Daily Mashriq

ہماری پہلی سرحدی چوکی

ہماری پہلی سرحدی چوکی

زندگی میں چھوٹے چھوٹے واقعات نے بڑے بڑے فلسفوں کو سمجھنے کا موقع دیا اورایسے لگا جیسے قدرت نے یہ چھوٹا واقعہ رونما ہی اس لئے کیا ہے کہ ہمیں اس بڑی بات یا فلسفے کی سمجھ آسکے۔اب یہی دیکھ لیں جب گذشتہ ہفتے کے روز سکھوں کے روحانی پیشوا بابا گرو نانک جی کی بسائی گئی بستی کرتارپور کا سفر کیا بہت ساری ذہنی الجھنیں دور ہوگئیں۔ ناں صرف کرتارپو ر کی اس راہداری کے کھلنے کے کچھ راز وں کے جنجال سلجھ گئے بلکہ خطے میں رونما ہونے والی بہت سی تبدیلیوں کے مستقبل کے بارے میں بھی جوابات مل گئے۔

کرتارپورکی یہ راہداری سیالکوٹ سے ہوتے ہوئے ناروال کے سرحدی ضلع کا وہ آخری پاکستانی کونہ ہے جس کی دوسری طرف بھارتی پنجاب یا مشرقی پنجاب کے وہ علاقے ہیں جن کی اکثریت یعنی قریبا ساٹھ فی صد آبادی سکھ مت کے مذہب سے وابستہ ہے۔اگر ہم کرتارپورراہداری کے افتتاح کے موقع پربھارت سے آئے معروف سکھ رہنما نوجوت سنگھ سدھو کے بتائے ہوئے اعداد وشمار پریقین کرلیں تو دنیا میں سکھوں کی کل تعداد چودہ کروڑ ہے جو سب بابا گرونانک جی کے پیروکاراوراب اس راہداری کے کھلنے کے بعد پاکستانی حکومت خصوصا عمران خان کے احسان مند ہیں، کچھ دیگر معلوماتی ذرائع یعنی منبع دنیا میں سکھوں کی تعداد کوپانچ کروڑ سے کم بتاتے ہیں تاہم اس تعداد کے بارے میں کوئی بہت ہی مصدقہ ذریعہ میسر نہ ہونے کی بدولت ہم اس معاملے کو چھوڑدیتے ہیں۔

تاہم ایک بات تو ایسی ہے کہ جسے بالکل نہیں چھوڑا جاسکتا کہ سکھ اس وقت پاکستان اورہندوستان کے بیچ ایک ایسے مقام پر آباد ہیں جوماضی میں دونوں ملکوں کے مابین گرم اورسرد جنگوں کا مرکز رہے ہیں۔ مشرقی یعنی بھارتی پنجاب کا امرتسر، چندی گڑھ، بٹھنڈہ اورکون کون سے علاقے ایسے ہیں جن سے ہم واقف نہیں یہاں پررہنے والے سکھوں کے روحانی گروبابا گرونانک جی جو لاہور سے کوئی پچاس کلومیٹر کی دوری پرتلونڈی میں پیدا ہوئے انہوں نے کرتارپور کو اپنے ہاتھوں سے آبادکیا ،جس کی وجہ سے ان کے پیروکاروں کو شدید محبت اورعقیدت ہے اور وہ سب اپنی زندگی کے کسی حصے میں یہاں ضرورآنا چاہتے ہیں۔ اس مقام سے ان کی انسیت کا اندازہ لگانا ہوتواس کے لئے کرتارپورجانا ضروری ہے جہاں پر سے بھارت کی حدود میں درختوں کے وہ جھنڈاب بھی نظر آتے ہیں جن پردوربینیں لگا کرمشرقی پنجاب کے سکھ کرتارپورکا نظارہ کرتے تھے اوردعائیں مانگا کرتے تھے اوراسی کو وہ اپنی زندگی کی سب سے بڑی سعادتوں میں سے ایک شمار کرتے تھے۔

