Daily Mashriq


اداروں کی حدود اورانتقامی سیاست

اداروں کی حدود اورانتقامی سیاست

پاکستان میں ایک عرصہ سے جس طرح کی سیاست چل رہی ہے اس کا لب لباب یہ ہے کہ اپنے مفادات کی خاطر اقتدار حاصل کیا جائے اور جب اقتدار مل جائے تو قومی اداروں کو اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے استعمال کیا جائے اس کا لازمی نتیجہ انتقامی سیاست کی صورت نکلنا تھا جس کا ہم ہر دور حکومت میں مشاہدہ کرتے چلے آ رہے ہیں۔اس کو یوں سمجھیں کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کرپشن کے آخری مقدمے سے بھی بری ہو گئے ہیں۔جس پر کراچی کے بلاول ہاؤس میں خوب جشن منایا گیا اور آتش بازی ہوئی۔ اس واقعہ سے سندھ حکومت کو حوصلہ ہوااور اب وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے ایک مرتبہ پھر نڈر آئی جی سندھ پولیس اے ڈی خواجہ کو سبق سکھانے کے لیے توجہ مرکوز کی ہے۔ آئی جی خواجہ نے کچھ عرصہ قبل وزیر اعلیٰ کو دو مراسلے تحریر کیے تھے جس میں ان کی مرضی کے بر خلاف محکمہ پولیس میں تبادلوں اور تقرریوں پر اعتراض کیا گیا تھا۔ وزیر اعلیٰ کو یہ شکوہ بھی ہے کہ آئی جی نے چیف سیکریٹری سے اجازت لیے بغیر گریڈ18 کے ایک پولیس افسر کو بیرون ملک جانے کے لیے رخصت کیوں دی ؟ یوں سندھ حکومت نے ایک بار پھر آئی جی اے ڈی خواجہ کا تعاقب شروع کر دیا ہے۔سندھ حکومت کا ایک ہدف کرپشن کی تحقیقات کرنے والا وفاقی ادارہ قومی احتساب بیورو(نیب)بھی ہے۔ پی پی حکومت نے سندھ اسمبلی میں اکثریت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صوبے میں نیب کی عملداری ختم کرنے کا نیا قانون منظور کرایا ہے جس کی منظوری کے آخری مرحلے میں گورنر سندھ محمد زبیر سدِراہ بن گئے ہیں۔ وہ سندھ اسمبلی سے دوبارمنظور ہوکر آنے والے اینٹی نیب بل کو دوسری بار بھی مسترد کر چکے ہیں۔ اب یہ معاملہ عدالت میں بھی چلا گیا ہے۔خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے چار سالہ حکمرانی کا نچوڑ یہ پیش کیا ہے کہ ان کی اپنی پارٹی کے وزیر اور ارکان اسمبلی بلدیاتی نظام کے مخالف ہیں اور انہوں نے بلدیاتی لوکل گورنمنٹ کو صحیح طور پر چلنے ہی نہیں دیا۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر پی ٹی آئی کو وفاق میں حکومت مل جاتی تو وہاں بھی انہیں ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا۔ بلوچستان اور پنجاب کی صورتحال بھی اس سے زیادہ مختلف نہیں ہے لیکن یہاں صوبائی حکمرانوں میں عمران خان جتنی اخلاقی جرات نہیں ہے کہ وہ اپنی ناکامی کا برملا اعتراف کرسکیں۔ سندھ میں صورتحال زیادہ خراب ہے۔ گزشتہ زمانے میں جب پیپلز پارٹی وفاق کی حکمرانی سے آؤٹ ہوتی تھی تو ''سندھو ہودیش'' کا نعرہ پنجاب کو بلیک میل کرنے میں بہت کام آتا تھا لیکن آج جئے سندھ تحریک کئی ٹکڑوں میں نہ صرف تقسیم ہے بلکہ سیاسی طور پر پیپلز پارٹی کے مخالف کھڑی ہے۔ اب پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت اور وزراء کو ہی انتہا پسند نعروں اور بیانات کا محاذ سنبھالنا پڑا ہے۔ پی پی پی سندھ کے صدر اور سینئر صوبائی وزیر نثار احمد کھوڑو نے گورنر سندھ محمد زبیر کو دھمکی دی ہے کہ وہ ٹھیک ہو جائیں ' پہلے ہم صرف زبانی بول رہے ہیں کہ گورنر ہوش میں رہیں اگر بہت زیادہ آگے بڑھے تو ان کے خلاف عدالت میں جائیں گے۔گورنر سندھ محمد زبیر کا تعلق وفاق میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) سے ہے نثار کھوڑو کا کہنا ہے کہ سابقہ گورنر عشرت العباد کا تعلق ایم کیو ایم سے ہونے کے باوجود انہوں نے پارٹی سے لاتعلقی ظاہر کی تھی لیکن گونر محمد زبیر خود کو سیاسی پارٹی کا کارکن کہلاتے ہیں ' گورنر محمد زیبر سندھ میں وفاق کے نمائندے ہیں۔ انہیں صوبے میں وفاقی اداروں کی عملداری قائم کرنی ہے اور سندھ حکومت کو آئین وقانون کے مطابق چلنے پر مجبور کرنا ہے۔ سندھ کا جاگیردارانہ سماج انہیں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ وہ انہیں اپنا مطیع و فرما نبردار بنانا چاہتا ہے۔ گورنر کوبھی اپنی آئینی حدود کا علم ہے وہ بہت محتاط اور پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں۔ صوبائی حکومت کی گورنر سندھ سے مخاصمت اور محاذ آرائی ابھی جاری ہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے آئی جی اے ڈی خواجہ کو عہدے پر برقرار رکھنے کا حکم جاری کردیا ہے۔ 7 ستمبر کو جاری ہونے والے عدالت عالیہ کے فیصلے میں آئی جی کی برطرفی سے متعلق صوبائی حکومت کے دونوں نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دے دیے ہیں اور آئی جی کو مستقل ذمہ داری سنبھالنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے سندھ حکومت کا پولیس افسران کے تبادلوں اور تقرریوں کا نوٹیفیکیشن بھی کا لعدم کردیا ہے۔جاگیردارانہ سماج میں اداروں کی حیثیت اور اہمیت با اثر افراد کی ٹھوکروں میں ہوتی ہے۔ پاکستان میں گزشتہ 70 برس سے یہی کھیل کھیلا جارہا ہے۔ سابق صدر پاکستان پرویز مشرف نے سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ این آر او کرکے انہیں فرارکا موقع فراہم کیا اور آج سارے ایک آواز ہوکر انہیں آرٹیکل 6 میں فٹ کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں پاکستانی سیاست کا یہ انداز ملک میں عدم استحکام کا باعث بن رہا ہے۔ سابقہ دور کے مجرم معصومیت کے سرٹیفکیٹ حاصل کررہے ہیں اور اس عہد کے ملزم پناہ تلاش کررہے ہیں۔ جب تک اسمبلیوں کو موروثی جاگیرداروں سے پاک نہیں کیا جائے گا ' نہ عمران خان کا بلدیاتی نظام چلے گا اور نہ ہی پاکستان میں سیاسی واقتصادی استحکام پیدا ہوگا۔ نہ مقامی گورنمنٹ (بلدیاتی حکومت) کام کرسکے گی اور نہ عوام کے مسائل حل ہونگے۔

متعلقہ خبریں