Daily Mashriq

ن لیگ عام انتخابات کیلئے حکمت عملی

ن لیگ عام انتخابات کیلئے حکمت عملی

اگرچہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے اپنے منصب کا حلف اُٹھانے کے بعد بیان کا مفہوم یہ تھا کہ اصلی وزیراعظم میاں نواز شریف ہیں اور وہ انہی کی پالیسیوں پر عمل پیرا رہیں گے لیکن گزشتہ روز انہوں نے جو بیان دیا ہے کہ امریکہ پر انحصار کے دن گزر گئے اس حوالے سے وہ پاکستان کے مختلف وزیراعظم نظرآئے ' عرب ٹی وی سے انٹرویو کے دوران انہوں نے بہت سی باتیں کیں۔ انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ پاکستان کے دفاعی نظام میں امریکی اسلحہ کا بڑا حصہ ہے تاہم امریکی اسلحہ کے ساتھ ساتھ ہمارے پاس چینی ' یورپی دفاعی نظام بھی ہیں اور حال ہی میں روس کے ہیلی کاپٹر بھی شامل کیے گئے ہیں۔اگر دباؤ آیا تو پاکستان روس کے ذرائع کی طرف بھی رجوع کرے گا۔ ان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی جو حال ہی میں امریکہ کے دورے سے واپس آئے ہیں کہا ہے کہ اگر امریکہ نے دباؤ ڈالا تو چین' ترکی ' ایران اور روس ہمارا ساتھ دیں گے۔ ان بیانات کے بارے میں مزیدکچھ کہنے سے پہلے یہ نشاندہی کرنا ضروری ہے کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے بیانات سے لگتا ہے کہ وہ بنی بنائی سابقہ پالیسی کی بجائے از سرنو خود حالات کا جائزہ لے رہے ہیں اور ن لیگ کی حکومت کو قیادت فراہم کر رہے ہیں۔ چند روز پہلے انہوں نے بیان دیاتھا کہ حکومت کے خلاف کوئی سازش نہیں ہو رہی اور ادارے ایک پیج پر ہیں ۔ ان کا بیان سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم بی بی اور ن لیگ کے عقابوں کے ان بیانات کے یکسر برعکس تھا جو وہ حلقہ این اے 120کے ضمنی انتخاب کی مہم کے دوران اور اس کے بعد دیتے رہے ہیں۔ مریم بی بی ن لیگ کے جس عقابی عنصر کی سربراہی کرتی نظر آتی ہیں اس کے لیے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا بیان ممکن ہے مایوسی کا سبب ہو۔ ممکن ہے یہ صورتحال پارٹی کے نو منتخب صدر میاں نوازشریف کے زیرِ غور بھی ہو یا پھر شاہد خاقان عباسی کا یہ بیان ان کے مشورے سے آیا ہو تاہم اسے نون لیگ کے سٹانس میں تبدیلی شمار کیا جاسکتاہے۔ اس سے بھی پہلے وزیراعظم شاہدخاقان عباسی نے ایک ایسا بیان بھی دیا تھا جس کا مفہوم تھا کہ وہی وزیر اعظم ہیں اور حکومت کی قیادت کر رہے ہیں۔ جہاں تک پاک امریکہ تعلقات کی بات ہے، وزیرخارجہ خواجہ آصف نے وزیر اعظم کو اپنے دورے کے ماحصل کے بارے میںبریف کیا ہو تو کیا ہو ، انہوں نے پارلیمنٹ کو اس بارے میں اعتمادمیں نہیں لیا۔البتہ ایک ٹی وی چینل سے انٹرویو میں انہوں نے کم و بیش وہی باتیں کی ہیں جو وزیر اعظم شاہدخاقان عباسی نے عرب ٹی وی سے انٹرویو میں کی ہیں۔ وزیراعظم عباسی نے جہاں دفاعی سسٹم کے حوالے سے دوسرے مراکز کی طرف رجوع کرنے کی بات کی وہاں یہ بھی کہا ہے کہ پاکستان پر پابندیوں سے خطے کا توازن خراب ہو گا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے پیش کش کی ہے کہ پاکستان میں اگر کہیں حقانی نیٹ ورک ہے تو ہم اس کیخلاف امریکہ کے ساتھ مشترکہ کارروائی کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن ڈکٹیشن نہیں لیں گے۔ وزیر دفاع کی حقانی نیٹ ورک کے خلاف مشترکہ آپریشن کی پیش کش سے یہ خیال ابھرتا ہے کہ پاک امریکہ تعلقات میں مذاکرات کے ذریعے بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔ متوقع مذاکرات کا امکان امریکہ کے وزیر دفاع جیمز میٹس کے اس بیان سے ابھرتا ہے کہ وہ اور ان کے وزیر خارجہ عنقریب پاکستان آئیں گے لیکن جیمز میٹس نے امریکی وزراء کے پاکستان آنے کی بات ایک دھمکی کے ساتھ کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ پاکستان کو افغانستان میں امریکہ کے ساتھ کام کرنے کے لیے ایک اور موقع دینا چاہتی ہے جس کے بعد امریکہ پاکستان کے شدت پسند گروپوں کی مبینہ امداد کے حوالے سے صدر ٹرمپ کے آپشن پر عمل کریگا انہوں نے کہا ہے کہ ہم پاکستانیوں کے ذریعے اور پاکستانیوں کی معاونت کے ساتھ کام کرنے کی سٹریٹیجی کو ایک اور موقع دینا چاہتے ہیں۔اگر ہماری بہترین کوشش ناکام ہو جاتی ہے تو صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو بھی اقدامات ضروری ہوئے ان پر عمل کرنے کو تیار ہیں۔ اس سے یہ مطلب صاف عیاں ہے کہ امریکی وزراء افغانستان میں پاکستان کے تعاون سے سٹریٹیجی کو ایک اور موقع دیناچاہتاہے تو یہ وزراء اس سٹریٹیجی کے تحت پاکستان سے کچھ مطالبات بھی کریں گے۔ یہ مطالبات کیا ہو سکتے ہیں یہ تو امریکی وزراء کے ساتھ مذاکرات میں واضح ہو گا تاہم وزیراعظم اور وزیر خارجہ کے حالیہ بیانات سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ وہ پاکستان پر دباؤ ڈالے جانے کی توقع کررہے ہیں۔ ایک بیان ورلڈ بینک کا آیا ہے جس کے مطابق سابق وزیر اعظم کے نااہل کیے جانے کے بعد پاکستان پر اقتصادی دباؤ آ ئے گا اور قیمتیں بڑھیں گی۔ وزیراعظم نے پابندیوں کا ذکر کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر پابندیاں عائد کی گئیں تو اس سے خطے میں توازن خراب ہوگا۔ جب آثار اتنے گمبھیر ہیں تو یہ ضروری ہونا چاہیے کہ عوام کو اعتماد میں لیا جائے اور اس صورتحال پر پارلیمنٹ میں بحث کی جائے۔ 

انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان میں انتخابات مقررہ مدت مکمل ہونے پر اگلے سال اگست ہی میں ہوں گے اور ان میں ن لیگ ہی جیتے گی۔ ن لیگ کی انتخابی حکمت عملی سابق وزیر اعظم نواز شریف کے سبکدوش ہونے سے قبل معاشی ترقی کے منصوبے' لوڈشیڈنگ کے خاتمہ کی بنیاد پر ووٹ لینے کی حکمت عملی تھی۔ ان کے سبکدوش ہو جانے کے بعد یہ حکمت عملی ''مجھے کیوں نکالا'' کے سوال پر عوام کے مینڈیٹ کے احترام قائم کرنے پر نظر آتی ہے۔ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اس حکمت عملی میں جو سازش کا عنصر شامل تھا اس سے دست کش ہو چکے ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ ن لیگ آئندہ انتخابات میں ترقی اور کارکردگی کی بنیادپر میدان میں اترتی ہے یا نواز شریف اور ان کے خاندان کی مظلومیت ' ان کے ساتھ انصاف نہ ہونے اور عوام کے مینڈیٹ کے احترام کی بنیاد پر الیکشن میں حصہ لیتی ہے۔ یا وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ملک کی موجودہ صورت حال میں اداروں کے درمیان اتحاد قائم کرنے کے اصول کو ن لیگ کی کارکردگی کے طور پر پیش کرتے ہیں۔

اداریہ