Daily Mashriq


ہم نیک وبد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں

ہم نیک وبد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں

سٹاک ایکسچینج کریش ہو جانے کے بعد جس افراتفری میں حکومت نے آئی ایم ایف سے رجوع کر کے بیل آئوٹ پیکج حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے اس سے حکمران جماعت کی حکومت میں آنے سے پہلے ملک چلانے کیلئے پالیسیوں کی ناقص منصوبہ بندی واضح ہورہی ہے ، سیاست جلوسوں ،جلوسوں اور دھرنوں کانام نہیں ہے بلکہ اقتدار کی خواہش مند جماعتوں کو اور بھی بہت کچھ سوچنا اور موقع ملنے کی صورت میں اپنی ان سوچوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے حکمت عملی بھی بنانا پڑتی ہے ۔ جمہوریت میں اپوزیشن کو گورنمنٹ ان ویٹنگ کہتے ہیں یعنی جو اپنی باری کے انتظار میں قطار کی صورت کھڑی ہوتی ہے ، اور اس طرح قطار میں لگ کر انتظار کرنے کے عرصے میں وہ صرف دعوے کرنے یا شور و ہنگامہ کرنے ہی میں وقت ضائع نہیں کرتی بلکہ ہر وہ جماعت جو حکمرانی کرنے کیلئے بے چین ہوتی ہے وہ اپنی صفوں کو درست رکھنے کیلئے بھی سنجیدہ کوششیں کرتی ہے ۔ ان کوششوں کو کئی حصوں میں بانٹا جاتا ہے ، اور پارٹی کے اندر فعال ارکان کے ساتھ ساتھ فکری محاذ پر بھی ماہرین یا تو خود پارٹی کا حصہ ہوتے ہیں یا پھر مختلف شعبوں کے ماہرین کے ساتھ روابط استوار کئے جاتے ہیں اور ان کی ماہرانہ آراء کی روشنی میں پالیسیاں مرتب کی جاتی ہیں ۔ اس ضمن میں کئی تھنک ٹینک نہایت خاموشی کے ساتھ اپنا کام جاری رکھتے ہیں اور زندگی کے مختلف شعبوں پر نگاہیں جماتے ہوئے اپنی سفارشات دستاویزی صورت میں پارٹی کو فراہم کرتے ہیں ۔ ان تمام دستاویزات کو بعد میں پارٹی کی سنٹرل یا مرکزی کمیٹی میں وقتاً فوقتاً پیش کر کے بحث مباحثہ کیا جاتا ہے اور جماعت کی پالیسی کو حتمی صورت دی جاتی ہے ۔ ان حقائق کی روشنی میں جب ہم تحریک انصاف کی اختیار کی ہوئی پالیسیوں کا جائزہ لیتے ہیں تو بعض شعبوں میں ہمیں کئی ایک سقم نظر آتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ تحریک انصاف نے گزشتہ چار پانچ سال میں یا تو صرف احتجاج میں وقت ضائع کیا یا پھر جن امور پر توجہ دینا چاہیئے تھی ان کو سرے ہی سے نظر انداز کئے رکھا ۔ یعنی احتجاجی سیاست اپنی جگہ اور بر سر اقتدار جماعت کو اقتدار سے محروم کرنے کی حکمت عملی بھی اقتدار میں آنے کیلئے پارٹی رہنمائوں کے نزدیک درست نکتہ نظر ہو سکتی ہے ۔ تاہم اپنی ساری صلاحیتیں صرف ایک ہی رخ پر رکھنے سے دوسرے رخ کو جس طرح پارٹی نے نظر انداز کئے رکھا یعنی وہ جو گورنمنٹ ان ویٹنگ کا کردار ہے اس سے صرف نظر کرنے کی پالیسی نے آج پارٹی کیلئے جس قسم کے مسائل کھڑے کئے ہیں موجودہ صورتحال یعنی اقتدار سنبھالنے کے بعد کئی یوٹرن لینے کی غلط روش اسی کا شاخسانہ ہے۔

