Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

حضرت احمد بن نصر اپنے وقت کے بہت بڑے عالم گزرے ہیں۔ یہ عباسی خلیفہ واثق باللہ کے دور میں تھے۔ خلق قرآن کا فتنہ منہ پھاڑے اہل علم و اہل حق کو نگل رہا تھا۔ خلیفہ واثق نے ان کو اس حق گوئی کی پاداش میں کہ وہ خلق قرآن کے باطل عقیدے میں اس کے مخالف تھے ان کو بر سرعام قتل کرا دیا۔ جب ان کا سر تن سے جدا کردیاگیا تو لوگوں نے سناکہ اس سر سے تلاوت قرآن کی آواز آرہی ہے۔ یہ واقعہ نا قابل یقین حد تک عجیب تھا۔
حضرت ابراہیم بن اسماعیل فرماتے ہیں کہ یہ سن کر مجھے بھی شوق ہوا کہ یہ حیرت انگیز منظر اپنی آنکھوں سے دیکھوں۔ چنانچہ جب رات کا سناٹا ہوگیا اور ہر طرف تاریکی چھاگئی تو میں نے خود سنا کہ سر سے اس آیت قرآنی کی تلاوت آواز آرہی تھی:
(ترجمہ) '' کیا لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ وہ محض اس لئے کہ وہ کہتے ہیں' ہم ایمان لائے چھوڑ دئیے جائیں گے اور وہ آزمائے نہ جائیں گے''۔
فرماتے ہیں کہ یہ سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے۔ اسی رات میں نے خواب میں دیکھا کہ ان پر حریر دیباج(ریشم) کے قیمتی کپڑے ہیں اور سر پر تاج ہے۔ میں نے پوچھا: میرے بھائی! اللہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ انہوں نے جواب دیا: میرے پروردگار نے مجھے بخش دیا اور جنت عطا فرمائی۔
( بحوالہ: تھوڑی دیر اہل حق کے ساتھ)
حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ اگر انسان کے سر پر اخلاص' مرض اور موت نہ ہوتی تو شدت کبر کے سواوہ کبھی سر تسلیم خم نہ کرتا باوجود ان کے وہ پھر گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔
حضرت سفیان بن عیینہ سے ایک آدمی نے کہا کہ میں ایسا آدمی دیکھنا چاہتا ہوں کہ جو دنیا سے بے رغبت ہو' انہوں نے فرمایا یہ گم شدہ چیز ہے جس کا اس زمانے میں وجود نہیں کیونکہ حقیقی زہد حلال میں ہے اوراب حلال کہاں ہے کہ انسان زاہد بن سکے۔ (مخزن اخلاق صفحہ نمبر166'167)
حضرت سری سقطی نے ایک شرابی کو دیکھا جو مدہوش زمین پر گرا ہوا تھا اور اپنے شراب آلودہ منہ سے اللہ اللہ کہہ رہا تھا۔ حضرت سری نے وہیں بیٹھ کر اس کا منہ پانی سے دھویا اور فرمایا '' اس بے خبر کو کیا خبر کہ ناپاک منہ سے کس پاک ذات کا نام لے رہاہے؟'' منہ دھوکر آپ چلے گئے۔
جب شرابی کو ہوش آیا تو لوگوں نے اسے بتایا کہ ''تمہاری بے ہوشی کے عالم میں حضرت سری یہاں آئے تھے اور تمہارا منہ دھوکر گئے ہیں'' شرابی یہ سن کر بڑا پشیمان اور نادم ہوا اور رونے لگا اور نفس کو مخاطب کرکے بولا۔ خدا عزو جل سے ڈر اور آئندہ کے لئے توبہ کر۔رات کو حضرت سری نے خواب میں کسی کہنے والے کو یہ کہتے سنا'' اے سری! تم نے شرابی کا ہماری خاطر منہ دھویا۔ ہم نے تمہاری خاطر اس کادل دھویا۔''
حضرت سری تہجد کے وقت مسجد میں گئے تو اس شرابی کو تہجد پڑھتے ہوئے پایا۔ (مخزن صفحہ نمبر103)

اداریہ