Daily Mashriq


معاشی بحران سے نکلنے کے تقاضے

معاشی بحران سے نکلنے کے تقاضے

معیشت کو دلدل سے نکالنے کا حکومتی عزم پوری قوم کے دل کی آواز ہے۔ اس ضمن میں عوام اور پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کا اقدام بھی موزوں قدم ہوگا لیکن حکومت نے اس صورتحال کی ذمہ داری اٹھانے کی بجائے گزشتہ حکومتوں کے معاملات کو سامنے لانے کا جو فیصلہ کیا ہے اس میں سب سے بڑی قباحت یہ ہوگی کہ ایک سیدھی سادھی معاشی صورتحال سیاست زدہ ہوگی اور جواب در جواب کا وہ لاحاصل باب کھلے گا جسے بند کرنے میں وقت بھی لگے گا اور ماحول بھی متاثر ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ گزشتہ حکمرانوں کی مبینہ لوٹ مار کے حوالے سے معاملات وزیر اعظم ڈی چوک کے کنٹینر سے لے کر عام انتخابات کی مہم کے دوران عوام کو از بر کرواچکے ہیں۔ گزشتہ روز لاہور میں پریس کانفرنس میں انہوں نے وہی لب و لہجہ اختیار کیا جو ان کا خاصہ رہا ہے۔ تحریک انصاف کے معاشی ماہرین میڈیا پر گزشتہ حکمرانوں کی کارکردگی کا بیسیوں بار بھانڈا پھوڑ چکے ہیں اس لئے اب قوم کو بتانے کے لئے کوئی بات باقی نہیں دکھائی دیتی۔ قوم کو اس امر پر بہر حال اتفاق ہے کہ حکمرانوں کی تعیشات اور سرکاری اداروں میں بدعنوانیوں کے باعث ملک کی معاشی حالت خراب ہوتی گئی اور انجام عوام کے سامنے ہے کہ ڈالر ایک سو اڑتیس روپے تک جا پہنچا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ڈالر کی قیمت موجودہ دور حکومت میں مزید کم ہونے کے بعد اچانک بلندہوئی۔ اگر اس میں کمی کا موجودہ حکومت کریڈٹ لیتی ہے تو پھر اس کی قیمت میں اضافے کی بھی ذمہ داری اٹھانی چاہئے۔ ڈالر کی قیمت میں موجودہ شرح جتنا اضافہ تو نہیں ہوا تھا لیکن اضافہ پچھلی حکومت کے دور میں ہوا ضرور تھا جسے چند دنوں کے اندر کنٹرول کر لیا گیا۔ اگر موجودہ حکومت بھی اس کا الزام گزشتہ حکومتوں کو دینے کی بجائے اقدامات کی صورت میں ڈالر کی قیمت میں کمی لا کر کرے تو زیادہ مناسب ہوگا۔ہم سمجھتے ہیں کہ گزشتہ راصلوۃ آئندہ را احتیاط ہی بہتر اور موزوں فارمولہ ہے۔ مصلحت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ پرانے معاملات پر بیکار کی بحث سے بہتر یہ ہوگا کہ ان غلطیوں کا تدارک کرتے ہوئے آئندہ وہ غلطیاں نہ دہرائی جائیں۔ اس کا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ ملکی دولت پر ہاتھ صاف کرنے والوں کا احتساب نہ کیا جائے اب احتساب اور لوٹی ہوئی دولت کی واپسی ہی کارگر حل نظر آتا ہے جس سے ملکی معیشت کو سہارا دینا ممکن ہوگا۔ جس طرح وزیر اعظم عمران خان نے بار بار اس حقیقت کا اظہار کیاہے کہ نیب ان کے ماتحت نہیں بلکہ خود مختار ادارہ ہے۔ ہم سمجھتے ہیں حکومت اس ادارے میں اگر مداخلت کی مرتکب نہیں تو پھر ایسے سیاسی بیانات بھی نہ دئیے جائیں جو نیب کے دائرہ اختیار اور راز داری سے متعلق سوالات کے جنم دینے کا باعث بنیں۔ وزیر اعظم اور وزیر اطلاعات کو متوقع گرفتاریوں سے متعلق بیانات دینے کا کوئی حق نہیں اور نہ ہی کسی کو ڈاکو قرار دینے کا حق حاصل ہے۔ جو لوگ احتساب کے دائرے میں آتے ہوں ان کے ناموں کے افشاء سے لے کر ان کے خلاف تحقیقات اور مقدمات نیب کی ذمہ داری ہے اسے حکومت مطلوبہ مدد ضرور فراہم کرے مگر ایسا کوئی بیان یا تاثر نہ دیا جائے کہ سیدھے سادے بد عنوانی کے معاملات سیاست اور الزامات کی بھینٹ چڑھ کر مشکوک ہو جائیں اور عوام کو یہ سمجھ نہ آئے کہ الزام لگانے والے راست گوہیں یا الزام کا دفاع کرنے والے۔ معاملات جب سچائی اور صاف ستھرے طریقے سے عوام کے سامنے آجائیں گے اور نیب کی تحقیقات و مقدمات کے قیام کے بعد عدالتوں سے جو مجرم ٹھہرے گا وہی مجرم کہلائے گا۔ اس سے رقم کی واپسی بھی ہوگی اور دودھ کادودھ پانی کا پانی بھی ہو جائے گا۔ اس وقت عوام ہی بہتر فیصلہ بھی کرسکیں گے کہ قومی مجرم کون کون تھے اور ملکی معیشت کو نقصان پہنچانے والے کون کون تھے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ معاشی معاملات ملکی حالات سے جڑے ہوتے ہیں ملک میں سیاسی استحکام اور انتشار کی کیفیت سے معیشت پوری طرح متاثر ہوئی اس لئے اگر قومی مفاد میں یہ فیصلہ کرلیا جائے کہ احتساب کے معاملات پر سیاست نہیں ہوگی اس عمل کو پوری طرح سیاست سے پاک کرکے احتساب کے حقیقی تقاضوں کے مطابق چلایا جائے گا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بے نامی اکائونٹس کے خلاف موجودہ دور حکومت میں جو اقدامات سامنے آرہے ہیں وہ نہایت احسن ہیں۔ اس طرح کے اقدامات کے جاری رہنے سے نہ صرف قومی خزانے کو رقم مل سکے گی بلکہ اس کے پس پردہ کرداروں کو بھی بے نقاب کرکے عوام کے سامنے لایا جاسکے گا اور یہی حقیقی احتساب بھی کہلائے گا۔ اس وقت معاشی صورتحال کو سنبھالنا اور سہارا دینا یقینا حکومت کی ذمہ داری ہے مگر ملک کے بڑے بڑے کاروباری افراد سیاستدان اور با اثر طبقات کی معیشت کی بحالی میں کردار کی اہمیت سے انکار کی گنجائش نہیں۔ وقت کا تقاضا یہی ہے کہ ہم من حیث القوم اس بحران سے نکلنے میں اپنا کردار ادا کریں۔توقع کی جانی چاہئے کہ ملک و قوم کے عظیم تر مفا د اورسیاست سے بالا تر ہو کر معاشی بحران کے حل میں عمائدین مملکت اپنا اپنا کردار بحسن و خوبی ادا کرتے ہوئے ملک کو اس صورتحال سے نکالیں گے۔

متعلقہ خبریں