Daily Mashriq


انقلاب اور بغاوت میں فرق

انقلاب اور بغاوت میں فرق

سیاسی تبدیلی کی د وبڑی شکلیں ہیں ، بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ یہ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں تو شاید غلط نہ ہو ، ایک کو انقلاب کہتے ہیں اور دوسری تبدیلی کو بغاوت سے تعبیر کیا جاتاہے۔ پہلی والی شکل کی اب تک تین بڑی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ، ایک انقلاب فرانس اور دوسرا انقلاب روس اور تیسرا چین کا انقلاب ۔یہ انقلاب اس لئے کہلا تے ہیں کہ تینوں ملکوں میں حالات کے تناظر میں اپنے اپنے وقت کے ظالم اور جابر حکمرانوں کے ظلم و جور سے تنگ آئے ہوئے عوام نے علم بغاوت بلند کر کے دونوں ملکوں میں اقتدار کا تختہ پلٹ کر اشرافیہ کو کیفر کردار تک پہنچا یا اور عوامی راج کے قیام میں کامیابی حاصل کی۔ یہ الگ بات ہے کہ کامیاب ہونے والے انقلاب کے فوائد صرف انقلابیوں کے حصے میں آئے ۔ فرانس میں پسے ہوئے طبقے نے روٹی نہ ملنے کی شکایات کے جواب میں ایک شہزادی کی جانب سے کیک پیسٹری کھانے کے مشورے پرغیظ و غضب کا مظاہر ہ کرتے ہوئے حکمران طبقات اور اشرافیہ کے افراد کو چن چن کر اسی گلو ٹین کے نیچے ان کے سروں کو دے کر اپنے جذبات کا اظہار کیا جس سے عوام کے سر کاٹے جاتے تھے، تو روس میں انقلابیوں نے زار روس کے خاندان اور دیگر جاگیر داروں کو تہ تیغ کر کے انقلاب کو کامیابی سے ہمکنا ر کیا مگر حکمران زار خاندان کے بعد وہاں پر کمیونسٹ پارٹی کی بد ترین آمریت کا آغاز ہوگیا اور ہر شخص ذاتی ملکیت سے ہاتھ دھو کر اجتماعی طور پر سرکار کا ملازم بن گیا جس کے بدلے انہیں روٹی کپڑا مکان کی سہولیات دی گئیں مگر اقتدار صرف کمیونسٹ پارٹی کی ملکیت قرار دیا گیا ۔ اسی طرح بعد میں چین میں مائو ز ئے تنگ ، چو این لائی اور ان کے ساتھیوں نے بھی لانگ مارچ کے ذریعے جو انقلاب بر پا کیا اس کے نتیجے میں بھی بہت خون بہا ، جبکہ موخرالذکر دونوں انقلاب یعنی روس اور چین کے انقلاب نے اپنے بنیادی نظریئے سے توبہ تائب ہو کر ایک بار پھر ذاتی ملکیت اور صنعتی انقلاب میں پناہ ڈھونڈی ، تاہم دونوں ابھی تک سرمایہ دار دنیا کی آنکھوں میں صرف اس لئے کھٹکتے ہیں کہ دونوں اور خصوصاً چین نے عالمی معیشت میں اپنا سکہ جمانا شروع کر دیا ہے اور شنید ہے کہ 2030ء تک چین عالمی اقتصادی طاقتوں میں سب کو پیچھے چھوڑ جائے گا ۔ چونکہ محولہ بالا تینوں انقلاب کامیاب ہو گئے تھے اس لئے انہیں بجا طور پر انقلاب کے نام سے تعبیر کیا جا سکتا ہے ، تاہم جب ایسے ہی اقدام ناکامی سے دو چار ہوتے ہیں تو انہیں بغاوت کا نام دے کر ان کی سبکی کی جاتی ہے ، اور بر صغیر کی تاریخ میں اس کی سب سے بڑی مثال 1857ء کی وہ جنگ ہے جو ناکامی سے دوچار ہونے کی وجہ سے انگریزوں کی زبان میں غدر سے تعبیر ہوئی اور جس کے نتیجے میں وہ رہی سہی کسر بھی پوری ہوئی جو انگریزوں کی پورے ہندوستان پر اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے اور پھر بلا شرکت غیر ے یہا ں کی حکمرانی کے راستے میں برائے نام ہی سہی دیوار بن کر کھڑی تھی کیونکہ آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر نام کی حد تک ہی سہی کم از کم لال قلعے کی چاردیواری تک تو شہنشاہ کہلا تا تھا ۔ اس ضمن میں انگریزوں ہی کے تربیت یافتہ ایک سپاہی جو توپ خانے کی کمانڈ کر رہاتھا ، بخت خان نے بھاگ کر ایک چھوٹی موٹی فوج بنائی اور کئی جگہوں پر انگریزوں کی فوج کو شدید نقصان سے دو چار کر تا ہوا کسی نہ کسی طریقے سے لال قلعہ پہنچ کر شہنشاہ بہادر شاہ ظفر سے اجازت طلب کی کہ وہ انہیں انگریزوں کے خلاف جنگ کی اجازت دیں ، مگر تب تک انگریز برصغیر میں اس قدر مضبوط ہو چکے تھے اور بر صغیر کے غیر مسلم عوام خصوصاً ہندوئوں نے بھی حالات کا رخ دیکھ کر انگریزوں کی حمایت شروع کر رکھی تھی کہ جنرل بخت خان کی فوج کئی وجوہات کی وجہ سے انگریزوں کا مقابلہ کرنے میں کامیاب نہ ہوسکی ، اور شکست سے دوچار ہو کر کو نوں کھدروں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئی اور ، خود جنرل بخت خان بھی دکن کی سمت بھاگنے پر مجبور ہوگیا ، جس کے بعد ان کے بارے میں کبھی کوئی خبر نہیں کہ وہ کہاں اور کن حالات میںزندگی کی جنگ ہار گیا ، چونکہ یہ بغاوت ناکامی سے دوچار ہوئی جس میں انگریز بلا شرکت غیرے ہندوستان پر قابض ہوگئے اور انہوں نے جہاں بہادرشاہ ظفر کو معزول کر کے رنگون (برما) بھیج کر نظر بند کردیا ، کئی مغل شہزادوں کو موت کی سزا دی اور یوں بر صغیر کی تاریخ میں ایک عہد کا اختتام تو دوسرے کا آغاز ہوا ، اس بغاوت کو انگریزوں نے غدر یعنی Mutinyکا نام دیا اور درسی کتب کا حصہ بنا کربر صغیر کے عوام کو یہ سبق ذہن نشین کرنے پر مجبور کیا کہ انگریز وں کے خلاف سر اٹھانے والوں کا کیا حشر کیا جاتا ہے۔یہ سلسلہ اگر چہ 1947ء میں جاکر اپنے منطقی انجام تک پہنچا جب بر صغیر کے عوام نے جنگ کے بجائے سیاسی جدوجہد کے ذریعے غیر ملکی آقائوں سے نجات حاصل کی ، تاہم بد قسمتی سے آزادی کی اس جدوجہد کے نتیجے میں بھی بے گناہ انسانوں کا بے پناہ لہو بہا ، اور آج جب ہم تاریخ کو کھنگالتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ تقسیم کے نتیجے میں آبادی کے تبادلے کے دوران خون کے جو دریا بہائے گئے ان کے پیچھے بھی انگریزوں کی سازشیں کا ر فرما تھیں ۔ ان حالات میں مسلمانوں اور ہندوئوں کے مابین نفرت کی ایسی دیواریں کھڑی کر دی تھیں جنہیں پاٹنے میں آج بھی دونوں قومیں کامیاب نہیں ہو سکیں اور جن کے نتیجے میں دونوں طرف نفرت اب بھی پل رہی ہے۔ ترقی کا خواب معدوم ہو چکا ہے اور اب مودی سرکار برما کے مسلمانوں کے خلاف بدھ مت کے حامیوں کو ہلا شیری دے رہے ہیں ۔ مگر او آئی سی منقار زیر پر کئے خاموش ہے ۔ 

متعلقہ خبریں