Daily Mashriq

مولانا اتنے پُراعتماد کیوں ہیں؟

مولانا اتنے پُراعتماد کیوں ہیں؟

مولانا فضل الرحمن اس حکومت کو گھر بھیجنے کیلئے مکمل تیاری کئے بیٹھے ہیں اور اس سارے معاملے کو لیکر حزب اختلاف کی جماعتیں حکمران جماعت سے زیادہ پریشان اور شش وپنج کا شکار نظر آتی ہیں۔ ویسے بھی حکومتی جماعت کو اپنی صفوں میں اُلجھن پیدا کرنے کیلئے کسی بیرونی طاقت کی ضرورت ہے ہی نہیں۔ مسلم لیگ ن کے رہنما اب تک یہ فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں کہ انہیں ان حالات میں کیا کرنا چاہئے۔ وہ مشاورت کرنے میں مصروف ہیں، کبھی نواز شریف کیساتھ، کبھی بلاول کیساتھ اور کبھی مولانا کیساتھ اور پاکستان پیپلز پارٹی تو اب تک اپنی ’’کبھی ہاں، کبھی ناں‘‘ کی پالیسی اپنائے ہوئے ہے جس پر وہ گزشتہ انتخابات سے ہی تکیہ کئے بیٹھی ہے اب چاہے وہ وزیراعظم کا الیکشن ہو یا آزادی مارچ کا معاملہ۔اس سب کے باوجود مولانا اپنے ارادے میں مصمم نظر آتے ہیں۔ ان کیلئے اکتوبر کا مطلب ہے اکتوبر۔ وہ اور ان کے حمایتی ملک بھر سے اسلام آباد میں اکھٹے ہوں گے اور اب تک کے منصوبے کے مطابق وہ حکومت کو گھر بھیجنے تک یہیں رکنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اب یہ سب کیسے ممکن ہوگا اس کا کوئی طریقۂ کار یا راستہ تو واضح نہیں مگر ہمارے ہاں سیاستدان ایسی چیزوں کی فکر ہی کب کرتے ہیں۔ وہ عقلی اور قابل عمل منصوبوں کی بجائے کسی خفیہ ہاتھ پر اکتفا کرنے کے حوالے سے زیادہ شہرت رکھتے ہیں۔

یہاں یہ سمجھنا مشکل ہو رہا ہے کہ جب اب تک مولانا کے ارادے یا طریقہ کار میں کوئی تبدیلی ہی نہیں آئی تو پاکستان پیپلز پارٹی اب کیا نیا سوچ کر اس میں شرکت کیلئے آمادگی ظاہر کر رہی ہے۔ اس سوال کا کوئی معقول جواب تو پی پی والوں کے پاس بھی نہیں ہوگا۔مسلم لیگ ن نے ایک لمبے عرصے تک اس مارچ میں شمولیت یا اس کی مخالفت میں کوئی واضح بیان جاری نہیں کیا اور اس حوالے سے پارٹی کی صفوں میں کافی شش وپنج بھی دیکھنے کو ملی مگر یوں لگتا ہے کہ اب ان کے پاس اپنی اعلیٰ قیادت کے پابند سلاسل ہونے کے باعث اس مارچ میں شمولیت کا جواز ہاتھ آہی گیا ہے۔ اس تمام تر مشاورت کا آغاز موسم گرما میں ہونے والی کثیر الجماعتی کانفرنس سے ہوا تھا جس کے نتیجے میں حتمی فیصلہ کرنے کیلئے ایک رہبر کمیٹی تشکیل دی گئی تھی مگر دونوں بڑی جماعتیں انکار اور اقرار میں ہی پھنسی رہیں۔ اب معاملہ یہ ہے کہ مسلم لیگ اور پی پی ایک اور کثیرالجماعتی کانفرنس چاہتے ہیں تاکہ اس معاملے پر مشاورت ہو سکے البتہ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ دونوں جماعتیں مارچ میں شرکت کیلئے کوئی حتمی فیصلہ کرنا چاہتی ہیں یا ان کا مقصد مولانا کا ارادہ بدلنا ہے۔مسلم لیگ اس وقت دو بیانیوں کے درمیان پھنسی ہوئی ہے اور اسے مولاناکے اس مارچ میں شرکت کے ممکنہ نتائج یا قیمت کے حوالے سے کئی خدشات لاحق ہیں۔ وہ ابھی جن حالات کا سامنا کر رہے ہیں کیا وہ اس کے باوجود کسی دھرنے یا احتجاج میں شمولیت اختیار کرنے کے متحمل ہو سکتے ہیں؟ یہاں یہ بات بھی نہایت قابل غور ہے کہ مسلم لیگ اس وقت صرف نیب یا ایف آئی اے جیسے ریاستی اداروں کے عتاب کا ہی شکار نہیں بلکہ یہ حلقوں کی سطح پر بھی سیاسی انتشار اور بحرانوں کا شکار ہے اور ایسے جلسوں اور دھرنوںکیلئے یہ حلقے سطح کی سیاسی تنظیمیں ہی لوگوں کو متحرک کرتی ہیں یعنی کہ اس پارٹی کو نواز شریف کے مارچ میں شامل ہونے کیلئے جوش اور شہباز شریف کی جھجھک سے کہیں زیادہ مسائل درپیش ہیں۔

دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو لاحق پریشانی یا اُلجھن کا سبب اس بیان سے واضح ہوجاتا ہے جو اس معاملے پر اظہارخیال کرتے ہوئے حزب اختلاف کے ایک رہنما نے دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سب ہی کو یہ حیرانی ہے کہ آخر مولانا مارچ کے حوالے سے اس قدر پُراعتماد کیوں ہیں؟ کیا ان کے پاس کسی قسم کی یقین دہانی یا گارنٹی ہے جس کا باقی سیاسی جماعتوں کو کوئی علم نہیں؟ سیاستدان کسی بھی غیرمتوقع اقدام کیلئے مصر ہوں تو انہیں ’’کسی‘‘ کی اشیرباد حاصل ہوتی ہے اور مولانا کے بارے میں تو یہ تاثر کافی مستحکم ہے کہ وہ باقیوں کی نسبت اس طرح کی اشیرباد کی طرف زیادہ مائل رہتے ہیں۔ سال 2014 کے دھرنوں کا سبب بھی عمران خان کا پارٹی سطح پر متفقہ فیصلہ یا مشاورت نہیں بلکہ ان سرگوشیوں کا نتیجہ تھا جو ان کے کان میں کہیں سے کی گئی تھیں۔ دھرنے کے حوالے سے اس وقت پارٹی کے اندر اس قدر اختلافات موجود تھے کہ خیر پختونخوا کے تمام منتخب نمائندوں نے اسمبلی سے استعفے دینے سے صاف انکار کر دیا تھا اور جو لوگ قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے تھے ان کے پاس بھی اختلاف کے باوجود اپنے استعفے جمع کروانے کے سوا کوئی راستہ ہی نہیں بچا تھا۔ عمران خان کو اس وقت کیا یقین دہانی کرا ئی گئی تھی یہ اب تک سامنے نہیں آیا مگر وہ جو بھی تھا، حقیقت بننے کیلئے نہیں تھا اور بلاآخر انہیں ایک نئے انتخابات کا مطالبہ منوائے بغیر ہی کنٹینر سے نیچے آنا پڑ گیا تھا۔ اس کی بنیادی وجہ یہی تھی کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تمام تر اختلاف اور بحرانی کیفیت کے باوجود آخرالذکر حکومت کو گھر بھیجنے میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے۔ سو اب یہاں ایک سوال باقی ہے کہ فرض کریں مولانا سے سرگوشیوں میں کوئی وعدہ کیا جا چکا ہے جس کے باعث ان کی آنکھیں چمک اُٹھی ہیں مگر سوال یہ ہے کہ وہ اس وعدے پرآخر اعتبار کیوں کر رہے ہیں؟ کیا وہ یہ بات نہیں سمجھ پارہے کہ یہ سرگوشیاں حکومت کو گھر بھیجنے کیلئے اس قدر بھی مائل نہیں جتنی کہ وہ سال2014 میں تھیں؟ یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ وہی ایک سوال ہے جس کے جواب کی تلاش کیلئے پاکستان پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ نواز ملاقاتیں درملاقاتیں کئے جا رہی ہیں۔

(بشکریہ ڈان، ترجمہ: خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں