً ٹویٹ کے ذریعے بعض اوقات بعض تبصرے پی ٹی آئی مخالف سیاستدانوں بالخصوص مذہبی سیاستدانوں کو عمران خان کی حکومت پر مغرب پرستی اور یہودی ایجنڈا پر عمل پیرائی کے الزامات لگانے کے مواقع فراہم کرتے ہیں ۔ آسیہ مسیح کا معاملہ پی ٹی آئی حکومت نے برموقع ہینڈل نہیں کیا ۔ اب اگر نظر ثانی اپیل مسترد ہوئی اور آسیہ مسیح عدالت سے بریت کے بعد پاکستان کی ایک آزاد شہری کی حیثیت سے باہر چلی گئی تو مذہب پرستوں بالخصوص سیاسی مذہب پرستوں کی طرف سے الزامات کی بوچھاڑ اور طوفان کے لئے پیشگی منصوبہ بندی کرنا دانشمندانہ اقدام ہوگا۔ عمران خان اس بات کو یاد رکھیں کہ پاکستان میں اگر کوئی پانچ وقت نمازی نہ بھی ہو ، کہیں جمعہ ہی کا نمازی ہو یاکبھی کبھار والا۔ جینز پینٹ پہنتا ہو یا شلوار قمیض ،داڑھی پگڑی والا ہو یا بغیراس کے ، عشق رسولؐ پر مرمٹنے کے لئے تیار ہوتا ہے ،کیونکہ اس کا عقیدہ ہے کہ اگر سرکار کی حرمت پر بھی آواز نہ اُٹھے تو مسلمانوں کی ایسی آبادی کو برباد ہوجانا چاہیئے‘‘۔(امام مالکؒ)۔ اور یہ بات واضح ہے کہ سرکاردوعالمؐ کی محبت ہم گنہگار مسلمانوں کی آخری پونجی ہے اور ہمارے ایمان کا لوازمہ ہے۔

’’فداک ابی واُمی یا رسولؐاللہ۔

متعلقہ خبریں