Daily Mashriq


خیبر پختونخوا کو اپنا حق ملناچاہئے

خیبر پختونخوا کو اپنا حق ملناچاہئے

جب تحریک انصاف صرف خیبر پختون خوا میں حکومت تھی تو اس کا کہنا تھا کہ گیس بجلی تیل کے رائلٹی پر وفاقی حکومت ہمارے ساتھ زیادتی کر رہی ہے اور ہمیں کم رائلٹی دی جا رہی ہے ۔ اگر وفاق میں پی ٹی آئی کی حکومت بنی تو وہ خیبر پختون خوا میں گیس ، بجلی ، تیل کی رائلٹی کو تین گنا کرے گی۔ اگر ہم خیبر پختون خوا کے صوبائی بجٹ پر نظر ڈالیں تو یہ کُل بجٹ 505 بلین روپے کا ہے ۔ جس میں 293 ارب روپے وفاقی حکومت نے وفاق کے حصے سے دینے ہیں۔ جبکہ 35 ارب روپے دہشت گر دی کی جنگ میں نُقصان کے سلسلے میں دینے ہوتے ہیں۔ اسی طر ح وفاقی حکومت نے این ایف سی ایوارڈ کے تحت 19 ارب روپے بجلی پیدا کرنے کی مد میں اور 17 ارب روپے خیبر پختون خوا سے گیس اور تیل نکلنے کی مد میں رائلٹی کے طور پر دینے ہوتے ہیں۔ اگر ہم اعداد و شمار کو دیکھیں تو خیبر پختون خوا میں گیس کے کُل ذ خائر 19 ٹریلین مکعب فٹ ہے اور تیل کے کُل ذخائر 600 ملین بیرل ہے۔جو خیبر پختونخوا کی قسمت بدلنے میں اہم کر دار ادا کرسکتے ہیں۔ اس وقت پاکستان کے تیل پیدا کرنے کی صلا حیت 93 ہزار بیرل یو میہ ہے۔ جس میں خیبر پختونخوا کا حصہ تقریباً 53 ہزار بیرل یومیہ ہے جو پاکستان کی کل پیداوار کا 54 فی صد ہے۔ اسی طرح خیبر پختونخوا میں قد رتی گیس اور ایل پی جی پیدا کرنے کی صلا حیت بالترتیب 17 اور 25 فی صد ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ او جی ڈی سی کے مطابق اس ادارے نے خیبر پختونخوا میں گزشتہ 17 سالوں میں 523 ارب روپے کا تیل اور گیس نکالا ہے جو سالانہ 31 ارب روپے بنتے ہیں۔ اسی طر ح پاکستان میں پانی سے بجلی پیدا کرنے کی صلا حیت تقریباً 6444 میگا واٹ ہے جس میں صرف خیبر پختون خوا سے 4200 میگا واٹ بنتا ہے جو پاکستان میں پانی سے بجلی پیدا کرنے کا 65فی صد ہے۔ اسی طرح خیبر پختون خوا میں پاکستان کا 80فی صد تمباکو پیدا ہوتا ہے جس سے قومی خزانے میں 120ارب جمع ہوتے ہیں جبکہ صوبائی حکومت کو کچھ ملین ملتے ہیں۔ معدنیات اسکے علاوہ ہیں۔اگر ہم مندر جہ بالا اعداد و شمار کو دیکھیں تو اس سے یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ وفاق خیبر پختونخوا کے وسائل استعمال کر رہا ہے اور اسکے مقابلے میں خیبر پختون خوا کو بجلی ، گیس اور تیل کی مدات جو رقم دی جاتی ہے وہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔ وفاقی حکومت کو خیبر پختون خوا کی حکومت کو بجلی، گیس ، تیل رائلٹی دوگنی دینی چاہئے ۔ اور دہشت گردی اور انتہا پسندی کی وجہ سے خیبر پختونخوا کا جو مالی اور جانی نُقصان ہوا ہے اور صوبے کا انفرا سٹرکچر بری طرح متاثر ہوا وہ امداد تین گنا کرنی چاہئے۔۔ صوبائی حکومت اس سلسلے میں آل پا رٹیز کانفرنس بلائے اور تیل گیس بجلی کی مد میں رائلٹی کا از سر نو جا ئزہ لے اور تمباکو جس سے وفاقی حکومت کو ایک خطیر رقم ملتی ہے اسکی بھی رائلٹی لی جائے۔علاوہ ازیں خیبر پختون خوا کو دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی وجہ سے جو نُقصان پہنچاہے اس کی رقم کو کم از کم دگنا کیا جائے۔این ایف سی ایوارڈ پر از سر نو غور کرنا اور اسکو نئے سرے سے آبادی اور وسائل کے لحا ظ سے ترتیب دینا چاہئے ۔اب جبکہ خیبر پختونخوا اور وفاق میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے وفاقی حکومت کو چاہئے کہ وہ بھی خیبر پختون خوا کے خلاف اپنے سخت رویئے میں نر می لائے اور کو شش کرے کہ جنگ سے تباہ حال صوبے خیبر پختونخوا حکومت کے لئے مشکلات پیدا نہ کریں۔اگر ہم غور کریں تو دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی وجہ سے خیبر پختونخوا کا مالی اور جانی نُقصان ہوا ہے اور اعداد و شمار کے مطابق اس صوبے کا بشمول قبائلی علاقے 90صد نُقصان ہوا ہے ۔ضرورت اب اس امر کی ہے کہ خیبر پختونخوا کی رائلٹی تین گنا کرنے کے علاوہ اسکو مزید مراعات دی جائے۔ کیونکہ جب ٖ فاٹا اور خیبر پختونخوا کے عوام خوش ہونگے تو پھر اسکے بعد ہم ایک خو شحال پاکستان دیکھ سکتے ہیں۔ خیبر پختو نخوا میں بے روز گاری اور غُربت زیا دہ ہے عمران خان اور پی ٹی آئی حکومت کی کوشش ہونی چاہئے کہ خیبر پختونخوا کو زیادہ سے زیادہ مراعات دیں۔ صنعتی یونٹ لگائے جائیں۔ خیبر پختونخوا کے علاوہ تمباکو کسی اور صوبے میں اس طرح نہیں پیدا ہوتا جس طرح خیبر پختون خوا میں پیدا ہوتا ہے مگر وفاقی حکومت نے تمباکو بو رڈ بنا کر خیبر پختون خوا سے پیدا ہونے والے وسائل کو پو رے پاکستان کے divisible poolمیں ڈالا اور کے پی کے وسائل کو پورے پاکستان میں تقسیم کر رہے ہیں اور دیگر صوبوں کو اس میں شراکت دار بنا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت بالخصوص وزیر اعظم عمران خان کو چاہئے کہ وہ خیبر پختونخوا کی رائلٹی تین گنا کرنے میں اپنا کردار ادا کرکے ایک اچھی مثال قائم کریں۔

متعلقہ خبریں