Daily Mashriq


چوہدری نثار علی کا مشورہ

چوہدری نثار علی کا مشورہ

چوہدری نثارپرانے نون لیگی لیڈر ہیں۔ وہ اپنے حلقے میں بھی نہایت مقبول ہیں اور ہمیشہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرتے رہے ہیں۔ میاں نواز شریف کے نااہل قرار دیے جانے کے بعد انہوں نے ن لیگ کی نئی کابینہ میں وزارت کا عہدہ قبول نہیں کیا۔ تاہم انہوں نے کہا ہے کہ وہ میاں نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور انہوںنے اس پر پورا اترنے کی کوشش بھی کی ہے۔ ہفتہ کے روز انہوں نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا کہ پارٹی کو اداروں کے ساتھ محاذ آرائی سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ ان کا موقف ہے کہ پارٹی کو عدلیہ اور فوج سے محاذ آرائی نہیں کرنی چاہیے۔ انہوں نے یہ تاثر بھی دیا ہے کہ پارٹی میں اور بھی بہت سے لوگ ان کے نقطۂ نظر کے حامی ہیں۔ اس لیے اگر یہ سمجھا جائے کہ وہ مسلم لیگ سے اختلاف کرنے جا رہے ہیں تو یہ صحیح نہیں ہوگا۔البتہ ان کے اس موقف کے اظہار سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ وہ مسلم لیگ کو سیاسی پارٹی کے طور پر قائم رکھنے پرتوجہ دے رہے ہیں اور اداروں سے محاذ آرائی کی سیاست سے بچانا چاہتے ہیں۔ ہمارے ملک میں اکثر سیاسی پارٹیاں اپنے لیڈروں کے نام سے جانی جاتی ہیں جن میں مسلم لیگ ن سب سے نمایاں ہے کہ اس کے ساتھ ن کا لاحقہ ایسے جڑ گیا ہے جیسے کہ وہ پارٹی کے نام کا حصہ ہے۔ اس رجحان کی وجہ سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ہماری سیاسی پارٹیاں کچھ لیڈروں کے گروہ ہیں۔ انہی رہنماؤں کی وفاداری پارٹی کی قوت اور بنیاد ہے۔ اس طرح ملکی سیاست میں پارٹیوں کے نقطۂ نظر اور پروگرام سے نظر ہٹ جاتی ہے اور لیڈروں پر مرکوز ہوجاتی ہے جب کہ سیاسی پارٹیاں ایک سیاسی نقطۂ نظر اور پروگرام کی بنیاد پر ہی قائم رہ سکتی ہیں۔ لیکن میاں نواز شریف کے نااہلی کے فیصلہ کے بعد جس طرح خود انہوں نے راولپنڈی سے لاہور تک احتجاجی مارچ کیا اور جس طرح ان کی پارٹی کے جیالوں کی ایک تعداد نے اس احتجاج میں بڑھ چڑھ کر بسا اوقات حدود سے متجاوز حصہ ڈالا اس سے یہ تاثر قائم ہواکہ مسلم لیگ ن عدلیہ اور فوج کے خلاف محاذ آرائی کی طرف بڑھ رہی ہے۔ جس کی کوئی نظریاتی بنیاد نہیں تھی محض پارٹی لیڈر سے وفاداری کا اظہار تھا۔ میاں صاحب نے خودکہاکہ وہ اگلاپروگرام لاہور پہنچ کر دیں گے لیکن انہوں نے کوئی احتجاجی پروگرام نہ دیاجس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ خود میاں نواز شریف نے محسوس کر لیاکہ پارٹی کو انقلاب کی طرف نہیں لے جانا چاہیے اور اسے جمہوری پارلیمانی سیاسی پارٹی ہی رہنا چاہیے۔ اس کے بعدوہ اہلیہ کی بیماری کی وجہ سے لندن چلے گئے ہیں تاہم ایسے کوئی آثار نہیں ہیں کہ وہ لندن سے واپسی کے بعد کسی احتجاجی پروگرام کا اعلان کریں گے۔ یہ البتہ ہوا ہے کہ جن لوگوں نے ان کی حمایت میں بڑے گرم اور حد سے متجاوز قرار دیے جانے کے لائق بیان دیے تھے انہیں ن لیگ کی نئی کابینہ میں وزارتیں مل گئی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ مسلم لیگ ن آئندہ انتخابات میں میاں نواز شریف سے وفاداری اور عدلیہ اور فوج کے ساتھ محاذ آرائی کے نعرے پر انتخابی میدان میں اترنا چاہے گی یا اپنی چار سالہ کارکردگی کی بنیاد پر۔ مسلم لیگ ن کے دانشمند قائدین میں یہ سوال ضرور زیرِ غور ہوگا۔ اس وقت چوہدری نثار علی خان کا یہ کہنا کہ عدلیہ اور فوج کے ساتھ محاذ آرائی سے پارٹی کو نقصان پہنچے گا وزن رکھتاہے۔

کراچی کی ساحلی تفریح گاہوں پر تحفظ کے انتظامات

کراچی میں ہاکس بے پر ایک ہی خاندان کے 12افراد کے سمندر میں ڈوب جانے کا واقعہ ایک نہایت المناک حادثہ ہے۔ انا للہ و اناالیہ راجعون۔ اللہ پاک اس دار فانی سے رحلت کر جانے والوں کی مغفرت فرمائے اور ان کے پسماندگان کو صبرجمیل عطافرمائے۔ ساحل سمندر کراچی والوں کی اور کراچی کی سیر کرنے کے لیے آنے والوں کی مقبول ترین تفریح گاہ ہے۔ لیکن اتنی ہی خطرناک بھی۔ ہر سال تفریح کے لیے جانے والے بہت سے لوگ سمندر کی لہروں کی نذر ہو جاتے ہیں۔ سمندر کی لہروں کوتو سدھایا نہیں جا سکتا لیکن تفریح کے لیے جانے والوں کے تحفظ کا بہتر بندوبست کیا جا سکتا ہے جو کیا جانا چاہیے۔ اطلاعات ہیں کہ ایک بچے کے لہر کی لپیٹ میں آنے کے بعد اسے بچانے کی کوشش کرتے ہوئے خاندان کے 12افراد ڈوب گئے۔ اگر قریب ہی کوئی لائف گارڈز ہوتے جو ہمہ وقت ہونے چاہئیں تو شاید یہ المیہ رونما نہ ہوتا۔ یہ ضروری ہونا چاہیے کہ حادثات سے بچاؤ کے لیے ایک باقاعدہ محکمہ قائم کیا جائے جس کو پاک بحریہ کی معاونت بھی حاصل ہو۔ ساحل کے جو ویران علاقے ہیں وہاں جانے کی مکمل ممانعت ہونی چاہیے۔ ان علاقوں کو ممنوعہ علاقے قرار دے کر وہاں جانے پر سزا مقرر کی جانی چاہیے اور جو عام تفریح کے ساحلی مقامات ہیں ان پر ہمہ وقت لائف گارڈز تعینات کیے جانے چاہئیں۔

متعلقہ خبریں