Daily Mashriq


لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اور کمیونٹی بجلی گھر

لوڈشیڈنگ کا خاتمہ اور کمیونٹی بجلی گھر

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ نومبر میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ ختم ہوجائے گی ۔یقین کریں یہ خبر اتنی غیر متوقع ہے کہ یقین نہیں آرہا ۔ یقین آئے بھی تو دھڑکا سا لگا رہے گا کہ کل کو عابد شیر علی یہ کہہ دیں کہ نومبر دوہزارسترہ نہیںبلکہ آنے والے سالوںکا ہے سو جب لوڈ شیڈنگ سچ مچ ختم ہوجائے گی تب ہی یقین آسکے گا۔وزیر اعظم کا یہ بیان چشمہ ایٹمی بجلی گھر کے ایک فیز کے افتتاح کے موقع پر آیا ہے ۔ سوال یہ کہ جب سچ مچ لوڈ شیڈنگ ختم ہوجائے گی تو پھر کیا کریں گے ۔یوپی ایس،بیٹری، جنریٹر ، سولر پینل بیچنے والوں کے اربوں کھربوں کے کاروبار کا کیا ہوگا جو کاروبارکہ جس کا جنم ہماری موجودہ اور سابقہ حکومتی کی کرامات کی وجہ سے ہوا تھا ۔ لیکن سب سے اہم پیش رفت یا جسے blessing کہہ سکتے ہیں وہ سولر انرجی کے استعمال کا رجحان ہے ۔

اللہ کی جانب سے فراوان انرجی یعنی سورج سے استفادہ کرنا۔سبحان اللہ لاکھوں کروڑوں سالوں سے یہ آگ کا گولہ یونہی زمین پر زندگی عطا کررہا ہے ۔سولر انرجی پر وفاقی سطح پر اتنا کام نہیں ہوپا یا سوائے ایک دو سولر پارک منصوبوں کے جبکہ سولر انرجی سے انفرادی طور پر کافی کام ہورہاہے ۔ اور کچھ نہیں تو ایک سولر پلیٹ گھر میں لگا کر ایک آدھ پنکھا اوربلب تو چلایا جاسکتا ہے ۔اور واپڈا کا بل بھی نہیں ۔ خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں بھی حکومتی سرپرستی اور سربراہان کی ذاتی کوششوں سے سولر پینلزکی تنصیب سے زندگی آسان بنی۔ میری بچی زریاب گرلز کالج پشاور میں پڑھتی ہے کہ جہاں پرنسپل صاحبہ نے بیک اپ کے پر سولر انرجی سے استفادہ کیا ہے اور بچیوں کو بجلی جانے اورآنے کا علم ہی نہیں ہوتا ۔ ہمارے ایک بہت پیارے دوست منورخان مروت جو کچھ عرصہ پہلے تک گورنمنٹ ڈگری کالج تجوڑہ لکی مروت کے پرنسپل تھے اب ان کا تبادلہ ٹانک کردیا گیا ہے ۔تجوڑی بھی ان علاقوں میں سے ہے کہ جہاں چوبیس میں سے ایک آدھ گھنٹہ ہی بجلی آتی ہے ۔تجوڑی کالج میں960طالب علم پڑھتے ہیں ٹیچنگ ودیگر سٹاف کو ملالیں تو تقریباً1000لوگ روزانہ اس کالج میںآتے ہیں ۔ منور خان نے ساڑھے چار سے پانچ لاکھ روپے خرچ کرکے کالج کے لیے سولر تنصیبات کروائیں (یاد رہے پانچ لاکھ کسی کالج کا ایک سال کا واپڈا کا بل ہوسکتا ہے )ان تنصیبات سے حاصل ہونے والی بجلی سے سائنس لیبس ، ایڈمنسٹریشن بلاک ، کمپیوٹر لیب ، ملٹی میڈیا ، سائنس بلاک اور تمام کلاس روم میں بلاتعطل بجلی میسر آگئی ہے ۔ اسی بجلی سے 200فٹ گہرائی سے واٹر پمپ سے پانی بھی نکالا جاتا ہے ۔اس کالج میں لگا واپڈا کا میٹر روایتی انداز میں چند یونٹ کا بل بھیجتا ہے باقی یہاں بجلی کی مد میں بجٹ زیرو ہے ۔منور خان اب ٹانک کالج میں بھی یہی سلسلہ کررہے ہیں کیونکہ وہاں بھی بجلی کا فقدان ہے ۔اب لوڈ شیڈنگ ختم ہو نہ ہو لیکن تجوڑی کالج کے لوگوں کو اس سے کوئی سروکار نہیں ۔ مجھے تو لگتا ہے کہ لوڈشیڈنگ میں جو تھوڑی بہت کمی آئی ہے وہ انہی سولر تنصیبات کی وجہ سے ہے ۔صوبائی حکومت سرکاری تعلیمی اداروں میں بتدریج سولر تنصیبات پر کام کررہی ہے ۔ ہمارا صوبہ قدرتی عناصر سے مالا مال ہے ۔ ہمارے دریا اتنے وافر ہیں کہ وہاں سے اتنی بجلی پیدا کی جاسکتی ہے کہ ہمارا صوبہ دوسرے صوبوں کو اضافی بجلی فراہم کرسکتاہے ۔ یہ الگ بات کہ وفاقی حکومت اس جانب توجہ نہیں دیتی ورنہ صرف دریائے سوات ہی کافی ہے ۔ موجودہ صوبائی حکومت نے اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر کمیونٹی بجلی گھروں کی ایک تدبیر بنائی تھی کہ جواپنے تکمیلی مراحل میں ہیں ۔یہ دراصل منی مائیکروہائیڈرو پاور پراجیکٹس صوبے کے دورافتادہ علاقوں کو بجلی فراہم کرنے کے لیے تھے ۔ ان پاورپراجیکٹس میں سے 250پراجیکٹس اپنے تکمیلی مراحل میں ہیں ۔جبکہ ان پراجیکٹس سے دوردرازعلاقوں کے لوگو ں کو استفادہ ہوگا ۔ ان پراجیکٹس کی خوبی یہ ہے کہ ان بجلی گھروں سے ملنے والی بجلی اسی علاقے کے لوگوں کو سستے نرخوں پر میسر ہوںگی۔ کمیونٹی کا تصور ماڈرن دنیا کا تصور ہے ۔ کمیونٹی سسٹم کے تحت کوئی بھی منصوبہ نہ صرف کامیاب رہتا ہے بلکہ اس کی عمر اور پائیداری بھی زیادہ ہوتی ہے ۔گزشتہ روزوزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویزخان خٹک نے توانائی کے پانچویں سٹاک ٹیک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے زیرتکمیل منصوبوں کوجلد مکمل کرکے کمیونٹی کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے ۔ یقینا یہ توانائی کے بحران کے حل میں صوبائی حکومت کاایک بہت بڑا قدم ہے ۔ پی ٹی آئی کی حکومت نے توانائی کے بحران میں صوبائی حکومت کی حدود میں رہ کر کوشش کی ہے کہ عوام کو اس ضمن میں ریلیف ملے اور اس میں کامیابی بھی ملی ہے ۔ البتہ مجھے حیرت اس بات کی ہے کہ اتنا بڑا کام کرنے کے باوجود اس کام کی تشہیر نہ ہونے کے برابر ہے ۔ بس اخبار میں ایک چھوٹی سی خبر لگ جاتی ہے جبکہ اس قسم کا کام پنجاب میں ہو تو ٹی وی چینل والے اس کے قصیدے پڑھتے نہیں تھکتے ۔ میری نظر سے بہرحال کالام کے کمیونٹی بجلی گھر کی ایک ویڈیورپورٹ گزری ہے کہ جس میں اس پاور پراجیکٹ کی تکمیل سے وہاں کے لوگوں کی آنکھوں میں خوشی کی چمک دیکھی جاسکتی تھی ۔امید ہے کہ سی ایم صاحب انفرادی سطح پر متوسط طبقے کو سولر پینل کی قسطوں پر فراہمی کے پراجیکٹ پر بھی سوچیں گے کیونکہ اگلے الیکشن سے پہلے یہ منصوبہ مکمل ہوسکتا ہے ۔جس سے بہت سے تاریک گھروں کو روشنی عطا ہوسکتی ہے ۔

متعلقہ خبریں