Daily Mashriq


ڈینگی مچھر کے مردانہ وار حملے

ڈینگی مچھر کے مردانہ وار حملے

کل ایک رفیق کار نے سیل فون پر پیغام بھیجا کہ وہ دفتر ایک گھنٹہ دیر سے آئیں گے کوئی ایمرجنسی ہوگئی ہے ۔جب موصوف تشریف لائے تو ہم نے ایمرجنسی کے حوالے سے خیر خیریت دریافت کی تو کہنے لگے بھانجے کی طبیعت ناساز تھی۔ گمان غالب تھا کہ اسے ڈینگی مچھر نے کاٹ لیا ہے۔ ایک لیبارٹری نے تو ڈینگی کے کاٹے کی تصدیق بھی کردی لیکن آپ تو جانتے ہیں کہ آج کل میڈیکل لیبارٹریوں کا بھی کوئی اعتبار نہیں ہے بعد میں دوسری لیبارٹری نے پہلی لیبارٹری کی رپورٹ کو غلط قراردے دیا تو ہماری بھی جان مین جان آئی۔ اپنے دوست کی بات سن کر ہمیں اپنا بچپن یاد آگیا۔ اس وقت بھی ہم ڈینگی کے نام سے آشنا تھے لیکن وہ مچھر خطرناک نہیں تھا رات کو تشریف لاتا کان کے قریب اس زور سے بھنبھناتا کہ نیند کوسوں دور بھاگ جاتی دوسرے لفظوں میں آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ باقاعدہ حضرت انسان کو خبر دار کرتا کہ او غفلت کی نیند سونے والے دیکھ ہم آگئے ہیں آ ج جہاں ہمیں اور بہت سی مصیبتوں کا سامنا ہے وہاں یہی دو ٹکے کا مچھر ہمارے لیے وبال جان بنا ہوا ہے آگے بڑھ بڑھ کر مردانہ وار حملے کرتا ہے اور ہماری ساری انتظامیہ اس کے سامنے مفلوج ہے۔ کہتے ہیں جب مصیبت آتی ہے تو پھر چاروں طرف سے آتی ہے شاید اسے ہی گردش زمانہ کہتے ہیں کہ کبھی چوہے اور مچھر کو سب سے کمزور اور حقیر ترین دشمن سمجھا جاتا تھا اب چوہوں اور مچھروں نے ہمارا جینا دوبھر کردیا ہے۔ یہ ہماری شامت اعمال ہے کہ ڈینگی جان لیوا ہوچکا ہے اور اتنے بڑے بڑے چوہے ہمارے گھروں میں دوڑتے بھاگتے ہیں کہ بلی ان کو دیکھ کر خوفزدہ ہوجاتی ہے۔ ہمارے ایک مہربان اس قسم کی صورتحال کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ جناب یہ قیامت کی نشانیاں ہیں!دکھ کی بات تو یہ ہے کہ مسائل کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے لیکن کسی جگہ کوئی مسئلہ حل ہوتا نظر نہیںآتامچھر کی جرات رندانہ اس لیے بھی بڑھ چکی ہے کہ اسے معلوم ہے کہ یہ سری لنکا نہیں ہے جہاں اسے عالم وجود میں آنے سے پہلے ہی موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ یہاں ہر سال انتظار کیا جاتا ہے کہ وہ پوری طرح توانا ہو کر ہمارے مقابلے پر آئے بہت سی قیمتی جانوں کو لقمہ اجل بنا لے توپھر ہم کیل کانٹے سے لیس ہو کر اس کے مقابلے پر آئیں گے۔ اب اسے ہماری بدبختی کہیے کہ ہم ہر چیز میں ملاوٹ کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ ہماری مچھر مار دوائی بھی ملاوٹ والی ہوتی ہے۔ تجربہ کار ڈینگی جو ہمارے خلاف بہت سے کامیاب حملوں کی قیادت کر چکا ہوتا ہے اپنے نوجوان اور نا تجربہ کار ساتھیوں سے کہتا ہے کہ ان کے سپرے سے ڈرنے کی چنداں ضرورت نہیں ہے میں رات کی تاریکیوں میں کئی مرتبہ اپنے چوہے بھائی کو دیکھ چکا ہوں کہ وہ دوائی ملا ٹماٹر بڑی دیدہ دلیری سے کھا جاتا ہے لیکن اس کا بال بھی بیکا نہیںہوتا اس پر کوئی آنچ نہیں آتی اورچوہے مزے سے ٹماٹر کھا کھا کر مزید موٹے ہو رہے ہیںذرا سوچو یہ دودھ میں پانی ملاتے ہیںزندگی بچانے والی دوائیوں میں ملاوٹ کرتے ہیںان کی مرچوں میں ملاوٹ مسالہ جات میں ملاوٹ چائے کی پتی میں ملاوٹ قہوہ چائے میں ملاوٹ ان کے کھانے پینے کی ہر چیز میں ملاوٹ ہے ہمارا تو نام بدنام ہے۔ ان کے ہسپتال بھرے ہوئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پائپ بوسیدہ اور زنگ آلود ہیں لیکن انہیں اپنے بینک بیلنس بڑھانے سے فرصت ہی نہیں ملتی تو نئے پائپ کیسے لگائیں۔ ہر دوسرا شخص ہیپاٹئٹس جیسے موذی مرض میں مبتلا ہے۔ دوائیاں استعمال کرتے ہیں لیکن وہ اثر ہی نہیں کرتیںمحکمے موجود ہیں ڈرگ انسپکٹرز کی فوج ظفر موج بھاری تنخواہیں وصول کرتی ہے۔ لیکن جعلی دوائیوں کی بازاروں میں بھر مار ہے ان کی بے حسی دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ موت کو مکمل طور پر بھول چکے ہیں انہیں یاد بھی نہیں رہا کہ موت کا ذائقہ ہر نفس نے چکھنا ہے! ایک بات کا خیال رکھنا انہوں نے جرمنی سے مشینیں منگوائی ہیں اور اگر پہلے کی طرح سری لنکا سے ماہرین کو بلاتے ہیں تو بس ان سے بچ کر رہنا میرے داد ا جان کا انتقال سری لنکا میں ہوا تھا اس نے مرتے وقت مجھے نصیحت کی تھی کہ اب سری لنکا میں ایک دن بھی مزید نہ رہنا جتنا جلدی ہو سکے پاکستان کی طرف کوچ کر جانا۔ وہاں حالات موافق ہیں انہوں نے اپنے لیے اتنے مسائل پیدا کر رکھے ہیں کہ تمہیں وہاں بڑے سکون سے رہنے کا موقع ملے گا۔ اگرتمہیں مارنے کے لیے کوئی فرض شناس رہنما کوئی قدم بھی اٹھائے گا تو اس بیچارے پر اتنے الزامات لگیں گے کہ وہ اپنی صفائیاں پیش کرتا پھرے گا۔یہ ایک دوسرے پر الزامات لگاتے رہیں گے اور تم آرام و سکون سے زندگی گزارتے رہو گے البتہ وہاںتمہیں ایک بات کی پریشانی ہوگی تمہیںوہاں اپنی نسل پروان چڑھانے کے لیے صاف پانی بڑی مشکل سے ملے گا جہاں جائو گے تمہارا واسطہ گندگی کے ڈھیروں سے پڑے گالیکن بے فکر رہو ان کے گھروں میں ایسے برتن تمہیں ضرور ملیں گے جن میں صاف پانی ہوگا اور ان کی عورتیں اپنے پھوہڑ پن کی وجہ سے انہیں ڈھانپنے کی زحمت گوارا نہیں کریں گی۔ بس وہیں اپنی نسل بڑھانا۔یہ جو نت نئے لوشن یہ اپنے بازئوں اور چہروں پر لگائے پھرتے ہیں ان سے بالکل خوف نہ کھانا بلکہ تم دیکھو گے کہ جب تمہارے حملے بڑھتے چلے جائیں گے تو ان میں بہت سے حکیم اور کمپائونڈر اپنی دکانوں کے باہر بڑے بڑے بینرز لٹکا لیں گے جن پر لکھا ہو گا یہاں پر ڈینگی کے کاٹے کا تسلی بخش علاج کیا جاتا ہے۔ ہر گز خوف نہ کھانا یہ اپنے عوام کے خوف کو کیش کرنا جانتے ہیںان کی زندگی کا مقصد پیسہ بنانا ہے۔ 

متعلقہ خبریں