Daily Mashriq

ڈرامہ’میرےپاس تم ہو‘جسےبرا لگے وہ نہ دیکھے

ڈرامہ’میرےپاس تم ہو‘جسےبرا لگے وہ نہ دیکھے

گزشتہ کئی ہفتوں سے مقبولیت حاصل کرنے والے ڈرامے’میرے پاس تم ہو‘کے چند ڈئیلاگ سوشل میڈیا پر زیر بحث بنے ہوئے ہیں، جہاں بہت سے لوگ ڈرامے کی تعریف کررہے ہیں وہیں چند ناقدین نے ڈرامے کے ڈائیلاگز پر سوال بھی اٹھایا ۔

ڈرامے میں اہم کردار اداکرنے والے عدنان صدیقی نے انڈپینڈنٹ اردو کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اب جن کو یہ ڈرامہ برا لگ رہا ہے تو وہ نہ دیکھیں اور اس کے بارے میں جو بھی برا لکھ سکتے ہیں وہ لکھیں، اب جس طرح یہ کردار لکھے گئے ہیں، لوگ انہیں اسی طرح سے لیں گے تو ٹھیک ہے ورنہ دوسری طرح سے لیا تو یہ بات بہت دور تک جائے گی۔

عدنان صدیقی نے اس ڈرامے پر ہونے والی نکتہ چینی اور کڑی تنقید کے بارے میں کہا کہ معاشرے میں ایسے لوگ ہوتے ہی ہوں گے نا کیونکہ جو بھی عکاسی کی جاتی ہے وہ معاشرے کو دیکھ کر ہی کی جاتی ہے، پانچوں انگلیاں برابر نہیں ہوتی۔ ایسی خواتین بھی ہوتی ہیں جو مادہ پرست ہوتی ہیں اور ایسے مرد بھی ہوتے ہیں جو انہیں ورغلاتے ہیں تو اس طرح ہر ایک برابر نہیں ہوتا۔

ہمایوں کوڈرامہ’میرےپاس تم ہو‘کااسکرپٹ پڑھنےمیں کتناعرصہ لگا

 ایک سوال کے جواب میں عدنان صدیقی نے کہا کہ اگر معاشرے نے اسے قبول نہیں کیا ہوتا تو یہ ڈرامہ چل نہ رہا ہوتا، نہ ہی سوشل میڈیا پر موضوعِ گفتگو بنا ہوتا۔ اس سے ظاہر ہے کہ لوگ اسے پسند کر رہے ہیں، یہ ٹوئٹر پر ٹرینڈ بھی کر رہا ہے تو اس کی معاشرے میں قبولیت آخر ہے تو کر رہا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس عوامی پذیرائی پر خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کیونکہ ایک بہت طویل عرصے بعد کوئی پاکستانی ڈرامہ اتنا مقبول ہوا ہے۔

عدنان صدیقی کے مطابق اس ڈرامے میں انہوں نے منفی کردار اس لیے کیا، کیونکہ وہ ایک اداکار ہیں اور وہی کردار کرتے ہیں جو ان کی سمجھ میں آتا ہے۔

متعلقہ خبریں