Daily Mashriq

آزادی مارچ میں طاقت نہیں

آزادی مارچ میں طاقت نہیں

کا کمال یہ ہے کہ اس کے لبادے میں کبھی سچ کا ایک تار بھی محسوس نہیں ہوتا اور پاکستانی سیاست کا طرۂ امتیاز ہے کچھ بھی ہو جائے سچائی تو کیا نیک نیتی کی بھی جھلک محسوس نہیں ہونی چاہئے۔ جمہوریت کی ان دہائیوں میں، پاکستان کے عوام کو کچھ اور یاد ہوا ہو یا نہیں یہ ضرور یاد ہوگیا کہ جس کو ووٹ دیتے ہیں اس کو دیتے چلے جائیں کیونکہ دوسرے بھی ان سے قطعی مختلف نہیں۔ تحریک انصاف نے لوگوں کے دلوں میں جو اُمید جگائی اس کی زندگی بھی بڑی کمزور سی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی قیادت پر کسی کو شک نہیں، ان کی ٹیم کی اہلیت پر کئی سوالات اُٹھتے ہیں۔ احتجاج بھی اسی سیاست کا حصہ ہیں اور سیاست کو زندہ رکھنے کیلئے اہم ہیں۔ مولانا فضل الرحمن اور جمعیت علمائے اسلام کے حوالے سے بھی عوام کی رائے مستقل ہے۔ ساڑھے تیرہ ہزار مدرسوں کی طاقت کا ہاتھ اپنے کاندھوں پر محسوس کرتے مولانا فضل الرحمن یقینا یہ خیال کرتے ہوں گے کہ حکومت ان کے دھرنے کا سنتے ہی تھرتھر کانپنے لگے گی۔ گھٹنے ٹیک دے گی اور اگر ذراسی انہوں نے چوں چراں کرنے کی کوشش کی تو پھر مولانا فضل الرحمن کی بیش بہا سیاسی طاقت تو سب ہی جانتے ہیں۔ ایسے قہر کا سامنا کرنا پڑے گا کہ حکومت وقت کی نسلیں یاد رکھیں گی۔ جس جگہ سے مولانا فضل الرحمن اس سارے منظر کو دیکھ رہے ہیں، یقینا یہی کچھ دکھائی دیتا ہوگا۔ اگر کامیابی کا وہم اتنا ہی طاقتور نہ ہو تو قدم اُٹھانا یقینا مشکل ترین ہوتا چلا جاتا ہے۔ پھر ساتھی اور حواری بھی نظربندی میں ممد ومعاون ثابت ہوتے ہیں کیونکہ وہ اپنے لفظوں سے اگر اپنے لیڈران کی آنکھوں کے سامنے ایک منظر کھینچ دیتے ہیں یہ منظر دل کی خواہشات کا مظہر ہوا کرتا ہے اسلئے لیڈران نہایت خوشی سے اس فریب نظر کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یقینا یہ ساری ہی کیفیات مولانا فضل الرحمن پر بھی گزر رہی ہوں گی۔

