Daily Mashriq


پولیس اور ضوابط

پولیس اور ضوابط

انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب محمد طاہر کے فوری تبادلے کے احکامات جاری ہوچکے تھے کہ الیکشن کمیشن نے اپنے آئینی اختیار کے تحت اس فیصلہ پر عمل درآمد روک دیا۔ قانون کے مطابق انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے بعد (انتخابات ہو جانے تک) کسی کلیدی اہل کار کا تبادلہ نہیں ہو سکتا اور الیکشن کمیشن کو اختیار ہے کہ وہ اس فیصلہ کو روک دے۔ پولیس سروس کے سینئر افسر محمد طاہر کو پانچ ہفتے قبل پنجاب میں تعینات کیا گیا تھا۔ اس سے پہلے وہ خیبر پختونخوا میں انسپکٹر جنرل پولیس تھے اور وہاں حکمران تحریک انصاف کے پولیس اصلاحا ت کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے تھے۔ ان کی شہرت ایک قابل پولیس افسر کی تھی۔ انہیں ہٹانے کا فیصلہ اکتوبر کے پہلے ہفتے کے اختتام پر ہوا جب کہ ضمنی انتخابات کا اعلان 17اگست کو ہوا تھا۔ لیکن ان کی بطور آئی جی پنجاب تعیناتی اور ان کے پیش رو کلیم امام کے تبادلے کے احکام بھی 17اگست کو ضمنی انتخابات کے اعلان کے بعد جاری کیے گئے۔ اگر اور کوئی قانونی وجہ نہیں تھی تو کلیم امام کے تبادلہ اور محمد طاہر کی تعیناتی بھی ضمنی انتخاب کے اعلان کے بعد کی مدت میں ہوئی تھی لیکن اس وقت الیکشن کمیشن نے ایسا اقدام نہیں کیا جیسا محمد طاہر کی سبکدوشی کے حوالے سے کیا گیا۔ اس میںکیا حکمت کارفرما تھی۔ آئی جی محمد طاہر کی تعیناتی اور سبکدوشی کے واقعات کس طرح مختلف تھے، یہ الیکشن کمیشن جانے۔ پولیس والوں کے بارے میں عام شکایت یہ ہے کہ یہ قانون کو ہاتھ میں لیتے ہیں ۔ ایف آئی آر میں ایسی جھول رکھنے یا نہ رکھنے پر قادر ہوتے ہیں جن کی بنا پر مقدمہ کا فیصلہ ان کی توقع کے مطابق ہو۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تھانے فروخت ہوتے ہیں اور خریدے جاتے ہیں۔ لیکن خود پولیس والوں کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک ہوتا ہے جس میں قانون حکام بالا کے ہاتھ کی چھڑی لگتا ہے جو بیک جنبش قلم ان کا تبادلہ کسی شاداب تھانے کی بجائے کسی بنجر یا پُرخطر تھانے میں کر سکتے ہیں یا پھر اپنی مرضی کے تھانوں میںکر سکتے ہیں جہاں پولیس افسر قانون کی بجائے حکام بالا کی حکمرانی کے لیے کام کرنے پر مجبور یا مسرور ہوتے ہیں۔ مرضی کا پولیس افسر لگانے کا معاملہ سندھ میں تقریباً ایک سال متنازع رہا۔ حکومت سندھ آئی جی اے ڈی جی خواجہ کی جگہ کسی اور کو لگانا چاہتی تھی لیکن ضوابط اور وفاقی حکومت یہ نہیں چاہتی تھی۔ بالآخر معاملہ سندھ ہائی کورٹ تک گیا جہاں اے ڈی خواجہ کے آئی جی سندھ برقرار رہنے کا فیصلہ دیا گیا ۔ اس فیصلہ میں واضح کیا گیا کہ جو آسامیاں مخصوص مدت کی ہوتی ہیں ان پر مامور افسروں کو بغیر کسی ٹھوس وجہ کے اس مدت سے پہلے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ آئی جی کی آسامی بھی ایسی ہی (Tenure post)ہے جس کی مدت تین سال ہے۔ اگر کوئی خصوصی وجہ نہ ہو تو یہ تعیناتی تین سال برقرار رہنی چاہیے۔ اگر کوئی خصوصی وجہ ہو تو اس کے لیے مامور افسر کو وجہ بتلانے کا نوٹس دیا جانا ضروری ہے اور اگر جواب تسلی بخش نہ ہو تو ضابطہ کی کارروائی کے ذریعے متعلقہ افسر کو سبکدوش کیا جا سکتا ہے۔ پنجاب کے پولیس رولز میں بھی کم و بیش یہی طریق کار درج ہے۔ تاہم پچھلے دنوں جب پاکپتن کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر رضوان گوندل کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے دفتر میں بلا کر راتوں رات ٹرانسفر کر دیا گیا تو اس پر بڑی لے دے ہوئی اور آخر کار سپریم کور ٹ نے اس واقعہ کا از خود نوٹس لیا ۔ یہ تمام واقعہ قارئین کی نظر سے گزر چکا ہے۔ آئی جی پنجاب محمد طاہر کے خلاف کارروائی کا معاملہ میڈیا تک پہنچا۔ بعض سیانے اور تجربہ کار مبصرین نے رائے دی کہ یہ جو کچھ ہوا غلط ہوا۔ قانون کی حکمرانی کے تقاضوں کے منافی ہوا۔ سرکاری ترجمان وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ محمد طاہر پر الزام تھا کہ انہوں نے وزیر اعظم کے احکام کی پاسداری نہیں کی اس وجہ سے ان کا تبادلہ کیا گیا ۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ کارروائی براہ راست وزیر اعظم عمران خان کے حکم پر کی گئی۔ نیا آئی جی تعینات کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ متعلقہ صوبائی حکومت تین افسروں کے نام وفاقی حکومت کو بھیجتی ہے اور وفاقی حکومت ان میں سے کسی کا انتخاب کرتی ہے۔ ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی۔ لیکن ایسی بھی کوئی بات سامنے نہیں آئی کہ آئی جی محمد طاہر کو کوئی شوکاز نوٹس موصول کرایا گیا اور ان سے پارٹی پالیسی کے نفاذ میں ناکامی کی وجوہ دریافت کی گئی ہوں۔ اور پھر یہ بھی ہے کہ پارٹی پالیسی کا نافذ کرنا حکومت کا کام ہے ۔ اہل کار حکومت کے قانونی فیصلوں پر عمل کرتے ہیں۔ لیکن آئی جی محمد طاہر کی سبکدوشی کے حوالے سے پنجاب حکومت کا نام نہیں لیا جا رہا بلکہ کہا جا رہا ہے کہ خود وزیر اعظم عمران خان نے ان کی سبکدوشی کی ہدایت جاری کی۔ جو ضوابط کے مطابق کارروائی نہیں ہے۔ یہ واضح نہیں کہ آئی جی محمد طاہر کو سانحہ ماڈل ٹاؤن کے ملزم پولیس افسروں کے خلاف کیا کارروائی کرنے کی ہدایت کی گئی تھی جس پر وہ پورے نہیں اُترے۔ کیونکہ ایک بااصول پولیس افسر کی حیثیت سے وہ بھی پابند تھے کہ قانون اور ضابطے کے مطابق کام کریں تاکہ کل اگر ان کے فیصلے کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا جائے تو وہ اس میں اپنا مؤقف مضبوطی سے بیان کرسکیں۔ وزیر اعظم عمران خان کے دفتر کو شکایت موصول ہوئی ہو گی کہ آئی جی محمد طاہر ’’پارٹی پالیسی پر عمل درآمد نہیں کر رہے۔‘‘ انہوں نے موصوف کو عہدے سے ہٹانے کی ہدایت جاری کر دی ۔ لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا وزیر اعظم کے دفتر میں ایک بھی افسر ایسا نہیں تھا جو سندھ ہائی کورٹ کا فیصلہ ‘پنجاب پولیس کے رولز اور سپریم کورٹ کے مؤقف سے وزیر اعظم کو آگاہ کر سکتا اور انہیں مشورہ دے سکتا کہ کارروائی ضابطہ کے مطابق ہونی چاہیے۔ بیوروکریٹ دن رات قوانین اور ضوابط سے کھیلتے ہیں ، یہ بھی ممکن نہیں ہے کہ یہ معمولی بات نہ جانتے ہوں۔ وزیر اعظم عمران خان کے لیے یہ بات باعث تشویش ہونی چاہیے کہ انہیں ان کے دفتر کے افسروں نے ضوابط کی پاسداری کا مشورہ کیوں نہ دیا۔ یہ افسر بہت سے طریقوں سے واقف ہوتے ہیں جن سے سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔

متعلقہ خبریں