Daily Mashriq

قابل غور صورتحال

قابل غور صورتحال

شمالی وزیرستان میں ایف سی کی گاڑی پر فائر نگ کرکے تین اہلکاروں کو شہید کرنے اور سات کو زخمی کرنے کاافسوسناک واقعہ، کو ئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کی واردات میں ہزارہ برادری کے پانچ افراد کا قتل اور پاکستان میں 'را 'اور افغان انٹیلی جنس کی دہشت گردی کے بڑے منصوبے کا پکڑا جانا اگرچہ الگ الگ واقعات ہیں لیکن ان کے باہم تعلق اور تانے بانوں کو سمجھنا زیادہ مشکل نہیں۔ سادہ لفظوں میں ایسا لگتاہے کہ ایک مرتبہ پھر طاغوتی قوتیں پاکستان میں حالات کی خرابی کے لئے متحرک ہوگئی ہیں جس کی دیگر وجوہات کے علاوہ ایک بڑی وجہ ملک میں جاری سیاسی انتشار بھی ہے۔ دشمنوں کی سازشیں اپنی جگہ ہمیں اس امر پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ رزمک کو بار بار کی کوششوں سے کلیئر کرنے کے بعد یہ واقعہ کیوں کر ممکن ہوا کہ طاغوتی عناصر ایف سی کی گاڑی پر حملہ کرنے کی جرأت کر بیٹھے، اس قدر سخت سیکورٹی میں وہ کیسے اسلحہ سمیت گھات لگا کر حملہ کرسکے، اس سے اس امر کا شبہ ضرور ہوتا ہے کہ چوری چھپے ان عناصر کا اسلحے کا حصول اور حملہ آوروں کو ایک مقام تک پہنچانے کا امکان بالکل ہی رد نہیں کیا جاسکتا۔ بہرحال جو بھی ہو یہ خطرے کی گھنٹی ہے اور اس خطرے کا مقابلہ ہمیں من حیث القوم کرنا ہے اور اس کے علاوہ اس کاکوئی اور طریقہ نہیں۔ ہمیں اپنے محافظین کو ہر قسم کا تعاون اور اخلاقی حمایت فراہم کرنا ہے۔ خاص طور پر قبائلی بھائیوں کو اپنی اجتماعی ذمہ داری اور انفرادی ذمہ داریوں کو احتیاط اور ہوشیاری سے نبھانا ہے۔ بلوچستان میں ایک مخصوص برادری کو نشانہ بنانے کا مقصد سوائے اس کے کچھ اور نہیں کہ خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو اور خدانخواستہ فرقہ وارانہ تصادم کی صورت پیدا ہو۔ ہماری اور ہر مکتبہ فکر کے افراد کو ٹھنڈے دل سے اس پر غور کرنے اور ان سازشوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ جہاں تک 'را' اور افغان انٹیلی جنس کی دہشت گردی کا بڑا منصوبہ پکڑنے کا سوال ہے چونکہ ہم تک اس قسم کی اطلاعات کبھی کبھار ہی آتی ہیں وگرنہ اس کے معمول ہونے کا یقین ہے۔ جس سرگرمی سے دشمن عناصر سرگرم عمل ہیں ان کے دانت کھٹے کرنے کے لئے ہمارے اداروں کی بھی فعالیت مسلمہ ہے۔ منجملہ امور اور معاملات سے اس امر کااظہار ہوتا ہے کہ دشمن عناصر کو ہمارے داخلی معاملات کے باعث ایک مرتبہ پھر سازشیں کرنے اور دہشت گردی کرنے کی تحریک ملی ہے۔ حب وطن اس امر کا متقاضی ہے کہ قوم اتحاد و اتفاق اور مکمل یگانگت کا مظاہرہ کرے اور باہم معاملات کو اس حد تک نہ لے جائیں کہ اغیار کو ہمت پڑے اور اس کی خفتہ آس جاگ اٹھے۔
احتجاج کی نوبت نہیں آنی چاہئے تھی
پختونخوا اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں کا احتجاج اور حکومت پر تنقید کو معمول کی کاررائی اور سیاست کا حصہ گردانا جاسکتا ہے لیکن خود حکومتی ارکان اگر کسی معاملے پر حزب اختلاف جیسا کردار اختیار کرنے پر مجبور ہو جائیں تو اسے کسی اور زمرے میں شمار کرنا مشکل امر ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ترقیاتی فنڈز کی منصفانہ تقسیم اور قدرتی وسائل کے استعمال اور استفادے کا پہلا حق اسی علاقے کے عوام کو دینے کا مطالبہ سیاست نہیں بلکہ ایسا کرنا عوامی نمائندوں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ اگر بعض حکومتی اراکین بھی ان مطالبات کے حق میں حزب اختلاف کی زبان بولنے لگیں یا پھر ان مطالبات کے حکومتی عناصر کی طرف سے آنے پر حزب اختلاف کے اراکین ان کی تائید و حمایت کریں تو یہ اس امر پر دال ہوگا کہ حکومت واقعتا نا انصافی کی مرتکب ہو رہی ہے۔ ایک جانب صوبے کی حکومت کو مرکزی حکومت سے اسی قسم کی شکایات ہیں جو ٹھوس اور جائز ہیں لیکن اگر خود صوبائی حکومت کاکردار و رویہ اپنے اراکین اور اپنے صوبے کے عوام سے اس قسم کا ہو جائے تو پھر اس کی کوئی توجیہہ ممکن نہیں۔ امید کی جانی چاہئے کہ اس روئیے کی اصلاح کی جائے گی۔ روٹھے ہوئوں کو منایا جائے گا اور ان کے تحفظات دور کئے جائیں گے اور حزب اختلاف کے ارکان کی بھی تسلی و تشفی کرکے ان کو مطمئن کیا جائے گا۔
ہاسٹلوں پر چھاپے احسن اقدام
فقیر آباد' دلہ زاک روڈ اورچارسدہ روڈ پر ہاسٹلوں میں مقیم طالب علموں کی طرف سے شکایات پر ڈپٹی کمشنر کی جانب سے چھاپے کا راست اقدام قابل اطمینا ہے ۔ اس امر کی ضرورت عرصے سے محسوس کی جارہی تھی کہ طالب علموں اور ہاسٹلوں میں مقیم افراد کے استحصال کا نوٹس لیا جائے۔

اداریہ