Daily Mashriq


بلوچستان کی دھندلی تصویر

بلوچستان کی دھندلی تصویر

بلوچستان میں کیا ہورہا ہے ؟بہت عرصے سے اس کا کوئی اندازہ نہیں ہو رہا تھا ۔ظاہر ہے کہ وہاں ایک خوفناک شورش چل رہی تھی اور شورش بھی ایسی کہ جسے بین الاقوامی طاقتوں کی امداد وتعاون حاصل ہے ۔جیسا کہ کسی پرندے پر کوئی شکاری شست باندھے تیار کھڑاہو۔شورش زدہ علاقے کے دو فریق اہم ہوتے ہیں ایک وہ جو لڑرہا ہو اور دوسرا وہ جو لڑنے والے سے لڑ رہا ہو۔ ایک وہ جو امن کو تہ وبالا کرکے اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے کوشاں ہو دوسرا وہ جو جان ومال کی قیمت پر امن وامان کو برقرار کھنے کی کوششوں میں مصروف ہو۔بلوچستان میں مسلح شدت پسند گروہوں کو اپنی داستانیں بیان کرنے کے لئے بین الاقوامی میڈیا اور اداروں کی سہولت حاصل ہے جبکہ اس شورش سے نبرد آزما سب سے اہم قوت فرنٹیئرکور ہے جس کی داستان سننے اور سنانے والا کوئی نہیں۔ غیر ملکی میڈیا کی نامہربانیاں اور سرد مہری تو سمجھ آتی ہے مگر ملکی میڈیا نے بھی از خود ہی اسے نوگو ایریا سمجھ کر دونوں طرف کا موقف بیان کرنے سے گریز کا راستہ اپنا رکھا ہے ۔ایک مدت کے بعد بلوچستان کے حالات کے اہم ترین فریق کی زبانی تازہ ترین حالات کی ایک دھندلی سی تصویر دکھائی دی۔ انگریزی معاصر کے مطابق سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے امور داخلہ کے سامنے بلوچستان کے حالات پر بریفنگ دیتے ہوئے فرنٹیئر کور کے انسپکٹر جنرل میجر جنرل ندیم انجم نے کئی چونکا دینے والے انکشافات کئے ہیں۔ سب سے پہلے تو انہوں نے بلوچستان کے سنگلاخ اور چٹیل پہاڑوں، ساحلوں، ریگزاروں، برف زاروں اور تانبے کی طرح تپتی ہوئی زمین میں گردو پیش سے بے نیاز ایف سی کے جوانوں کو دی جانے والی معمولی تنخواہوں اور مراعات کا مقدمہ لڑا۔ ایک شورش زدہ علاقے میں جہاں محافظت کے کام پر مامور ایک شخص نہ نشانہ چوک جانے اور نہ پلک جھپکنے کا متحمل ہو سکتا ہے مالی ناآسودگی کا شکار ہو حد درجہ قابل افسوس بات ہے۔ اس کے بعد میجر جنرل ندیم انجم نے یہ اہم چونکا دینے والی بات بھی کی کہ دشمن طاقتیں پاکستان میں تشدد بھڑکا کر یہاں یمن اور لیبیا جیسے حالات پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ پہلے بلوچستان کے کچھ مخصوص علاقوں میں یہ حالات پیدا کئے جا رہے تھے اب پورے صوبے کو نشانے پر رکھ لیا گیا ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ اقوام متحدہ بلوچستان میں مداخلت کرکے اسے ایک آزاد ریاست بنا دے۔ بلوچستان عالمی کھیل کا میدان بن گیا ہے۔ جب بلوچستان کے حالات خراب تھے تو صرف پندرہ سو زائرین بلوچستان کا روٹ استعما ل کرتے تھے اب سالانہ ڈیڑھ لاکھ افراد اس روٹ سے گزر تے ہیں۔ عوام تحریک طالبان، بلوچ ری پبلکن آرمی، بلوچستان لبریشن آرمی، بلوچ لبریشن فرنٹ، لشکر بلوچستان اور داعش کو مسترد کر چکے ہیں۔ صرف ایک سال میں تین بلین کا اسلحہ ضبط کیا جا چکا ہے۔ غیر ملکی میڈیا ہالی ووڈ اور بالی ووڈ کی فلموں کے وڈیو کلپس دکھا کر بتاتا ہے کہ یہ بلوچستان میں ہو رہا ہے جبکہ ہمارا میڈیا گدھوں کی کہانیاں سنا رہا ہے۔ بلوچستان میں صرف دھماکے ہی نہیں ہورہے اچھے کام بھی ہو رہے ہیں۔ ایف سی ستتر سکولز چلا رہی ہے جن میں چوبیس ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیںغریب بچوں کیلئے بارہ ہاسٹلز قائم ہیں جبکہ ساٹھ میڈیکل سنٹر بھی قائم ہیں جن میں سالانہ دو لاکھ ساٹھ ہزار مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری طاقت کا راز یہ ہے کہ بلوچستان کے عوام نے اس سازش کو مسترد کر دیا ہے۔ نائن الیون کے بعد جب امریکہ افغانستان میں آکر بیٹھ گیا تھا تو اس نے اپنی معاونت کیلئے نیٹو، ایساف کیساتھ ساتھ بھارت کو قدم جمانے کا بھرپور موقع فراہم کرنے کی حکمت عملی اختیار کی تھی۔ خیال یہی تھا کہ بلوچستان میں شورش کو اس سطح پر لایا جائے گا جہاں افغانستان میں براجمان نیٹو فورسز کو امن وامان اور حالات کو کنٹرول کرنے کے نام پر براہ رست مداخلت کرنا پڑے گی اور یوں ایک مغربی مصنف کے بقول معدنی وسائل سے مالامال ’’موتیوں کی لڑی‘‘ کے اہم ترین حصے میںعالمی کھیل شروع ہوجائے گا۔اس ماحول میں نواب اکبر بگٹی جیسی قد آور سیاسی شخصیت کو دھکیل کر تصادم کا گراف بلند کر دیا گیا ۔ان کے قتل نے جلتی پر تیل کا کام دیا ۔پاکستان کے ریاستی اداروں نے بلوچستان کے حالات کو قابو سے باہر ہونے سے روکنے کی تدبیر اپنائے رکھی۔ عملی طور پر پاکستان کے ریاستی ادارے دنیا بھر کی دیدہ ونادیدہ طاقتوں کے مقابل ایک ہاری ہوئی جنگ لڑ رہے تھے ۔گوادر اس فساد کا اہم مرکز تھا جہاں چین کے تعاون سے ایک بندرگاہ تعمیر ہو رہی تھی ۔بلوچستان کے حالات اس قدر خراب ہو گئے تھے کہ گوادر بندرگاہ پر کام تعطل کا شکار ہو گیا تھا ۔اسی صورت حال کی عکاسی کرتے ہوئے ایشیا ٹائمز نامی اخبار نے لکھا تھا کہ گوادرچین کا گرم آلو بن کر رہ گیا ہے ۔اس مضمون کا خلاصہ یہ تھا کہ خراب حالات کے باعث اور منہ جلنے کے خوف سے چین نے اس آلو کو پھینک دیا ہے۔عالمی طاقتوں کی یہ خوشی تادیر برقرار نہ رہ سکی اور پاکستان کے ریاستی اداروں نے اس صورت حال پر قابوپا لیا۔مزاحمت چونکہ بلوچ علاقوں تک تھی اس لئے اسے کنٹرول کرنا آسان ہوگیا ۔اس کے بعد پشتون علاقوں میں ایک نئے طرز کی بے چینی کا آغاز ہو گیا اور اسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ حالات پورے صوبے کی حد تک خراب کئے جانے کی حکمت عملی اختیار کی گئی ہے۔حالات کا تقاضا ہے کہ بلوچستان جیسے مشکل ترین محاذ پر خدمات انجام دینے والے محافظوں کو ہر قسم کی سہولیات فراہم کی جائیں اور جنرل ندیم انجم کے اس جملے کو پیش نظر رکھا جائے آج وسائل مانگے جارہے ہیں ایسا نہ ہو کہ کل آپ سے جانیں طلب کی جائیں۔

متعلقہ خبریں