Daily Mashriq

وزیراعظم کل ایران، سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہوں گے

وزیراعظم کل ایران، سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہوں گے

وزیراعظم 13 اکتوبر کو ایرانی صدر سے ملاقات کریں گے — فائل فوٹو: اے ایف پی

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کل ( 12 اکتوبر کو) ایران اور سعودی عرب کے درمیان ثالثی کی کوشش کے لیے دونوں ممالک کے دورے پر روانہ ہوں گے۔

حکام نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان پہلے ایران جائیں گے جہاں وہ رات میں قیام کریں گے اور 13 اکتوبر (بروز اتوار) کو ایران کے صدر حسن روحانی سے ملاقات کریں گے۔

حسن روحانی سے ملاقات کے بعد وہ اسی روز ریاض کے لیے روانہ ہوں گے جہاں وہ سعودی قیادت سے ملاقاتیں کریں گے۔

گزشتہ روز ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے وزیراعظم کے دورے کی تصدیق کی تھی۔

انہوں نے کہا تھا کہ ‘ وزیراعظم کے دوری سعودی عرب اور ایران کے امکانات ہیں‘ تاہم انہوں نے دورے کی تاریخ سے متعلق کچھ نہیں بتایا تھا۔

ترجمان نے صحافیوں سے کہا تھا کہ وزیراعظم کے متوقع دورے میں پیش رفت سے آگاہ کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان ، سعودی عرب کی درخواست پر دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کا اقدام اٹھارہے ہیں۔

سعودی عرب کے دورے کے دوران ولی عہد محمد بن سلمان نے وزیراعظم پاکستان سے ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے میں مدد طلب کی تھی کیونکہ سعودی عرب جنگ سے گریز کرنا چاہتا ہے۔

دوسری جانب ایران نے ثالثی کی پیشکش قبول کرنے کے لیے رضامندی ظاہر کی تھی لیکن اسے خ امریکا اور دیگر مغربی فورسز کے انخلا سے مشروط کردیا تھا۔

واضح رہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ پاکستان 2 خلیجی حریفوں کے درمیان ثالثی کی کوشش کررہا ہے، 80 کی دہائی سے لے کر اب تک کم از کم 4 مرتبہ پاکستان ثالثی کے بڑے اور معمولی اقدامات اٹھاچکا ہے۔

پاکستان نے ایران اور عراق کے درمیان جنگ کے دوران پہلی مرتبہ اپنے طور پر ثالثی کی کوشش کی تھی، بعدازاں 1997 میں اسلام آباد میں منعقد اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے اجلاس میں ایران اور سعودی عرب کی قیادت کو دعوت دی گئی تھی۔

علاوہ ازیں 2003 سے 2004 کے عرصے میں اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے بھی اس معاملے پر کوششیں کی تھیں لیکن امریکا سے بہت قریب ہونے باعث ان کی کوشش کامیاب نہیں ہوسکی تھیں۔

مشرق وسطیٰ میں ثالثی کی حالیہ کوشش 2016 میں کی گئی تھی جب اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے سعودی مذہبی رہنما باقر النمر کو پھانسی کے بعد ایران اور سعودی عرب کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی تھی۔

متعلقہ خبریں