Daily Mashriq


اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف معاملہ

اپنے پائوں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف معاملہ

حکومت کی جانب سے پاک پتن کے ڈی پی او کے معاملے کے سلجھنے کے فوراً بعد آئی جی پنجاب محمد طاہر کو تبدیل کرکے جس عجلت کا مظاہرہ کیا ہے وہ نہ صرف انتظامی طور پر درست نہیں بلکہ یہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی جانب سے ڈی پی او کے معاملے میں اظہار ناپسندیدگی کا پیغام وزیر اعظم کو پہنچانے کے ریمارکس کی بھی عدم رعایت ہے۔ بہر حال آئی جی پنجاب کو ہٹانے میں اس قدر عجلت سے کام لینا سمجھ سے بالا تر ہے کہ ضمنی انتخابات کے دوران تبادلوں پر پابندیوں کا بھی خیال نہیں رکھا گیا۔ پنجاب ہی میں دو ڈپٹی کمشنروں کی ارکان اسمبلی کی سرکاری کاموں میں مداخلت کی نشاندہی پر چین آف کمانڈ کی خلاف ورزی کے الزام میں جواب طلبی بھی مثبت تاثرات کا باعث عمل نہ تھا۔ ان حالات میں جبکہ حکومت کو بیورو کریسی سمیت سب کو ساتھ لے کر چلنے کی ضرورت ہے حکومت ایسے اقدامات کر رہی ہے جسے بیورو کریسی کو دبانے سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ اس قسم کی صورتحال حکومت اور بیورو کریسی کے درمیان بعد کا باعث بن سکتی ہے اور بیورو کریسی میں پھیلی ہوئی بے چینی عدم تعاون کی صورت میں سامنے آسکتی ہے جس سے گریز کیا جانا چاہئے۔ آئی جی کو ہٹانے کے لئے ٹھوس اور واضح شواہد اور الزامات ہونے چاہئیں۔ آئی جی پنجاب کو تعینات ہوئے ابھی دن ہی کتنے ہوئے تھے کہ ان کو ہٹا کر حکومت نے خواہ مخواہ ایک نیا باب کھول لیا۔ حکومت کو یہ فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ سپریم کورٹ سے معافی مانگنے پر ان کی بخشش کی گئی لیکن ساتھ ہی چیف جسٹس نے یہ عندیہ بھی دیا تھا کہ سی بھی وقت ضرورت پڑنے پر اس از خود نوٹس کیس کو کھولا جاسکتا ہے۔ حکومت اے ڈی خواجہ کیس اور انیتا تراب کیس مد نظر رکھتی اور اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کے ساتھ ساتھ حکمران پارٹی کی بیورو کریسی کو سیاسی مداخلت سے پاک کرنے کے عزم اور فیصلے پر نظر دوڑاتی تو یہ اقدام نہ اٹھاتی۔ بہتر ہوگا کہ حکومت اپنے لئے خود ہی محاذ کھولنے سے گریز کرے اور ملکی معاملات کو قانون اور دستور کے مطابق صبر اوربرد باری سے چلایا جائے۔

ڈی پی او سوات کا احسن اقدام

سوات میں منشیات فروشوں کے خلاف سوات پولیس کی انوکھی کارروائی، 20سے زائد مشہور منشیات فروشوں کے گھروں کے سامنے اہلکاروں کی ڈیوٹیاں لگادیں۔ ڈی پی او سوات سید اشفاق انور کے مطابق پولیس نے منشیات فروشوں کا گھیرا تنگ کرنے اور ان کے کاروبار کے خاتمے کے لئے مینگورہ شہر سمیت مختلف علاقوں میں پولیس کی خصوصی ٹیمیں تشکیل دی ہیں، جو منشیات فروشوں کے گھروں کے قریب تعینات رہیں گی تاکہ ناسور ہمیشہ کے لئے ختم کیا جائے۔ممکن ہے قانونی طور پر اس ضمن میں سقم ہو یا پھر اس عمل کو تا دیر جاری نہ رکھا جاسکے۔ لیکن ڈی پی او سوات کا یہ اقدام تحسین کاحامل اس لئے ہے کہ اس اقدام سے انہوں نے پولیس کارروائی کی سنجیدگی کا عوام کو مشاہدہ کرایا جو پولیس اقدامات پر یقین کرنے کے لئے کافی ہے۔ توقع کی جانی چاہئے جملہ اضلاع کے ڈی پی اوز بھی اس طرح کے اقدامات کریں گے جو نظر آنے والے ہوں اور منشیات کی روک تھام میں سنجیدگی کے حامل اقدامات قرار پائیں۔

ہیلتھ کیئر کمیشن کو وسائل کی فراہمی کی ضرورت

خیبر پختونخوا ہیلتھ کیئر کمیشن کی سال رواں کی جاری کردہ رپورٹ کے اعداد و شمار اس امر کے یقین کے لئے کافی ہیں کہ ان کا محکمہ محدود وسائل کے باوجود بساط بھر سرکاری فرائض کی انجام دہی کے لئے کوشاں ہے۔ منیجنگ ڈائریکٹر ہیلتھ کیئر کمیشن کے مطابق ان کے پاس وسائل کی کمی ہے ‘23 انسپکٹرز ہیں اور ٹیکنیکل ایکسپرٹ بھی موجود نہیں ہیں ۔ کمیشن میں پہلے مریضوں کے حقوق اور کوالٹی کاکوئی تصورموجود نہیں تھا اس حوالے سے بھی کمیشن کام کررہاہے اورجلد ہی لائحہ عمل تیارکرکے لاگو کردیاجائے گا ۔اس کی کوشش ہے کہ صوبے میں ہیلتھ سہولیات سے متعلق ایک سٹینڈرڈ متعارف کرایا جائے پھر لائسنس اجراء ایشوز بھی ہیں اوررجسٹریشن بھی ہے ۔اس صورتحال کے باوجود ہیلتھ کیئر کمیشن کی اب تک تین کروڑ،19 لاکھ 88 ہزار500 روپے مجموعی طورپر جرمانوں کی مدمیں وصولی اور626اداروں کے خلاف کارروائی بڑی کامیابی ہے۔ صوبے میں اتائیوں کی بھرمار‘ غیر قانونی علاج معالجے کے مراکز اور میڈیکل سٹوروں کی نگرانی و کارروائی کے لئے کمیشن کو مزید وسائل او عملے کی ضرورت جائز مسئلہ ہے جس کے حل پر حکومت کو توجہ دینی چاہئے۔توقع کی جانی چاہئے کہ ہیلتھ کیئر کمیشن کی حکومت کی طرف سے پوری طرح سرپرستی کرکے اسے فعال بنانے کی ذمہ داری پوری کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں