Daily Mashriq

کاہے کو بیاہی بدیس رے، سکھی بابل مورے

کاہے کو بیاہی بدیس رے، سکھی بابل مورے

اکتوبر کے مہینے کی گیارہ تاریخ ہے اور پاکستان سمیت ساری دنیا میں کم سن لڑکیوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں2012 کے دوران منظور کی جانے والی ایک قرارداد کے تسلسل میں یہ دن ہر سال اکتوبر کے مہینے کی گیارہ تاریخ کو منایا جاتا ہے جس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ خوش قسمت ہوتے ہیں وہ ماں باپ جن کے گھر آنگن میں کوئی گڑیا جیسی بچی کونپل بن کر پھوٹتی ہے اور وہ جوں جوں کم سنی کی نازک اور معصوم عمریا کو طے کرنے لگتی ہے تو کبھی کبھی اس کو اس بات کا بھی احساس ہونے لگتا ہے کہ وہ ایک لڑکی ہے اور ہمارے معاشرے میں جتنی اہمیت لڑکے کو دی جاتی ہے اسے اس سلوک کا حقدار گردانا نہیں جاتا، اس بات کا احساس نہ صرف بیٹی کو رہتا ہے بلکہ اس آگ میں اس کی ماں بھی جلتی بھنتی رہتی ہے

ایک نے بیٹی، ایک نے بیٹا جنم دیا ہے

کتنا فرق ہے، ہم دونوں کی ماؤں میں

تقریباً ہر بیٹی کو اس بات کا احساس رہتا ہے کہ جتنا لاڈ پیار اور مراعات لڑکوں کو ملتی ہیں وہ اس سے محروم رکھی جاتی ہیں اس کو والدین کی جائیداد یا ان کا ترکہ کا حقدار نہیں سمجھا جاتا بلکہ بیٹوں کا جانا جاتا ہے، حضرت امیر خسرو نے اس ہی درد کو محسوس کرتے ہوئے لکھا ہے کہ

بھائیوں کو دئیے محل دو محلے

ہم کو دیا پردیس، سکھی بابل مورے

کتنے ظالم اور سنگدل ہوتے ہیں وہ لوگ جو بچیوں کے پیدا ہوتے ہی انہیں ’’پرائے گھر کا کوڑا‘‘ کہنے لگتے ہیں، ہم میں سے اکثر لوگ بچیوں کی پیدائش پر خوشیاں منانے کی بجائے ناک بھوں چڑھانے لگتے ہیں اور بعض اوقات تو یوں بھی ہوتا ہے کہ ہر سال لڑکے کی پیدائش کی آس میں عورت کو بچے پیدا کرنے کی مشین سمجھنے والے سسرالی بچیوں کی ماں سے محض اسلئے نفرت کرنے لگتے ہیں کہ وہ بیٹا پیدا کرنے کی بجائے بیٹیاں ہی پیدا کرتی رہتی ہے۔ بچیوں کی طلب نہ کرنے والے یا ان کی پیدائش پر نہ خوش ہونے والے نبی رحمتﷺ کے تشریف لانے سے پہلے کے دورجہالت کے ان عرب بدھوؤں سے کسی طور بھی کم سمجھے جانے کے قابل نہیں جو نومولود لڑکیوں کو پیدا ہوتے ہی زندہ درگور کردیا کرتے تھے۔ کم سن لڑکیاں جنہیں ہم بچیاں بالیاں بھی کہتے ہیں اور پیار سے کڑیاں چڑیاں بھی کہہ کر پکارتے ہیں کہنے کو تو اللہ تعالی کی رحمت بن کر اُترتی ہیں اپنے بابل کے گھر میں۔ لیکن ان پر جو گزرتی ہے یا ان کیساتھ جو سلوک روا رکھا جاتا ہے وہ دگرگوں ہے، بچیوں کو تحفظ دینا اور ان کی بہترین تعلیم وتربیت کا اہتمام کرنا نہ صرف والدین کا فرض ہے بلکہ یہ فریضہ ان کے والدین کے علاوہ ان کے دیگر رشتہ داروں اور متعلقین کے سر بھی آتی ہے، نبی رحمت حضرت محمد مصطفیﷺ جب نور رسالت لیکر ظلمت کدہ عالم میں تشریف لائے تو انہوں نے نومولود بچیوں کو جینے کا حق ہی نہیں دیا بلکہ انہوں نے اپنی لاڈوں پالی سیدہ فاطمۃ الزہرا کو ایسا پیار دیا جو اُمت مسلمہ کے ہر بیٹی کے والد کیلئے مثال کا درجہ رکھتا ہے، میرے آقا نے اپنی بچی کی ایسی تربیت کی کہ وہ نہ صرف خود خاتون جنت کے منصب پر فائز ہوئیں بلکہ اپنے لاڈوں پالے صاحبزادوں کو بھی شباب اہل الجنۃ کے درجے پر فائز کردیا۔ ہمارے معاشرے میں کم سن بچیوں کو ایسے درخت سے تشبیہ دی جاتی ہے جس کے پلنے بڑھنے میں دیر نہیں لگتی، وہ کسی کا گھر آنگن سجانے کی ٹریننگ اپنے معصوم بچپن ہی میں شروع کردیتی ہیں، گڈے گڈی کا کھیل کھیل کر، گڈے گڈی کی شادی رچا کر، گیند گیٹا کھیلتے ہوئے شادی بیاہ کے بالک ٹپے گا کر، کسی سکھی سہیلی کی شادی بیاہ میں ڈھولک کے گیت گا کر، چوڑیاں پہن کر مہندی کے رنگ سجا کر بچیاں اپنے بچپن اور لڑکپن ہی میں دلہن بننے کا خواب بننے لگتی ہیں، یہ سب اس کی جبلت میں شامل ہوتا ہے، وہ قدرتی طور پر تربیت کے اس عمل سے گزرتی ہیں اور جب ان کے ماپے ان کے ہاتھ پیلے کرکے انہیں ڈولی بٹھاکر رخصت کرنے لگتے ہیں تو وہ بابل کی جنت سے رخصت ہوتے وقت چیخ چیخ کر رونے لگتی ہیں، نثار کر دیتی ہے اپنے ماں باپ کی جنت کو اپنے پی نگر کی اس جنت پر، یہی وہ موقع ہوتا ہے جب بچیوں کو دیا جانے والا وہ تحفہ ان کے کام آتا ہے جو وہ اپنے ماں باپ کے گھر سے رخصت ہوتے وقت اپنے ساتھ لیکر جاتی ہیں، آپ اپنی بچیوں کو کروڑہا روپوں کا جہیز دے ڈالیں لیکن اگر آپ نے ان کو اچھی تعلیم وتربیت نہیں دی تو سمجھ جائیے کہ آپ نے انہیں کچھ نہیں دیا، تعلیم وتربیت ایسا زیور ہے جس سے بچیوں کی زندگی سنور جاتی ہے اور یوں ان کی گود میں پروان چڑھنے والی نئی نسل کے بھی نصیب سنور جاتے ہیں، بیٹیاں خوبصورت ہوتی ہیں، تتلیاں کہلاتی ہیں ہم نے ان کو اس معاشرے کے جنگل کے گدھوں اور بھیڑیوں سے بچا کر رکھنا ہوتا ہے، بڑی ذمہ داری ڈال دیتا ہے ہمارا خدا ہمیں بچیوں کے نعمت سے نواز کر، آج بچیوں کا عالمی دن ہم سے ہماری بچیوں کا احوال جاننا چاہتا ہے

بیٹیاں نور نظر، دل کی صدا ہوتی ہیں

بیٹیاں مثل دعا مثل شفا ہوتی ہیں

متعلقہ خبریں