Daily Mashriq


لاہور کے حلقہ این اے 120کا انتخابی معرکہ

لاہور کے حلقہ این اے 120کا انتخابی معرکہ

17ستمبر کو لاہور کے حلقہ این اے 120 میں ضمنی انتخابات ہونے ہیں۔ قائد جمہوریت جناب نواز شریف کی نا اہلی پر یہ نشست خالی ہوئی جس پر نون لیگ اینڈ سنز نے بیگم کلثوم نواز کو حکومتی جماعت کا امیدوار نامزد کیا۔ ان کی انتخابی اہلیت کی سماعت کے لئے تیسری بار لاہور ہائیکورٹ کا بنچ تشکیل پایا ۔ قبل ازیں دو بنچ تحلیل ہوئے۔ کیوں؟ طالب علم دست بدستہ معذرت خواہ ہے اس کیوں کا جواب عرض کرنے میں۔ مادر جمہوریت کی انتخابی مہم کی نگران اعلیٰ دختر جمہوریت اور داماد جمہوریت ہیں۔ چند قریبی و دور کے رشتے دار بھی سر گرم عمل ہیں۔ غلاموں کا لشکر ہے۔ وزراء کے ( وفاقی و صوبائی) دستے حلقے میں پریڈ کررہے ہیں۔ انتخابی مہم کے آغاز سے کل جمعرات تک اس حلقے میں مریم نواز شریف سمیت لیگی اینڈ سنز والوں کی تقاریر بڑی دلچسپ ہیں۔ ایک موقع پرمریم نواز نے بھی کہا ''لاہور والو میں بیمار ماں کو چھوڑ کر تمہارے پاس آئی ہوں میرا مان رکھنا'' اس حلقے کے ایک نہیں کئی ووٹروں نے گندگی سے اٹی گلیوں اور ابلتے گٹروں کے ٹھاٹھیں مارتے پانی کے بیچوں بیچ کھڑے ہو کر کہا وٹ تو نواز شریف کا ہے۔ سوال کیا گیا وہ کرپشن پر نا اہل ہوئے ہیں؟ '' ووٹر کا جواب تھا کرپشن سب کرتے ہیں یہ تو کاروبار ہے۔ نواز شریف نے کھایا ہے تو لاہور میں لگایا بھی ہے۔ تین چار کروڑ لگا کر جو ایم پی اے ایم این اے بنتا ہے وہ اپنا خرچہ پورا کرے گا۔ سب کرتے ہیں'' یہ ذہنیت ہے اطاعت و غلامی کے حوالے سے۔ بظاہر بیگم کلثوم نواز فتح مند ٹھہریں گی۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کی مشینری استعمال ہو رہی ہے۔ ملازمتیں ریوڑیوں کی طرح بٹ رہی ہیں۔ ترقیاتی کام زور و شور سے جاری ہیں الیکشن کمیشن نوٹس نوٹس کھیل رہا ہے۔ ہمارے ہمزاد فقیر راحموں کہتے ہیں '' میاں نواز شریف کے چار عدد بائی پاسوں کی طرح مادر جمہوریت کی کینسر سرجری پر سوال اٹھانے والے اسلام پاکستان اور ترقی کے دشمن تو ہیں ہی بلکہ وہ اس عالمی سازش کا حصہ بھی ہیں جس کے تحت نواز شریف جیسے درویش منش کو نکالاگیا''۔

