Daily Mashriq

گیس کمپنیوں نے موسم سرما میں 55 ارب روپے کی سبسڈی کا بل تیار کرلیا

گیس کمپنیوں نے موسم سرما میں 55 ارب روپے کی سبسڈی کا بل تیار کرلیا

گیس کے گھریلو صارفین کی ضرورت کو پورا اور مہنگے نرخ پر درآمد شدہ مائع قدرتی گیس (ایل این جی) پر کم انحصار کرنے کے لیے سوئی سدرن گیس کمپنی اور سوئی ناردرن گیس کمپنی (دی سوئی سسٹر) کو حکومت سے 55 ارب روپے کی زرِ اعانت (سبسڈی) درکار ہے، جس کے بعد موسم سرما میں گھریلو صارفین کو گیس کی لوڈشیڈنگ کا خدشہ بڑھ گیا۔

واضح رہے کہ حکومت نے گزشتہ برس گھریلو صارفین کے لیے پہلی مرتبہ ایل این جی پر 29 ارب روپے کی سبسڈی جاری کی تھی۔

ایل این جی کی قیمت ایک ہزار 580 روپے ملین کیوبک فیٹ پر ڈے (ایم ایم سی ایف ڈی) کے مقابلے میں گھریلو گیس صارفین اوسطاً قیمت 300 روپے ایم ایم سی ایف ڈی فرق پڑے گا۔

اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) اگلے اجلاس میں معاملے کا جائزہ لے گی جس میں دونوں کمپنیاں اپنا اپنا موقف پیش کریں گی۔

پیٹرولیم ڈویژن میں ایک سینئر افسر نے ڈان کو بتایا کہ ای سی سی نے فیصلہ کیا تھا کہ ایل این جی ٹرمینل آپریٹرز کمرشل بنیادوں پر تھرڈ پارٹی سے مزید گیس حاصل کرسکیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ای سی سی نے فیصلہ کیا تھا کہ پرائیوٹ سیکٹرز کے برآمد اور درآمد کنندگان کو براہ راست دونوں کمپنیوں کے صارفین کو گیس فروخت کرنے کی اجازت ہوگی۔

ان کا کہن اتھا کہ ’سوئی اور ناردرن گیس کمپنیوں نے ای سی سی کے فیصلے پر احتجاج کیا اور موقف اختیار کیا تھا کہ پرائیوٹ آپریٹرز تمام اچھے صارفین کو اپنی طرف متوجہ کر لے گا جبکہ ہائی لاسز اور کم ریونیو والے صارفین ہمارے سسٹم میں رہ جائیں گے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ایس این جی پی ایل نے حکومت کو رپورٹ پیش کی تھی جس میں موسم سرما کے 4 سے 5 ماہ میں ایل این جی سے ڈومیسٹک گیس پر منتقل ہونے پر ارب 40 کروڑ بلین کیوبک فٹ یومیہ درکار ہوگی۔

حکام نے بتایا کہ ’اگر ایل این جی سے منتقلی کی اجازت نہیں دی گئی تو ایس این جی پی ایل گھریلو صارفین کو ایل این جی کو منتقل نہیں کر سکے گی جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر لوڈشیڈنگ کا امکان بڑھ جائےگا۔

واضح رہے کہ 9 اگست کو حکومت نے ملک کے 2 اہم گیس فیلڈز سے سستی گیس کی پیداوار روک دی تھی اور تیسرے سے پیداوار کو کم کردیا تھا۔

اس ضمن میں بتایا گیا تھا کہ ایل این جی کی وجہ سے دباؤ کا سامنا کرنے والے گیس نیٹ ورک میں بہاؤ ہموار رہے۔

سینئر پیٹرولیم حکام کا کہنا تھا کہ 'توانائی کے شعبے کی جانب سے وعدے کے مطابق مقررہ مقدار میں گیس نہ لینے کے باعث مقامی ذرائع سے 327 ملین کیوبک فیٹ پر ڈے (ایم ایم سی ایف ڈی) کا شٹ ڈاؤن ناگزیر تھا'۔

متعلقہ خبریں