Daily Mashriq


امریکہ سے تعلقات کی تبدیلی، کتنا حقیقی کتنا مصنوعی

امریکہ سے تعلقات کی تبدیلی، کتنا حقیقی کتنا مصنوعی

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان کا فوجی اور دیگر ضروریات کے لیے امریکا پر انحصار باقی نہیں رہا، اگر ضرورت پڑی تو دیگر ذرائع کو بروئے کار لایا جائے گا۔شاہد خاقان عباسی نے عرب نیوز کو ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر ایک ذریعہ ختم ہو جاتا ہے تو ہمارے پاس کسی دوسرے ذریعے سے رجوع کرنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری فوج کے پاس ہتھیاروں کا بڑا نظام امریکی ہے لیکن ہم نے اس کو جدت دی ہے، ہمارے پاس چینی اور یورپی نظام موجود ہیں، حال ہی میں ہم نے پہلی مرتبہ روسی لڑاکا ہیلی کاپٹرز کو بھی نظام میں شامل کیا ہے۔پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے حوالے سے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم دوٹوک انداز میں کہہ سکتے ہیں کہ ہم نے کسی کو کسی قسم کی پناہ گاہیں فراہم نہیں کیں، آج ہمارا مشترکہ مقصد ہے کہ دہشت گردی کو نیست و نابود کیا جائے اور افغانستان میں امن لایا جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم نہیں سمجھتے کہ پاک-امریکا تعلقات میں بھارت کو جگہ دینے سے کسی معاملے کا حل نکلے گا بالخصوص افغانستان کے حوالے سے جہاں ہم بھارت کا کوئی کردار نہیں دیکھتے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا امریکہ پر انحصار کے حوالے سے بیان اور متبادل کی موجودگی کا عندیہ بظاہر بڑا سنجیدہ اور واضح ہے لیکن اس بیان میں کس قدر وزن اور حقیقت ہے اوراس عزم پر کس حد تک کار فرما رہا جاسکتا ہے اس کا دار و مدار حکمرانوں کے عملی کردار اور پالیسیوں پر ہوگا۔ ایک حلقے کا خیال ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان یہ کھیل اس لئے کھیلا جا رہا ہے تاکہ یہ ثابت کیاجاسکے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی نوعیت تبدیل ہوچکی ہے جس کا مقصد ملک میں امریکہ سے نفرت کرنے والے طبقات کے جذبات کو تسکین فراہم کرنا ہے۔ ہمارے تئیں یہ رائے ایک مفروضہ اور خود ساختہ تھیوری سے اس لئے کم نہیں کہ خطے کے معروضی حالات یکسر تبدیل ہوچکے ہیں، مجموعی صورتحال بدل چکی ہے۔ پاکستان کی ترجیحات اور مفادات کا توازن اس بات کا متقاضی ہے کہ امریکہ پر انحصار کم سے کم کرکے چین اور روس سمیت دنیا کے دیگر ملکوں سے اچھے تعلقات و تجارت کو فروغ دیاجائے، خاص طور پر سی پیک کے ذریعے پاکستان کے راستے دنیا جس طرح ایک دوسرے سے جڑنے جا رہی ہے اس سے پیدا شدہ حالات اور متوقع حالات کی ضروریات اس امر کے متقاضی ہیں کہ پاکستان امریکہ پر انحصار سے نکل آئے۔ امریکہ کی سی پیک کی مخالفت اور اسے ایک متنازعہ علاقے سے گزارنے کے حوالے سے تنقید کا مدعا ہی یہی ہے کہ سی پیک سے امریکہ کے مفادات وابستہ نہیں بلکہ اس سے دنیا میں ایک نیا گروپ وجود میں آئے گا جس سے وابستہ ممالک کے تجارتی تعلقات اور روابط ان ممالک کو ایک ایسا پلیٹ فارم مہیا کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوں گے کہ وہ ایک دوسرے کے ملک کو درپیش ہر قسم کے چیلنجز اور خطرات یہاں تک کہ دفاعی شعبے میں بھی قریبی تعاون کرنے پر مجبور ہوں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ مفادات ہی ہوتے ہیں جو دنیا کے ممالک کو ایک دوسرے کے قریب بھی لاتے ہیں اور ایک دوسرے سے دور بھی کرتے ہیں۔ سوائے بھارت اور افغانستان کے جو پاکستان سے خدا واسطے کا بیر رکھتے ہیں روس کے ساتھ بھی ہمارے تعلقات زیادہ خوشگوار نہ رہے لیکن روس بدلتے عالمی تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے پرانی مخاصمت کو بھولنے کاعندیہ دے رہا ہے جبکہ پاکستان بھی ماضی کی بُعد سے رجوع کی پالیسی اختیار کرتا معلوم ہوتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ وہ زمینی حقائق اور معاملات ہیں جس کے باعث پاکستان کی پالیسیوں میں تبدیلی مصنوعی اور دکھاوے کی نہیں بلکہ حقیقی ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی افغان پالیسی اور پاکستان کے حوالے سے اس کا لب و لہجہ بھی تبدیلی کی جانب اشارہ ہے لیکن ان سارے حقائق کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ دنیا کے ممالک کے درمیان اختلافات بھی پیداہوتے ہیں ان کا حل بھی نکل آتا ہے، کل کے دشمن آج کے دوست بھی بن سکتے ہیں خواہ دل میں کدورتیں ہی کیوں نہ ہوں۔ دنیا کے ممالک کے درمیان جذبات سے نہیں سوچ بچار' مصلحتوں اور مفادات کی بنیاد پر تعلقات استوار ہوتے ہیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے بیان سے کسی طور یہ فرض نہیں کیا جاسکتا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں واقعی عملی طور پر کوئی بڑی تبدیلی آگئی ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان دہائیوں کے تعلقات اور مختلف معاملات پر ایک دوسرے پر انحصار عدم اعتماد اور امریکہ کے ہرجائی پن کے باوجود چلے آرہے ہیں جبکہ امریکہ بھی پاکستان پر مختلف نیٹ ورکس اور عناصر کی پشت پناہی کے الزامات کے ساتھ پاکستان سے تعلقات کو ایک خاص حد سے نیچے لے جانے کا متحمل نہیں ہوسکا ہے۔ بہرحال پاکستان کو اپنی پالیسیاں اپنے قومی مفادات و ضروریات اور معروضی صورتحال اور حقائق سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ سے ہو ، روس سے یا پھر چین سے ، جس ملک سے بھی تعلقات رکھے جائیں ایک خاص حد کی پابندی اور برابری کی بنیاد پر تعلقات رکھنے کی ضرورت ہے۔ بلا وجہ کسی ملک سے بُعد اور کسی خاص ملک سے ضرورت سے زائد توقعات کی وابستگی کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر موجودہ حکومت سمجھتی ہے کہ امریکہ سے تعلقات میں تبدیلی کی ضرورت ہے اور یہی ہمارے قومی مفاد کا تقاضا ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔

متعلقہ خبریں