Daily Mashriq


اعلیٰ اقدار اور عوامی نمائندوں کی گفتگو

اعلیٰ اقدار اور عوامی نمائندوں کی گفتگو

معاشروں میں اقدار کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے ،ان اقدار کی بدولت ہی کسی معاشرے کی خوبیوں اورخامیوں کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ، مسلم اُمہ کی کل جمع پونجی اعلیٰ اقدار ہی ہیں جس کی وجہ سے پوری دنیا میں ہماری ایک شناخت تھی ،جس پر ہم صدیو ں تک نازاں رہے اور ان اقدار پر عمل پیرا ہو کر مسلمانوں نے دنیا پر سالوں حکمرانی کی، مگر افسوس آج دنیا کے سامنے ہماری پہچان ایک متعصب اور متشدد قوم کی ہے۔اہل مذہب سے لیکر اہل سیاست تک سبھی ایک زبان استعمال کر رہے ہیں ۔ان دوطبقوں کا اس لئے ذکر کیا کہ کسی بھی قوم کی اقدار میں عموماً انہی دوطبقوں کا عمل دخل ہوتا ہے ۔اہل سیاست جنہیں عوام نے اس لئے ووٹ دیئے کہ یہ منتخب ہوکر پارلیمنٹ میں عوام کے مسائل پر گفتگو کرکے ان کے حل کیلئے حتی الامکان کوشش کریں گے اور سماج میں اعلیٰ اقدار کے فروغ کے لئے اہم کردار ادا کریںگے ۔ لیکن قوم کے یہ منتخب نمائندے ایوان میں باہم دست وگریباں ہیں ایک دوسرے کو ایسے ایسے القابات سے پکار رہے ہیں جسے کوئی شریف آدمی سن ہی نہیں سکتا ،ایوان میں بیٹھے ان لوگوں کا تعلق کسی ایک پارٹی سے نہیں ہے ، تمام سیاسی جماعتوں کا ایک جیسا ہی حال ہے ،اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر ایسے پارلیمنٹرین بھی ناشائستہ زبان استعمال کر رہے ہوتے ہیں جنہیں اسی ایوان میں تین سے چار عشرے کا طویل عرصہ ہو چکا ہے اگر بزرجمہر اپنی زبان پرکنٹرول نہیں رکھ سکتے تو نوجوان نسل جو پہلی بار ایوان میں آئی ہے وہ کیسے اپنی زبان پر قابو رکھے گی؟اسی طرح اہل مذہب کا حال بھی اہل سیاست سے مختلف نہیں ہے ۔جب تک ہم اپنی کھوئی ہوئی اقدار پر دوبارہ عمل پیرا نہیں ہوتے ہماری حالت یونہی رہی گی۔ کیونکہ کسی بھی سماج کے لئے ایک نظام اقدار کی ضرورت ہوتی ہے، جس طرح ریاست کے لئے قانون کی۔ قانون خارجی سطح پر ایک قوتِ نافذہ کا تقاضاکرتا ہے اور سیاسیات کا مسلمہ اصول یہ ہے کہ یہ قوت ریاست ہی کے پاس ہوتی ہے۔ سماج کے ہاتھ میں اخلا قی قوت ہوتی ہے جس کا ماخذ اس کا نظام اقدارہے۔ جب کوئی شخص اس نظام سے بغاوت کرتا ہے تو سماج اپنی اس اخلاقی قوت کی مدد سے اسے واپس نظام کے دائرے میں لے آتاہے یا پھر اسے اگل کے پھینک دیتا ہے۔سماج کی اس تشکیل کو ایک مثال سے واضح کیا جا سکتا ہے۔ والدین کا احترام ہماری ایک اہم سماجی قدر ہے۔ اگر کوئی فرد والدین کا احترام نہیں کرتا تو ریاست کے پاس کو ئی ایسا اختیار نہیں ہے کہ وہ اس پر کوئی سزانافذ کردے جیسے چوری یا قتل کی سزا ہو سکتی ہے۔ تاہم جب کوئی فرد والدین کا احترام نہ کرے یا ان کے ساتھ بدتمیزی کا مرتکب ہو تو معاشرہ اس کے خلاف ایک ردِ عمل کا اظہار کرتا ہے۔ ایسے فرد کے بارے میں ایک رائے بنتی ہے جو پھیلتی چلی جاتی ہے۔ یہ رائے بعدازاں ایک بدنامی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اس شہرت کی وجہ سے، ایسا فردتدریجاً ان معاشرتی حقوق سے محروم ہوتا چلا جاتا ہے جس سے وہ بصورتِ دیگر فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ لوگ ایسے فرد کے ساتھ سماجی میل جول سے کتراتے اور اس کے ساتھ کوئی رشتہ قائم کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ماہرینِ نفسیات کا کہنا ہے کہ سماجی اجنبیت سے بڑی کوئی سزا نہیں ہو سکتی۔ایک مضبوط نظامِ اقدار سماج کو بکھرنے سے روکتا ہے۔اسے فکری انتشار اور اخلاقی پراگندگی سے محفوظ رکھتا ہے۔ اقدار معاشرے میں لوگوں کے حقوق و فرائض کا تعین کرتی ہیں اور یوں ایک خود کار سماجی بندوبست وجود میں آتا ہے جو معاشرے کے بہت سے سماجی و معاشی مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔ شادی اور مرگ میں شرکت ہماری ایک اہم سماجی قدر ہے۔ اگر کسی گھر میں موت کا حادثہ پیش آ جائے تو خود کار سماجی نظام حرکت میں آجاتا ہے۔ سب لوگوں کو معلوم ہوتا ہے کہ میت کی تدفین سے لے کر مہمانوں کی تواضع تک، ان کی ذمہ داریاں کیا ہیں۔نظام اقدار ایک تا ر یخی عمل کے نتیجے میں وجود میں آتا ہے۔ کسی خطے میں بسنے والوں کے رسوم و رواج، ان کا مذہب، ان کی روایات اور پھر سماجی ارتقاء مل کر ایک نظام اقدارکو جنم دیتے ہیں۔ یہ نظام اقدار زیادہ تر مقامی اور داخلی عوامل سے وجود میں آتا ہے۔ تاہم دورحاضر میں چونکہ دوسرے معاشروں سے تعامل اور رابطہ ناگزیر ہو چکا ہے، اس لئے خارجی عوامل کو اثر انداز ہونے سے روکا نہیں جا سکتا۔آج اس بات کی شدید ضرورت ہے کہ ہم اپنے نظام اقدار کو زندہ کریں۔ ہم برداشت، رواداری اور باہم احترام کی ان قدروں کا احیا کریں جو ہماری پہچان تھیں۔ ہم مذہبی، سیاسی اختلاف کو سماجی ارتقا کے لئے ضروری سمجھیں اور اسے اپنی سماجی ترقی کے لئے استعمال کریں، تاکہ ہم ایک صحت مند معاشرہ بن سکیں۔نظام اقدارکی حفاظت سماجی اداروں کی ذمہ داری ہے۔ ریاست ان مجرموں کو سزا دے سکتی ہے جو عدم برداشت کے رویے کو جرم میں بدل دیتے ہیں۔ تاہم عدم برداشت بطور کلچر اس وقت ختم ہو گا جب ہم معاشرتی سطح پر برداشت کوبطورقدر مستحکم کریں گے۔ اپوزیشن لیڈر ایوان میں کھڑے ہو کر کہتے ہیں کہ code of conduct کی ضرورت ہے تو سوال ہے کہ کیا یہ ضابطہ اخلاق پہلے سے موجود نہیں ہے ،کیا 71سال یونہی گزار دئیے گئے ہیں ؟ضابطہ اخلاق موجود ہے لیکن ضرورت عمل کی ہے جو ایوان میں موجود نمائندگان نے کرنا ہے اور پھر یہ اقدار دھیر ے دھیرے عوام میں سرایت کر جاتی ہیں،اچھی ہوں یا بری،اور عوام انہی اقدار پر ہی عمل پیرا ہوتے ہیںکیونکہ عوام اپنے بادشاہوں کے طریقے پر ہی چلتے ہیں۔

متعلقہ خبریں