Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

بایزیدبسطامیؑ فرماتے ہیں کہ زندگی بھر کسی شخص نے بھی کسی معاملے میں مجھے اس طرح شکست نہیں دی ، جس طرح بلخ کے ایک نوجوان نے دی ۔ میں تسلیم کرتاہوں کہ میں اس سے ہار گیا ۔ شاگردوں نے پوچھا کہ حضرت اصل واقعہ کیا ہے ؟فرمایا کہ ایک دفعہ بلخ کا ایک نوجوان حج کو جاتے ہوئے میرے پاس حاضر ہوا جو انتہائی متوکل اور صابر نوجوان تھا ۔ اس نے مجھ سے سوال کیا کہ زہد کی حقیقت آپ کے نزدیک کیا ہے ؟ میں نے کہاکہ جب ہمیں ملے تو کھالیں اور جب نہ ملے تو صبرکریں ۔ اس نے کہا : ایسے تو ہمارے ہاں بلخ کے کتے بھی کرتے ہیں ، جب ملے کھا لیتے ہیں اور جب نہ ملے تو صبر کر لیتے ہیں ۔ یہ تو کوئی کمال کی بات نہیں ہے ۔ میں نے پوچھا: تو پھر تمہارے ہاں زہد کی حقیقت کیا ہے ؟ وہ کہنے لگا: جب ہمیں نہ ملے تو پھر بھی حمد و شکر کریں اور جب ملے تو دوسروں پر ایثار کر دیں ، یہ ہے زہد کی حقیقت۔

حضرت امام شافعیؑ کا فرمان ہے کہ تین کام سب سے مشکل ہیں : تنگدستی کے باوجود سخاوت کرنا،تنہائی اور خلوت میں بھی تقویٰ اختیار کرکے گناہ سے بچنا اور ایسے شخص کے سامنے حق بات کہنا جس سے امیدیں بھی وابستہ ہوں اور اس سے خوف بھی لاحق ہو۔ آپؒہمیشہ اپنے ساتھ لاٹھی رکھتے تھے ۔ کسی نے پوچھا کہ حضرت!آپ اتنے بوڑھے تو نہیں ہیں کہ لاٹھی کے سہارے کی ضرورت پڑے ؟فرمایا کہ میں(آخرت کا) مسافر ہوں اور مسافر ہمیشہ اپنے ساتھ لاٹھی رکھتا ہے۔

اندلس کے اموی خلیفہ عبدالرحمن الناصر کے آخردور میں ایک مرتبہ شدید قحط سالی ہوگئی ۔ قرطبہ کے قاضی منذربن سعد نے لوگوں کو نماز استسقا پڑھنے کی ترغیب دی ۔ یہ بہت بڑے عالم اور بے مثال خطیب تھے ۔ منذربن سعید نے کئی دن روزہ رکھ کر خود کو اس مقصد کے لئے خاص طور پر تیار کیا ۔ لوگ مقررہ وقت پر ایک کھلے میدان میں جمع ہوگئے ۔ خلیفہ الناصر لوگوں سے خطاب کرنے کے لئے منبر پر بیٹھ گئے ۔ خلاف معمول منذرز بن سعید نہ پہنچے ۔ پھر وہ انتہائی عاجزی وانکساری سے چلتے ہوئے اس میدان میں حاضر ہوئے ۔ لوگوں سے مخاطب ہونے کے لئے کھڑے ہوئے ۔ السلام علیکم کہنے کے بعد کافی دیر تک کچھ نہ بول سکے ۔ حالانکہ یہ ان کی عادت نہیں تھی ۔ لوگوں نے ایک دوسرے کی طرف حیرت بھری نظروں سے دیکھا کہ کیا ماجرا ہے ؟ پھر انہوں نے ہمت کر کے کلام شروع کیا ۔ اے لوگو!اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات پر رحمت کو واجب کرلیا ہے ۔ اپنے رب سے بخشش مانگو اور اس کی طرف رجوع کرو۔ اعمال صالحہ کر کے اس کا قرب حاصل کرو۔ ان کا یہ انداز اور باتیں سن کر لوگوں پر رقت طاری ہوگئی۔ پھر سب نے مل کر انتہائی عاجزی وانکساری سے دعا کی ۔ چنانچہ اسی روز غروب آفتاب سے پہلے ہی موسلادھار بارش برسنے لگی ۔

لوگوں کو غور کرنا چاہیئے کہ آج ان کی دعائیں کیوں قبول نہیں ہوتیں ۔

متعلقہ خبریں