لاکھ دعوئوں کے باوجود شریف فیملی کے اندرونی اختلافات کے قصے لاہور کی سڑکوں پر موضوع بحث ہیں۔ کاغذات نامزدگی داخل ہوتے ہی حمزہ شہباز لندن چلے گئے ان کی رخصتی کی وجہ یہ تھی کہ شہباز شریف انہیں انتخابی مہم کا نگران بنانا چاہتے تھے مگر دختر جمہوریت اور داماد جمہوریت نہیں مانے۔ تب نواز شریف نے پرویز ملک کو انتخابی مہم کا نگران بنایا۔ مریم نواز نے اپنے شوہر اور معاونین کے لشکر کے ہمراہ ایک شام 180/H ماڈل ٹائون پر قبضہ جمالیا۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس عمارت کو وزیر اعلیٰ ہائوس کا درجہ حاصل تھا۔ وزیر اعلیٰ کے دفتر سے پہلے غیر تحریری طور پر افسر شاہی کو حکم دیاگیا کہ 180Hماڈل ٹائون سے آنے والے احکامات پر عمل نہ کیا جائے۔ پھر جس دن نواز شریف لندن روانہ ہوئے اس سے اگلے دن نوٹیفیکیشن جاری کیاگیا جس میں 180H ماڈل ٹائون کے لئے وزیر اعلیٰ ہائوس کا سٹیٹس ختم کردیاگیا۔ عید کے بعد شہباز شریف بھی لندن پرواز کر گئے۔ بظاہر وہ میڈیکل چیک اپ کے لئے گئے ہیں مگر حقیقت میں وہ بھتیجی کے جارحانہ طرز عمل سے ناراض ہیں۔ انہیں یہ بھی شک ہے کہ ملتان میٹرو منصوبے میں پونے دو ارب کی کرپشن کہانی بھتیجی نے ہی اپنے پروردہ اخبار نویسوں کے ذریعے آگے بڑھائی۔ ''راوی'' کہتا ہے اپنے موقف کے حق میں وزیر اعلیٰ کے پاس چند ناقابل تردید ثبوت ہیں جو وہ لندن میں اپنے بھائی اور قائد جمہوریت نواز شریف کے سامنے رکھیں گے۔ ادھر حالت یہ ہے کہ وفاقی وزارت پانی و بجلی ' ریلوے' ثقافت' داخلہ کے علاوہ صوبائی وزارتوں' تعلیم' زراعت' بلدیات اور ایل ڈی اے و واسا میں تقرریوں کے حکم نامے مریم نواز کی گاڑی میں رکھے ہیں۔ وعدے وعید ہوتے ہیں اور حسب ضرورت تقرر نامہ حاضر۔مادر جمہوریت کے مقابلہ میں ویسے تو زیادہ امیدوار ہیں بڑے امیدوار دو ہیں اولاً تحریک انصاف کی ڈاکٹر یاسمین راشد' انہوں نے 2013ء کے انتخابات میں نواز شریف کا مقابلہ کیا تھا اور 50ہزار سے زیادہ ووٹ لئے تھے۔ پیپلز پارٹی کے فیصل میر ہیں۔ ناہید خان کی پی پی ورکرز کی ساجدہ میر بھی موجود ہیں۔ دو امیدوار بہت اہم ہیں۔ ایک تو ملی مسلم لیگ کے شیخ یعقوب اور دوسرے تحریک لبیک یا رسول اللہۖ کے امیدوار۔ یہ دونوں امیدوار جیت تو قیامت تک نہیں سکتے البتہ مجموعی طور پر نون لیگ کے پندرہ سے اٹھارہ ہزار ووٹ خراب کرسکتے ہیں۔ یہ وہ ووٹ ہیں جو ہمیشہ نو ن لیگ کو ملے۔ بظاہر مقابلہ پہلے تین امیدواروں کے درمیان ہی ہے بیگم کلثوم نواز' ڈاکٹر یاسمین راشد اور فیصل میر کے درمیان، جیت یقینا مادر جمہوریت کی ہوگی۔ مظلومیت کے ساتھ بیماری کی ہمدردی اس پر دو حکومتوں کی مشینری اور سونے پر سہاگہ حلقے کی بڑی اور موثر کشمیری برادری اور اس کی ذیلی شاخوں کا شریف فیملی کی طرف رجحان۔ پیپلز پارٹی کے امیدوار بھی کشمیری برادری سے ہی ہیں مگر ان کا خاندان جموں کشمیر کا مہاجر ہے۔ یہاں امر تسری کشمیریوں اور جموں کے مہاجرین والا تعصب ایک فیکٹر ہے۔ پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن نے چند دن قبل کہا تھا کہ مجھے این اے 120میں انتخابات ہوتے دکھائی نہیں دیتے۔8ستمبر کو جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں جس طرح نا اہلیت کی سماعت کرنے والے دو بنچ تحلیل ہوئے اس سے تو کچھ اور لگتا ہے۔ البتہ ایک بات مکرر عرض کئے دیتا ہوں وہ یہ کہ انتخابی مہم کے دوران لیگی رہنمائوں اور خود مریم نواز اور ان کے شوہر نے جو تقاریر کیں اس سے لگتا ہے کہ وہ انتخابی مہم سپریم کورٹ اور جی ایچ کیو کے خلاف چلا رہے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کی سیاست کو اس انتخابی مہم کے نتیجے سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔ مریم نواز کی قیادت میں تخت یا تختہ کی سوچ رکھنے والا گروپ میدان میں ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی اپنے ووٹروں کو پولنگ سٹیشنوں تک لا پاتی ہیں یا نہیں۔

متعلقہ خبریں