Daily Mashriq

صنعتوں کو سستی بجلی کی فراہمی کا احسن اقدام

صنعتوں کو سستی بجلی کی فراہمی کا احسن اقدام

صوبے کے اپنے وسائل سے تعمیر شدہ پیہور بجلی گھر سے اٹھارہ میگاواٹ کی بجلی مختلف صنعتی شعبوں کو سستے داموں فروخت، صنعتوں کے فروغ اور ایندھن کی کمی اور مہنگے ہونے کے مسائل کے حل کی طرف سنجیدہ پیشرفت ہے جس سے صنعتوں کو سستی اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی ممکن ہوگی۔ صوبے میں صنعتوں کے قیام سے کاروبار، معیشت اور روزگار کے مختلف سطح کے مواقع اور فوائد کا حصول فطری امر ہوگا۔ خیبرپختونخوا صنعتوں کے قیام کے معاملے میں کافی پیچھے ہے، دہشتگردی کیخلاف جنگ کے دوران صوبے سے صنعتوں وکاروبار کی منتقلی اور سرمائے کا فرار خاص سنگین مسئلہ رہا، اگرچہ اب حالات میں بہتری آئی ہے لیکن صنعتوں اور سرمائے کی واپسی نہیں ہوئی جس کیلئے ایسے اقدامات کی ضرورت ہے جو سرمایہ کاروں کو راغب کرے۔ اگر دیکھا جائے تو خیبرپختونخوا میںسابقہ فاٹا کے ناقابل ذکر صنعتی زونز ہوں یا پھر گدون امازئی حطار اور صوبے کے دیگر صنعتی مقامات انہیں جب تک سرکاری طور پر مراعات ملتی رہیں اور حالات موافق رہے تب تک یہ صنعتی زونز آباد رہے جیسے ہی حالات بدلے صنعتکاروں نے سرمایہ نکال کر صنعتی زونز کو قبرستان بنادیا۔ صوبے میں صنعتوں کو بجلی اور گیس کی کمی گھنٹوں گھنٹوں بجلی اور گیس کی بندش کے باعث جس صورتحال کا سامنا رہا اس میں صنعتی نمو تو درکنار لگی صنعتوں اور کارخانے چلانا مشکل ہوگیا۔ خام مال سے لیکر ہنر مند کارکنوں کا نہ ہونا جیسے مسائل اور بطور خاص امن وامان کی صورتحال جیسی وجوہات کے باعث معاملات صوبے میںصنعتی بدحالی کا باعث بنے۔ اس وقت تاجروں اور صنعتکاروں کو ٹیکسوں اور حکومتی اقدامات پر جو تحفظات ہیں یہ فضابھی سرمایہ کا ر دوست نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان حالات میں صنعتوں کو رعایتی نرخ پر بجلی کی فراہمی اور صوبائی حکومت کی طرف سے اپنے وسائل سے مزید بجلی منصوبوں کی تکمیل پر اس کی پیشکش محولہ حالات میں نیک شگون اور حوصلہ افزاء ہیں۔ صوبائی حکومت کو اس امر کی جانب بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ صوبے میں پیدا ہونیوالی گیس کی پیداوار سے صوبے کی صنعتوں کو تسلسل اور رعایتی نرخوں پر گیس کی فراہمی کے منصوبے پر غور کرے، اس کے قانونی پہلو جو بھی ہوں بجلی اور گیس کی اپنے وسائل سے ترسیلی نظام کا قیام ایک نہایت مشکل اور خطیر لاگت کے منصوبے کی ضرورت ہوگی۔ صوبائی حکومت کو جہاں خود کی پیداکردہ بجلی فروخت کر کے جو رقم حاصل کرے اور خود پیدا کردہ بجلی مقامی صنعتوں کو دینے سے جو آمدنی ہو اس کا ایک حصہ مزید اسی شعبے میں سرمایہ کاری اور ترسیلی نظام تشکیل دینے کیلئے مختص کردینا چاہئے تاکہ صوبہ خود کفالت کی منزل کی طرف گامزن ہو۔خود پیدا کردہ بجلی کا آپ کو استعمال اسلئے بھی ہونا چاہئے کہ وفاق صوبے کو بجلی کے خالص منافع ہی میں سے حصہ کی ادائیگی میں لیت ولعل سے کام نہیں لے رہا بلکہ صوبے میں پیدا ہونے والی سستی بجلی عوام کو اضافی قیمت پر فروخت کرتی ہے۔ حالات جس طرف گامزن ہیں اس میں ایک وقت ایسا آسکتا ہے کہ مرکز صوبوں کو فنڈز کی فراہمی میں مزید سختی کا مظاہرہ کرے اس کی باز گشت خود وزیراعظم کے ایک بیان میں سنائی دی تھی جسے آگے نہ بڑھا یا جاسکا۔ صوبے کی صنعتوں کو سستی بجلی کی فراہمی سے صوبے میں ملازمتوں اور کاروبار کے جو مواقع میسر آئیں اس میں عام آدمی کے بھی مستفید ہونے کا کوئی حصہ اور ذریعہ تلاش کیا جانا چاہئے تاکہ صوبے کے وسائل میں ہر کسی کو حصہ مل سکے اور محض یہ صنعتکا ر اور کاروباری طبقے ہی کو نوازے جانے کا ذریعہ بن کر نہ رہے۔

