Daily Mashriq

تاجر برادری ہڑتال سے گریز کرے

تاجر برادری ہڑتال سے گریز کرے

ایف بی آراور تاجروں کے درمیان مذاکرات کی ناکامی کے موقع پر اسلام آبادمیں تاجروں کا مظاہرہ اور تاجروں کا ماہ رواں کے آخر میں اس وقت ملک گیر ہڑتال کا اعلان جب جے یوآئی اور حزب اختلاف کی جماعتوں کے کارکن ممکنہ طور پر سڑکوں پر ہوں گے حکومت کیلئے یک نہ شد دو شد والی صورتحال ہوگی۔تاجروں کے دیگر مطالبات ٹیکسوں میںرعایت جیسے معاملات پر تو مذاکرات کی کامیابی ممکن ہے مگر تاجروںکی جانب سے شناختی کارڈ کی شرط سے انکار قابل قبول امر نہیں اور نہ ہی تاجروں کے پاس اس سے انکار کا کوئی ٹھوس جواز ہے۔ کئی مواقع اور کئی مراحل ایسے ہوتے ہیں جس میں ہم بلا جھجھک شناختی کارڈ کی کاپی دے دیتے ہیں اور ہمیں اعتراض نہیں ہوتا تاجروں سے شناختی کارڈ کی طلبی اور مال کی حمل ونقل وخریدوفروخت کا ریکارڈ سمگلنگ کی روک تھام کیلئے اگر قانونی ضرورت ہے تو اس سے انکار نہیں ہونا چاہئے۔دوہرے ٹیکسوں کے نفاذ اور مراعات کے مطالبات پر حکومت کو ہمدردانہ غور کرنا چاہیے حکومت تاجروں کو ٹیکس وصولی کی مشین نہ بنائے بلکہ ان کو کاروبار کے بہتر مواقع بھی فراہم کرے۔ بہتر ہوگا کہ تاجر شناخی کارڈ کے معاملے کو انا کا مسئلہ نہ بنائیں اور وسیع تر قومی مفاد میں اس شرط کو تسلیم کریں۔ بہتر ہوگا کہ تاجربرادری کاروبار چھوڑ کر سڑکوں پر نکلنے سے گریز کرے اور ایسا تاثر نہ دیں کہ تاجر برادری سمگلنگ کے مال کی فروخت میں دلچسپی رکھتی ہے اور دستاویزی معیشت نہیں چاہتی تاکہ ان کا دھندہ چلتا رہے اور جوابدہی کی نوبت نہ آئے۔

مذاکرات کئے بغیر مسئلے کا حل ممکن نہیں

خیبر پختونخوا کے سرکاری ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹس اور ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسرز کی حکومت کو ہڑتالی ملازمین کیساتھ مذاکرات کیلئے فوری بااختیار کمیٹی بنانے اور ایکٹ کو مرحلہ وار بنیادوں پر نافذ کرنے کی تجویز قابل غور اور درمیانی راستہ ہے۔ انہوں نے ایکٹ کے رولز اور ریگولیشن میں قانون پر پائے جانیوالے خدشات کو ختم کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔حکومت اور ڈاکٹر برادری نصف ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ یہ صورتحال اگر ایک ماہ اور بھی جاری رہتی ہے تب بھی صورتحال میں تبدیلی نہیں آسکتی۔ ہر دو فریق اپنے موقف پرسختی سے قائم ہوں اور کسی درمیانی صورت کی تلاش میں کوئی ثالثی کا کردار ادا کرنے والے آگے نہ آئیں تو صورتحال میں تبدیلی ممکن نہیں۔ ہم قبل ازیں بھی بار بار فریقین کو مفاہمت کا راستہ اختیار کرنے اور مل بیٹھ کر اس صورتحال سے نکلنے پر زور دیتے رہے ہیں ایک مرتبہ پھر فریقین سے گزارش کی جاتی ہے کہ وہ اپنے اپنے موقف میں لچک اور نرمی لائیں تاکہ اس صورتحال کا خاتمہ ہو اور غرب مریض جس طرح تڑپ رہے ہیں اور علاج معالجہ کی سہولتوں سے محروم ہورہے ہیں ان کے زخموں پرمرہم رکھنے والا کوئی ہو۔اس طرح کی صورتحال بہت عرصہ قائم نہیں رکھی جا سکتی، صوبائی حکومت کو بالآخر ڈاکٹروں سے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔ حکومت اگر شروع دن سے تشدد اور اکڑ کا راستہ اختیار نہ کرتی تو ممکن ہے حالات اس نہج کو نہ پہنچ جاتے۔ مسئلے کا حل مذاکرات میں ہے خواہ اب کئے جائیں یا پھر مہینوں کی تاخیر سے۔

تنازعہ جلد طے کیا جائے

لینگ لینڈ سکول چترال کی بندش اور طالب علموں کی تعلیم کا حرج ہی مسئلہ نہیں بلکہ غیر ملکی پرنسپل اور اساتذہ کے درمیان رسہ کشی اور کشیدگی بھی تعلیمی ماحول کیلئے بہتر نہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ کشیدگی کی وجوہات کاکہیں تذکرہ نہیں ملتا اساتذہ اپنے تنخواہوں میں اضافہ اور مراعات کا بھی مطالبہ نہیں کرتے، ایسے میں سوائے تدریس اور اساتذہ کی قابلیت بارے غیر ملکی پرنسپل کا استفسار ہی تنازعہ کی ممکنہ وجہ ہے جس میں ان کا حق بجانب ہونا فطری امر ہے۔لینگ لینڈ سکول میں بغیر میرٹ کے بھرتیاں اور منظور نظر افراد کو کھپانے کے باعث سکول کا معیار روزبروز گررہا ہے جسے سنبھالا دینے اور اساتذہ وغیر ملکی پرنسپل کے درمیان کشیدگی کا خاتمہ جتنا جلد ہواتنا ہی بہترہوگا۔

متعلقہ خبریں