Daily Mashriq


بچے آنے والے روشن کل کے معمار

بچے آنے والے روشن کل کے معمار

اپنی طرف سے تو ہر ماں باپ کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ہمارا بچہ جب اس دنیا میں آئے تو اس کی اچھی تعلیم وتربیت اور پرورش کی جائے۔ پھر آگے اللہ کی مرضی۔ بچے کا پہلا گھر ماںکی کوکھ پہلی درس گاہ ماں کی گود اور پہلی کتاب ماں کا سینہ ہوتا ہے۔ ان تینوں ہی سے بچے کی زندگی کی شروعات ہوتی ہیں۔ جب بچہ اس دنیا میں آکر آنکھ کھولتا ہے تو وہ ایک انسان ہوتا ہے۔ دھڑکتے دل والا ایک لوتھڑا ہوتا ہے۔ پیدا ہوتا ہے تو ہم مسلمان اس کے کان میں اذان دیتے ہیں۔ پھر اس کی اچھی تربیت کی ابتدا کرتے ہیں۔ ایک اچھی قوم کو اچھے والدین کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ماں باپ پڑھے لکھے ہوں تو سونے پہ سہاگا۔ گھر میں بے جا کے لڑائی جھگڑے فساد اور میاں بیوی کی وقت بے وقت ناچاقی بچوں پر برا اثر ڈالتی ہے۔ بچوں کا دماغ تو ایک خالی ہارڈ ڈسک کی مانند ہو تا ہے جس کی میموری میںجو ریکارڈ ہوتا ہے وہ اسی سے اثر لیتے ہیں۔ ماں باپ بچوں کے لئے آئینہ ہوتے ہیں۔ جن میں بچوں کو اپنا عکس نظر آتا ہے۔ بعض جینئس بچے اپنے والدین اور پھر اس سے بڑھ کر اساتذہ میں سے کسی ایک کا اثر کچھ زیادہ ہی لیتے ہیں۔ ان کی ہر عادت کو اپنے اوپر حاوی کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر ان کی ساری زندگی اپنے بڑوں کی سرگرمیوں کو سامنے رکھ کر والدین کا طواف کرتی ہے۔ والدین کے اپنے بچوں سے بہت سے خواب جڑے ہو تے ہیں۔ ماں باپ اپنی زندگی میں جو کچھ خود نہیں کر پاتے اس کی توقع اپنے بچوں سے کرتے ہیں۔ جب اولاد پل کر جوان ہوتی ہے اور اپنے ماں باپ کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہونے کے قابل ہو تی ہے تو حوا اور آدم کی آنکھیں خوشی کی چمک سے روشن ہوجاتی ہیں۔ عام طور پر ایسا دیکھا گیا ہے کہ آج کل کھاتے پیتے گھرانوں کے بچے مشکل ہی سے فرمانبردار ہوتے ہیں۔ جب ان پہ جوانی منہ زور گھوڑے کی طرح دندناتی ہوئی آتی ہے تو وہ سمجھتے ہیں کہ شاید اس دنیا میں وہ اکیلے ہی جوان ہوئے ہیںاور صرف انہوں نے ہی دنیا دیکھی ہے۔ کوئی بچہ سونے کا چمچ لے کر دنیا میں آتا ہے تو کسی کو مرتے دم تک آسودہ زندگی میسر نہیںہوتی۔ یہ قدرت کا اپنا قانون ہے وہ رب جسے چاہے جیسے چاہے پیدا کرے اور پالے مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم سب کچھ تقدیر پر چھوڑ کر خود آرام کی نیند سو جائیں۔ انسان صرف حیلہ ہی کرتا ہے وسیلہ ساز خدا ہے ایک بچے سے پورے معاشرے کا مستقبل وابستہ ہوتا ہے۔ اگر وہ لڑکا ہے تو باہر کی دنیا سنوارے گا اور اگر لڑکی ہے تو گھر کی چادر اور چار دیواری میں رہ کر اپنے سب کاموں کو اچھے طریقے سے انجام دے گی۔ پھر اگر بدقسمتی سے اولاد نافرمان نکل آئے تو والدین کی کمر اولاد کے برے اعمال کی وجہ سے جھک جاتی ہے۔ غریب کا بچہ ایک ایسی زندگی گزار رہا ہوتا ہے جیسے کہ کنویں کا مینڈک۔ اسے اپنے حصے کاجتنا بھی آسمان نظر آتا ہے اس کیلئے وہی اس کی کل کائنات ہو تا ہے۔ ہر اولاد میں اس کے ماں باپ دونوں کا عکس جھلکتا ہے۔ بیٹی ماں سے تو بیٹا باپ سے اثر لیتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو پانچوں انگلیاں برابر نہیںہوتیں، بعض بدنصیب بچوں کی مائیں تو ان کی پیدائش پر ہی فوت ہو جاتی ہیں تو بعض بچے یتیمی کا نام لے کر پیدا ہوتے ہیں۔ والدین ہونے کی حیثیت سے ہمارا بھی کچھ فرض بنتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کی اچھی اور بہتر تعلیم وتربیت کریں اور اپنے فرائض کو بخوبی سر انجام دیں۔ اپنے بچوں کو بڑوں کا ادب اور چھوٹوں سے شفقت کرنے کا طریقہ سکھانا ماں باپ کے اولین فرائض میں سے ایک ہے۔کم از کم اپنے بچوں کو اس حد تک اچھی تربیت تو دینی ہی چاہئے کہ اگر کل کو ماں باپ یا دونو ں میں سے کوئی ایک دنیا سے رخصت ہو جائے تو پیچھے اولاد ان کے لئے ہاتھ اٹھا کر ان کی مغفرت کی دعا تو کر سکیں۔ اس لحاظ سے اگر ہم نگاہ ڈالیں تو کچھ حقوق اور فرائض والدین پر بھی عائد ہو تے ہیں جن کو خوش اسلوبی سے سر انجام دے کر گھر کا ماحول بہتر سے بہتر بنایا جا سکتا ہے اور آنے والی نسلیں ایک اچھا اور محفوظ مستقبل پا سکتی ہیں۔ بچوں کی شروع کی زندگی میں گھر سے باہر استادوں کا بھی بہت بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ استادکی شخصیت اگر شاگرد کو پسند آجائے تو وہ بچہ بھی اپنے آپ کو اپنے ٹیچر کی طرح بنانا پسند کرتا ہے۔ بچے آنے والے روشن کل کے معمار ہو تے ہیں۔ ان ستونوں کو مضبوط کرنے کے لئے ہمیں ان کے کردار میں خالص پیار ومحبت اور وفا کا سریہ ڈالنا ہوگا تب جا کر ہم ان کی پختہ اور خوبصورت چھت کے نیچے بیٹھ سکیں گے۔ انسان پودا اسی لئے اگاتا ہے کہ اس کی چھاؤں کے نیچے بیٹھ کر اپنی تھکان اتار سکے لیکن پودے کو نیک نیتی کے پانی سے سینچنا ہوگا۔ دہشت گردی کی آلودہ فضا سے بچانا ہوگا تب جا کر یہ پودا درخت بن کر ہمیں گھنی اور خوشبودار چھاؤں دینے کا حامی ہوسکتا ہے۔ کہتے ہیں کہ جیسی کرنی ویسی بھرنی۔ ہم جیسا بھی بوئیں گے ہمیں پھل ویسا ہی ملے گا۔ ہر والدین اپنی زندگی کی شام ہونے سے پہلے اپنے بچوں کے روشن سورج کے طلوع ہونے کے منتظر ہوتے ہیں۔ اللہ تعالی ہماری آنیوالی نسلوں کو اپنی حفظ وامان میں رکھے۔

متعلقہ خبریں