افغان سفیر کا دھمکی آمیز رویہ

پاکستان میں تعینات افغانستان کے سفیر کا افغان مارکیٹ کے حوالے سے عدالتی احکامات کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تعمیل پر برہمی اور سفارت خانہ بند کرنے کی دھمکی ملکی عدالت کے فیصلے کی توہین ہے۔پاکستان کی حکومت نے افغان مارکیٹ پر قبضہ نہیں کیابلکہ عدالت نے ایک فریق کے حق میں فیصلہ دیا ہے اور عدالت نے دوسرے فریق کے موقف کو تسلیم نہیں کیا جس کا افغان سفیر کو احترام کرنا چاہئے تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کسی ملک کے سفیر کو اس قسم کے معاملات میں اس حد تک ملوث نہیں ہونا چاہیے کہ ملکی قوانین کی توہین ہو۔ سفارتی استثنیٰ کا اس حد تک غلط استعمال دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی توہین ہے، اصولی طور پر افغان سفیر کو اپنے ملک کا پرچم خود ہی اس وقت احترم کیساتھ اُتارلینا چاہئے تھا جب وہ عدالتی جنگ ہار گئے تھے ان کو اس کی نوبت نہیں آنے دینا چاہئے تھا کہ عدالت کی انتظامیہ کو مارکیٹ کا قبضہ دینے کا دوبارہ حکم دینا پڑتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افغان سفیر کی دھمکی بلاجواز اور ایک سطحی معاملے میں خواہ مخواہ ملوث ہونا ہے۔ سفارتی دھمکی کی آڑ میں ملکی قوانین پر عملدرآمد اور عدالتی احکامات کی تعمیل رکوائی نہیں جاسکتی۔توقع کی جانی چاہئے کہ افغان سفیر اپنے قول وعمل کے قانونی، اخلاقی اور سفارتی طور پر ایک مرتبہ پھر جائزہ لیں گے اور ملکی قانون کی خلاف ورزی کا باعث بن کر ناپسندیدہ شخصیت نہیں قرار پائیں گے۔ افغان سفیر کو دھمکی آمیز لب ولہجہ اختیار کرتے ہوئے یہ نہیں بھولنا چاہئے تھا کہ پاکستان نے وطن سے فرار ہونے والے کتنے افغانوں کو پناہ دی اور ان کو پناہ گزین کی حیثیت دینے کی بجائے ملکی شہریوں کے برابر کا درجہ دیا۔ اب بھی لاکھوں افغان پناہ گزین غیرقانونی طور پر تجارت وکاروبار سے وابستہ ہیں اوروطن واپسی کا نام نہیں لیتے، بہتر ہوگا کہ افغان سفیر معاملے کو انا کا مسئلہ بنانے کی بجائے وسیع تناظر میں دیکھیں اور ایسے اقدامات میں ملوث نہ ہوں کہ جس کی گنجائش نہیں۔

متعلقہ خبریں