ہماری کتابوں میں سکھ ہندوستان کے سب سے بڑے مذہب ہندوتوا کے دوست اورپاکستان کے دشمن تھے جنہوں نے ہندوئوں کے ساتھ مل کربٹوارے کے وقت پاکستان ہجرت کرنے والوں کے خون سے ہاتھ رنگے اوریہی وہ دور ہے جس کی یادیں اب تک مسلمانوں کے ذہنوں پر نقش تھیں لیکن آخر کب تک مکار ہندو کی چلتی ،اسلام اورسکھ مت کے پیروکاروں کوآخرکاراحساس ہوہی گیا کہ انہیں ایک دوسرے کے خلاف استعمال کیا گیا ہے اوراس احساس نے مسلمانوں اورسکھوں کو قریب کردیا۔اب کرتارپور کی راہداری کھلنے کے سب سے پہلے فائدے کی بات کی جائے تو وہ پاکستان کے ہندوستان کے شرسے محفوظ رہنے کا ہے کہ اب اپنے ہی اس حصے سے بھارت پاکستان کے خلاف کوئی اقدام آسانی سے نہیں کرپائے گا۔

پاکستان اگر بظاہرمودی سرکارکے پانچ اگست کے کشمیر میں اٹھائے جانے والے اقدام کے خلاف کوئی بڑی کامیابی حاصل کرسکاہے تو وہ کرتارپورکے راستے سکھوں کے دل جیتنے کا عمل ہے جہاں پر اس نے پورے سکھ مذہب کے ماننے والوں کواپنا ابدی دوست بنالیا ہے۔تاہم اس دوستی میں رخنہ نہ پڑے اس پردن رات نظررکھنی ہوگی۔

پاکستان اورہندوستان کے مابین مستقبل میںپانی کے معاملے پرممکنہ جنگوں میں بھارت کا پلڑا اب اتنا بھی بھاری نہیں رہا کیونکہ سکھوں کے دیس پنج آب یعنی پنجاب سے آنے والے پانچوں دریا راوی، ستلج، بیاس، چناب اورجہلم کا پانی روکنا اب اتنا آسان نہیں ہوگا۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان اورسکھ مت کے سچے ماننے والوں کے مابین اعتماد کا رشتہ بننے کے بعد وہ جب پاکستان کا رخ کرینگے توان کی یہ مذہبی یاترائیں ناں صرف بہت بڑی معاشی سرگرمیوں کا باعث بنیں گی بلکہ خود بابا گرونانک جی کا بسایا ہوا کرتارپور، حسن ابدال، ننکانہ صاحب وغیرہ وغیرہ کی یہ چوکیاں پہلے حفاظتی حصارثابت ہونگیں۔ اس لئے میرے ان دوستوں کے خدشات میں شاید کوئی حقیقت نہیں جو کرتارپورکی راہداری کاموازنہ افغانستان کی جانب ہماری پالیسی سے کرتے ہیں۔ افغانستان کے معاملات کچھ اورہیں جہاں پرموجود پاکستان کے بعض دوست ممالک بھارت ہی کے ذریعے اورخود بھارت افغانستان کے ذریعے پاکستان کو تنگ کرتارہتا ہے لیکن قدرت نے بھی کیا زبردست توڑنکالا ہے کہ کرتارپوراوردیگرمقدس مقامات پردنیا بھرسے آنے والے سکھوں کی زبان پرجہاں ایک طرف "واہے گرو دا خالصہ" اور"ست سری اکال" ہے وہی ان کی زبانیں پاکستان کی سیاسی حکومت اورفوج کے زندہ بادکے نعروں سے بھی ترہیں اوریہی ان کے زبانوں کی تری بھارت سرکارکی نیندیں اڑانے کے لئے کافی ہیں۔اتنی بڑی کامیابیوں کے بیچ ایک خوف بھی دامن گیرہے کہ خدانخواستہ ہم اس کامیابی کو کسی غلطی کی وجہ سے کھو نہ دیں اس لئے ہم سب کو اپنے ہرقدم پرنظررکھنی ہوگی۔

متعلقہ خبریں