اس منظر کے کئی پہلو ہیں۔ ایک پہلو تو خود مولانا فضل الرحمن اور جمعیت علمائے اسلام کا ہے جس کا کچھ اعادہ تو میں آپ کے سامنے کر ہی چکی ہوں لیکن فریب نظر کیساتھ ساتھ حقیقت کی کچھ شمعیں روشن کرنا بھی ضروری ہیں۔ مولانافضل الرحمن کی طاقت یقینا وہ مدرسے ہیں جنہیں جہاد کیلئے پاکستان میں استعمال تو کیا گیا لیکن اب ضروریات بدل چکی ہیں۔ مولانا بھی عمر رسیدہ ہیں۔ ایمان کی طاقت بلاشبہ بڑی چیز ہے لیکن سن رسیدگی بہرحال احتجاج اور جلسے جلوسوں، دھرنوں میں اپنا آپ دکھا کر رہتی ہے، ہاں قاضی حسین احمد صاحب کو میں نے کئی معاملات میں بالکل مختلف پایا تھا۔ لیکن پھر یہی فرق جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام کا بھی ہے۔ بہرحال مولانا فضل الرحمن اس آزادی مارچ اور دھرنے سے جن نتائج کی توقع کر رہے ہیں مجھے امید نہیں کہ یہ خواب سچے ہوسکیں۔ ہاں حکومت وقت کا کچھ علم نہیں۔ وزیرداخلہ نے جس طور کے بیانات شروع کر رکھے ہیں ان سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ حکومت کیساتھ نہیں بلکہ مولانا فضل الرحمن کیساتھ ہیں۔ جھال دے کر تو عام بہتے پانی میں اتنی طاقت پیدا کی جا سکتی ہے کہ اس سے ٹربائین چلائی جائے اور بجلی پیدا ہو۔ مولانا فضل الرحمن کے جس اقدام کو وہ خودکشی قرار دے رہے ہیں اس کے حوالے سے کئی سوالات بنتے ہیں۔ اگر بات سیاسی خودکشی کی ہے تو ایسی قطعی کوئی بات نہیں۔ مولانا فضل الرحمن کی سیاست آخری دموں پر ہے فوج سے تعلقات دگر گوں ہے وہ جو طاقت تھی اب خطرے میں ہے، ایسے میں مولانا اپنی سیاست میں ایک نئی زندگی پھونکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر حکومت ردعمل نہ دے، کسی احتجاج، دھرنے سے نہ روکا جائے تو جھال پیدا نہ ہوگی، وہ آئیں گے اور بہہ جائیں گے۔ وقت بہتا رہے گا، حکومت اپنے کاموں میں مصروف رہے گی۔ ہاں روکنے کی کوشش میں ہو سکتا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی سیاسی شمع کچھ دیر کو بھڑک اُٹھے خاص طور پر اس وقت جبکہ اسلام آباد میں تاجر بھی موجود ہیں۔ وہ سامنے نہ بھی آئیں کم ازکم فنڈنگ تو کر ہی لیں گے اور مولانا کو سہارا ہو جائے گا۔اس منظر کے کچھ پہلو وہ دوسری سیاسی جماعتیں بھی ہیں جو پہلے مولانا فضل الرحمن کی حامی رہی ہیں اور جب وہ خود حکومت میں تھیں تو مولانا فضل الرحمن ہمیشہ ان کے ساتھی اور شامل حکومت رہے۔ لیکن اب مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کے حوالے سے وہ اپنے رویوں سے یہ ظاہر کررہے ہیں کہ وہ اس سب میں شامل نہیں۔ میاں شہباز شریف نے تو صاف ہی کہہ دیا کہ آزادی مارچ کا سارا کریڈٹ خود مولانا فضل الرحمن لے جائیں گے اس لئے اس وقت اس احتجاج میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں۔ دوسری جانب ایک طبقۂ فکر کا خیال یہ ہے کہ اگر حکومت وقت سے مفاہمت کی کوئی صورتحال بن رہی ہوگی تو اس کا امکان بھی باقی نہ رہے گا۔ بلاول بھٹو اور پیپلزپارٹی نے بھی نہایت خوبصورتی سے دامن بچا لیا۔ سو اس احتجاج میں مولانا فضل الرحمن اکیلے ہی ہوں گے۔ میلہ ویسا نہ لگ سکے گا جس کی اُمید تھی اور اگر میلہ صحیح طور نہ سجا تو یقینا بکری بھی ویسی نہ ہو پائے گی جس کا امکان تھا۔ جلسے، مارچ اور دھرنے تو سیاسی میلے ہی ہوتے ہیں جماعتیں اکثر اپنی طاقت اور رنگینی دکھا کر لوگوں اور طاقت والوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی رہتی ہیں لیکن اس میلے میں شاید خاطر خواہ نتائج حاصل نہ ہوسکیں۔حکومت وقت کو اس وقت یہ سوچنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ محض مولانا فضل الرحمن کی گزشتہ طاقت سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ معاملات کا تجزیہ ان کی اصل صحت کے حساب سے کیا جانا ضروری ہے ورنہ نتائج کا رُخ بدلنے کا اصل بوجھ خود حکومت کے کاندھوں پر ہوگا۔ اس وقت اس آزادی مارچ میں اتنی طاقت نہیں، خدارا، اس میں طاقت بھرنے کی کوشش نہ کیجئے گا۔

متعلقہ خبریں