Daily Mashriq

خاموش مذاکرات

خاموش مذاکرات

کی کوششوں سے کسی کو مفر ممکن نہیں لیکن انسان اپنا مقدمہ جس طرح سے خود پیش کر سکتا ہے کسی دوسرے سے اس کے عشرے عشیر کی بھی توقع نہیں کی جاسکتی، بسا اوقات تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان اپنے مقدمہ کیلئے جن بیساکھیوں پر اکتفا کر رہا ہوتا ہے وہ بیساکھیاں انتہائی کمزور ثابت ہوتی ہیں یا نتائج کے اعتبار سے ایسا ہوتا ہے کہ بندے کو لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔ ایران اور سعودی عرب ایک دوسرے کے حریف سمجھے جاتے ہیں اور ایک طویل عرصہ سے مدمقابل بھی ہیں، شام اور یمن میں دونوں ممالک کے مفادات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں لیکن ایک بات طے ہے کہ عشروں سے مسلم امہ کا ہی نقصان ہورہا ہے کیونکہ ہر دوجانب سے اسلامی ممالک برسرپیکار ہیں، اغیار تو چاہتے ہی یہ ہیں کہ مسلم امہ کی طاقت کو آپسی مسائل میں اُلجھا کر کم کر دیا جائے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ مسلم اُمہ میں کوئی ایک لیڈر بھی ایسا نہیں ہے جو حقیقی معنوں میں مصالحت کا کردار ادا کرے اور مسلم اُمہ آپس میں لڑنے کی بجائے اپنے مسائل سے لڑ کر اپنے اپنے ملک کے عوام کو مسائل سے چھٹکارا دلائے اب ایسی خبریں سامنے آرہی ہیں کہ ایران اور سعودی عرب کسی ملک پر انحصار کرنے کی بجائے خود ہی مصالحت کی کوششیں کرتے دکھائی دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کو جنگ کے دہانے تک پہنچانے والی برسوں سے جاری بڑھتی دشمنی اور اثر ورسوخ میں اضافے کے مقابلے کے بعد اب ایران اور سعودی عرب نے کشیدگی کے خاتمے کیلئے بالواسطہ طور پر ’’خاموش مذاکرات‘‘ کا آغاز کر دیا ہے۔

امریکی اخبار کی رپورٹ کے مطابق مذاکرات اگرچہ بالواسطہ ہیں لیکن اس کے باوجود اسے شاندار پیشرفت کہا جا سکتا ہے کیونکہ چند ہفتوں قبل ہی الزامات اور سخت بیانات کی شدید جنگ جاری تھی اور سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملہ ہوا جس کے بعد صورتحال تیزی سے بگڑتی نظر آئی۔ دونوں ملکوں کے درمیان مصالحت کے خطے بھر میں دوررس مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ممکن ہے کہ اس حل کے نتیجے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو تنہا کرنے کیلئے عرب ممالک کا اتحاد قائم کرنے کا منصوبہ ناکام ہو جائے۔

ایران نے ایسی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پس پردہ یا کھل کر سعودی عرب کیساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہے۔ وزیراعظم عمران خان کیساتھ جدہ میں گزشتہ ہفتے ملاقات میں شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا تھا وہ جنگ سے بچنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے وزیراعظم کو اس معاملے میں شامل ہونے کیلئے کہا۔ اس کے بعد عمران خان نے اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کی تھی۔ دوسری جانب عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے چند روز بعد ہی عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے بھی جدہ کا دورہ کیا تھا۔ شہزادہ محمد نے وزیراعظم عادل عبدالمہدی سے ایران کیساتھ ثالثی کی بات کی جس پر عراق کی طرف سے تجویز دی گئی کہ وہ مذاکرات کیلئے بغداد کو ملاقات کا مرکز بنا سکتے ہیں۔ سعودی عرب کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم نے بغداد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ سعودی عرب اور ایران نے مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے، ساتھ ہی یمن نے بھی اچھا ردعمل دکھایا ہے عادل عبدالمہدی نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کوششوں کا بہتر نتیجہ نکلے گا۔ ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف نے بھی کہا کہ ہم سعودی عرب کو گلے لگانے کیلئے تیار ہیں لیکن صرف اس صورت میں جب ترجیح دوستانہ تعلقات ہوں نہ کہ امریکا سے اسلحے کی خریداری ایران نے ہمیشہ سے ہی سعودی عرب کو امریکا اور اسرائیل سے دور رکھنے کی کوشش کی ہے لیکن سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کے بعد ٹرمپ کی جانب سے ایران کیخلاف فوجی کارروائی سے انکار کی وجہ سے لگتا ہے کہ ایران سعودی مذاکرات کیلئے اُمید کی کرن پیدا ہوئی ہے

وائٹ ہاؤس کے سابق کوآرڈینیٹر برائے مشرق وسطیٰ فلپ گورڈن کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے سعودی عرب ایران کیساتھ تعلقات کی راہیں تلاش کر رہا ہے کیونکہ یہ سعودی عرب کیلئے ایک بھیانک خواب ہوگا کہ وہ اس توقع کیساتھ ایران کیساتھ تصادم کی راہ پر گامزن ہو کہ امریکا مدد کرے گا اور بعد میں اسے پتہ چلے کہ امریکا مدد نہیں کرے گا۔ فلپ نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے سعودی عرب پر واضح کر دیا ہے کہ امریکی انتظامیہ ایران پر حملہ کرنے کیلئے بالکل تیار نہیں۔ کونسل آن فارن ریلیشنز کے نامور فیلو مارٹن انڈائیک کہتے ہیں کہ ایران مخالف اتحاد اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، لگتا ہے کہ محمد بن سلمان ایران کیساتھ معاہدے کیلئے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں۔ اتحاد کے ٹوٹ پھوٹ کے اشارے کچھ یوں ہیں کہ ٹرمپ کے عقابی سوچ کے حامل صلح کار جان بولٹن گھر جا چکے ہیں، اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اپنے سیاسی کیریئر کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں جبکہ ٹرمپ خود بھی حالیہ دنوں میں ایران کیساتھ براہِ راست مذاکرات کی کوششیں کر چکے ہیں۔ ایران اور سعودی عرب کے درمیان ’’خاموش‘‘ مذاکرات کی خبریں اگر درست ہیں تو یہ نہایت خوش آئند بات ہے اور امن پسند خصوصاً خطے کے ممالک کیلئے اطمینان کا باعث بنیں گی۔ اس سارے پس منظر میں ایران اور سعودی عرب پاکستان کی قیادت پر اعتماد کرتے ہیں سو اس تناؤ کو کم کرانے میں پاکستان چونکہ اہم کردار ادا کر سکتا ہے اسلئے پاکستان کو بھرپور کردار ادا کرنا چاہئے تاکہ خطے سے جنگ کے خطرات ختم ہوں، پاکستان کو اس لئے بھی کردار ادا کرنا چاہئے کیونکہ یہ مسلم اُمہ کا معاملہ ہے، پاکستان کی سیاسی وعسکری قیادت کے پیش نظر یہ بات بھی ہونی چاہئے کہ اگر دواسلامی ممالک کے مابین مصالحت کیلئے پاکستان کوئی کردار ادا نہیں کرتا تو پھر اس آگ کو بجھانے کیلئے کون سامنے آئے گا؟۔

متعلقہ خبریں