Daily Mashriq

’ملازمتوں کے مستقل ہونے میں بیوروکریسی رکاوٹ ڈال رہی ہے‘

’ملازمتوں کے مستقل ہونے میں بیوروکریسی رکاوٹ ڈال رہی ہے‘

اسلام آباد: پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائسنز (پمز) کے ڈاکٹروں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کینیٹ سیکریٹریٹ کو بتایا کہ بیوروکریسی ان کی ملازمتوں کے مستقل ہونے میں رکاوٹ ڈال رہی ہے۔

اجلاس کی سربراہی سینیٹر طلحہ محمود نے کی جس میں کارڈیک سینٹر آف پمز میں فرائض انجام دینے والے ڈاکٹروں کی ملازمتوں سے متعلق مسائل زیر بحث آئے۔

واضح رہے کہ کارڈیک سینٹر کی تعمیر کا آغاز 2005 میں ہوا تھا جسے 14 ماہ کے قلیل مدت میں مکمل کیا جانا تھا تاہم منصوبے کی تعیمر میں 10 برس لگے۔

اس ضمن میں پی سی ون کے تحت 2015 میں عملہ بھرتی کیا گیا اور اس وقت ہسپتال کی انتظامیہ نے اسٹاف سے وعدہ کیا تھا کہ وہ تنخواہوں کے بغیر اپنی خدمات جاری رکھیں، ملازمتیں مستقل ہونے کے بعد ان کے بقایاجات ادا کردیے جائیں گے۔

تاہم ملازمین کو مستقل نہیں کیا جا سکا کیونکہ متعدد افراد کی عمریں ضوابط کے مطابق زیادہ ہوچکی تھیں اور اس صورت میں وزیراعظم کی خصوصی اجازت درکار ہوتی ہے جو اب تک نہیں مل سکی۔

اس سلسلے میں ڈاکٹرز نہ صرف پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش ہوئے بلکہ اسلام آباد ہائی کورٹ (آئی ایچ سی) سے بھی رجوع کیا لیکن ان کو مستقل کیے جانے کا معاملہ حل نہیں ہوسکا۔

کارڈیک سینٹر پمز کے ڈاکٹروں اور اسٹاف کی تنخواہیں فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے ادا نہیں کی گئیں۔

تاہم 2018 میں سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی مداخلت پر عارضی ملازمین کی 30 ماہ کی تنخواہیں ادا کرنے کے ساتھ ان کے معاہدوں میں بھی توسیع کردی گئی تھی۔

اس حوالے سے وفاقی سیکریٹری صحت ڈاکٹر اللہ بخش ملک نے بتایا کہ وزارت سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق کام کرے گی۔

انہوں نے بتایا کہ ’کارڈیک سینٹر کے بعض ڈاکٹرز فیڈرل پبلک سروس کمیشن (ایف پی ایس سی) کے امتحانات میں پاس ہوئے تھے، ڈاکٹر ہسپتال میں اچھا کام کررہے ہیں اور ہمیں انہیں مستقل کرنے کی ضرورت ہے‘۔

جس پر سینیٹ کمیٹی کے رکن ڈاکٹر اشوک کمار اور جاوید عباسی نے کہا کہ 20 سال قبل پاس ہونے والا ڈاکٹر کس طرح امتحان پاس کرسکتا ہے۔

ڈاکٹر اشوک کمار نے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم تھا کہ ڈینٹل سرجن پمز کا ایگزیکٹو ڈائریکٹر نہیں بن سکتا اور سابق ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو بھی اسی وجہ سے برطرف کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اب ایک مرتبہ پھر ڈینٹل سرجن کو ایگزیکٹو ڈائریکٹر تعینات کردیا گیا ہے جو عدالت عظمیٰ کے حکم کی خلاف ورزی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ بیوروکریسی سپریم کورٹ کا حکم صرف اس وقت تسلیم کرتی ہے جب فیصلہ ان کے حق میں ہو‘۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے کمیٹی کو بتایا کہ ’یہ ناممکن ہے کہ 18 برس قبل پڑھنے والے کورس کو امتحان میں پاس کیا جا سکے، 20 ہزار امیدواروں میں سے صرف 290 نے امتحان پاس کیا اور کارڈیک سینٹر سے صرف پروفیسر ڈاکٹر فرید اللہ نے امتحان پاس کیا تھا کیونکہ وہ پڑھا رہے تھے‘۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ سپریم کورٹ نے ایف پی ایس سی کے ذریعے ڈاکٹروں کی سروس کو مستقل کرنے کی ہدایت نہیں دی تھی۔

بعدازاں کمیٹی نے مذکورہ معاملہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن، ایف سی پی ایس اور پارلیمانی امور کی وزارت کو منتقل کردیا۔

متعلقہ خبریں