جیسا کہ اوپر کی سطور میں گزارش کی جا چکی ہے کہ صرف احتجاجی دھرنوں کا نام ہی سیاست نہیں ہے بلکہ اقتدار میں آنے سے پہلے اقتدار کیلئے تیاری بھی لازمی ہوتی ہے بالکل ویسے ہی جیسے کہ کسی بھی کھیل کیلئے میدان میں اترنے سے پہلے تربیت کے ایک عمل سے گزرنالازمی ہوتا ہے ، اور سیاست تو کھیل ہی امکانات کا ہے۔ تاہم امکانات کو یقین کا لبادہ پہنانے کیلئے بھی کچھ نہ کچھ تیاری لازمی ہوتی ہے ، تحریک انصاف کی صفوں میں ایسی کوئی تیاری دیکھنے میں نہیں آئی بس جذباتی نعروں اور خوش کن وعدوں کی کہکشاں سجا کر لوگوں کی آنکھوں میں سنہرے خواب بسائے گئے ، حالانکہ چاہیئے تو یہ تھا کہ پارٹی ایک شیڈ وکابینہ بنا کر ہر ممکنہ وزیر کو اپنے اپنے شعبوں میں کارکردگی دکھانے کا نہ صرف موقع دیتی بلکہ آنے والے دنوںکیلئے یوں ان کی تربیت کا اہتمام بھی ہو جاتا، اور اس شیڈو کابینہ کے ارکان جہاں متعلقہ تھنک ٹینکس کی سفارشات کاجائزہ لیکر پارٹی کو اس میدان میں پالیسیاںاختیار کرنے کیلئے اپنی صلا حیتوں کے مطابق مشورے دیتے ، وہیں بر سر اقتدار حکومت کی کارکردگی پر ناقدانہ نظر رکھتے ہوئے آنے والے دور یعنی حکومت سنبھالنے کے بعد، سابقہ حکومت کی غلط یا کمزور پالیسیوں سے بچنے کے طور طریقوں پر بھی غور کرتے ، مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ یہاں تو بعض حضرات بعض مخصوص عہدوں پر نگاہیں جمائے ہوئے آپس ہی میں دست و گریباں دکھائی دے رہے تھے ، مثال کیلئے پنجاب کی وزارت اعلیٰ ہی لے لیتے ہیں ، اس اہم عہدے کے خواہشمندوں کی تعداد اور ان کے نام کوئی راز نہیں ، ایسی صورت میں مرکز میں بھی متبادل مگر اہم وزارتوں کو آج جن لوگوں نے بادل نخواستہ قبول کیا ہے ایسی دو عملی کی صورت میں شیڈو کا بینہ کیسے بن سکتی تھی؟اور شاید یہی وجہ ہے کہ آج اقتدار سنبھالنے کے بعد افراتفری کی سی صورت حال ہے اور یا تو حسب معمول یوٹرن لئے جارہے ہیں یا پھر لیگ(ن) حکومت پر الزامات لگانے سے ہی کام چلا یا جا رہا ہے ، اور وہ جو سنہرے وعدوں کے بلند مینار تعمیر کئے گئے تھے ان پر کم کم ہی توجہ دی جارہی ہے ، ویسے بھی دعوئوں اور عمل کے بیچ سنگلاخ چٹانوں ، کانٹوں سے اٹی پگڈنڈیوں اور گہری کھائیوں کا ایک لا متناہی سلسلہ ہوتا ہے جنہیں عبور کرنے یا پاٹنے کیلئے بڑی حکمت درکار ہوتی ہے ، یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کہ کوئی تماش بین میدان کے باہر بیٹھ کر مقابلے میں اترنے والوں کے دائو پیچ پر اپنی صوابدید کے مطابق تبصرے بھی کرتا اور باہر ہی سے مشورے بھی دیتا ہو لیکن جب خود میدان میں اترتا ہے تو ساری ہیکڑی بھول جاتا ہے ۔ ایک کروڑ نوکریاں ، پچاس لاکھ گھر اور کرپشن کی دولت واپس لانے کے وعدوں کے ہنگام زرمبادلہ کے ختم ہوتے ہوئے ذخائر اور سٹاک ایکسچینج کا دھڑام سے گرنے جیسے مسائل سے نمٹنے کیلئے جو حکمت عملی ضروری تھی اس کی پہلے سے تیاری نہ ہونے نے ہی آج یہ صورت دکھائی ہے جو پارٹی پالیسیوں میں مناسب تبدیلی کی متقاضی ہے شرط صرف یہ ہے کہ زمینی حقائق کا ادراک کرتے ہوئے ’’ذہنی طور پر‘‘ کنٹینرسے اترنے کے بارے میں سوچا جائے۔ ہم نیک وبد حضور کو سمجھائے دیتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں