جمہوریت کا سفر

11 ستمبر 2018

نومنتخب صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی تقریب حلف برداری کے موقع پر اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ ملک میں جمہوریت فروغ پا رہی ہے وقت گزرنے کیساتھ ساتھ یہ مزید مستحکم ہوگی‘ جمہوری اقدار کا فروغ ہی ملک وقوم کیلئے اہم ہے۔ امر واقع یہ ہے کہ ملکی تاریخ میں یہ اولین موقع ہے کہ مسلسل تیسری بار پُرامن طور پر انتقال اقتدار کا مرحلہ طے ہوا۔ 2008ء سے 2018ء تک جمہوری روایات کے مطابق منتخب ہونے والی سیاسی جماعت کو انتقال اقتدار نے جمہوری روایات پر عام آدمی کے اعتماد کو مزید مضبوط کیا ہے۔ پاکستانی عوام کی جمہوریت دوستی اور جمہوری نظام حکومت کیلئے قربانیوں کی تاریخ بذات خود اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام اس امر پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ جمہوری نظام ہی ان کے مسائل کا حل اور روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔ اقتدار ایک دوسری جماعت کو منتقل ہونے کے عمل میں فوج سمیت ملک کے تمام اداروں کا کردار بھی خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔ بدقسمتی سے کچھ عناصر نے انتقال اقتدار کے تینوں مراحل کے دوران قدم قدم پر ریاستی اداروں پر الزام تراشی سے سیاسی ماحول کو پراگندہ کیا مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ ان اداروں نے منفی پروپیگنڈے کا جواب دینے کی بجائے آئین اور قانون کے مطابق اپنے فرائض پر توجہ دی۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انتخابی عمل کے مراحل پر سوال اٹھانے اور الزام تراشی سے جمہوریت پر ہی حرف گیری ہوتی ہے۔ جائز شکایات کے ازالے کیلئے متعلقہ فورمز موجود ہیں۔ بعض سیاسی جماعتوں کو اگر اس حوالے سے تحفظات وشکایات ہیں تو ان کا حق ہے کہ وہ معاملہ متعلقہ فورمز پر اٹھائیں۔ جمہوریت سے متصادم راستہ اپنانے کی ماضی کی کوششیں ہوں یا ان دنوں دی جانے والی دھمکیاں ہر دو درست نہیں ہیں۔ 22کروڑ کی آبادی والے ملک میں موجود مختلف الخیال سیاسی جماعتوں سے کسی ایک نکتے یا مقصد پر متحد ہونے کی توقع تو نہیں کی جاسکتی پھر بھی معروضی حالات کے تناظر میں یہ ضرور عرض کیا جاسکتا ہے کہ مسائل ومشکلات کا حل اور شکایات کا ازالہ نظام کے اندر رہ کر ہی تلاش کیا جائے تو اس سے جمہوری نظام اور آئین وقانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جاسکے گا۔ وہ سیاسی حلقے جو تصادم ودیگر راستوں کو اپنانے کے جنون کا شکار ہیں انہیں سمجھنا ہوگا کہ دو جماعتی نظام حرف آخر نہیں۔ بنیادی طور پر یہ عوام کا حق ہے کہ وہ دو جماعتی نظام کو ہی قائم ودائم رکھتے یا پھر متبادل قیادت کو آگے لانے کیلئے حق رائے دہی استعمال کرتے۔ 1988ء سے جاری دو جماعتی نظام میں تحریک انصاف ایک نئی قوت بن کر ابھری۔ سیدھے سبھاؤ یہ دیکھنا ہوگا کہ آخر متعدد بار اقتدار کے ایوانوں تک رسائی حاصل کرنے والی جماعتوں سے کیا غلطیاں سرزد ہوئیں جن کی وجہ سے عوام نے ایک نئی قیادت پر اعتماد کیا۔ یہ امر بھی مسلمہ ہے کہ سیاسی اختلافات میں بھونڈی الزام تراشی یا کسی کی حب الوطنی کو مشکوک بنا کر پیش کرنے کے رویوں کی حوصلہ افزائی درست نہیں ہوگی۔ ہمارے سیاسی قائدین دودھ پیتے بچے نہیں ہیں کہ کوئی دشمن قوت بہلا پھسلا کر ان سے ملک وقوم کے مفادات کے منافی فیصلے کروانے پر قادر ہو۔ سیاسی عمل میں نظریاتی اختلافات اور نظام ہائے حکومت کو چلانے کے انداز میں اختلافات ہوتے ہیں ان اختلافات کو ذاتی دشمنیوں میں تبدیل کرنے یا میں نا مانوں کی گردان پر مصر رہنے سے ہمیشہ مسائل پیدا ہوئے۔ ٹھنڈے دل کیساتھ ہمارے سیاسی قائدین کو اس امر پر غور کرنا ہوگا کہ وطن عزیز میں غیر جمہوری قوتوں کو چار بار اقتدار پر قبضہ کرنے کا موقع کیوں ملا؟ محض یہ کہہ دینا کافی نہیں ہوگا کہ کچھ طالع آزما جرنیل ہر قیمت پر اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ چار غیر جمہوری ادوار کے آغاز سے قبل کے حالات پر غور وفکر سے نہ صرف جمہوریت کی راہ کھوٹی ہونے بلکہ فوجی حکومتوں کے قیام کی حقیقی وجوہات بھی سامنے آسکتی ہیں۔ یہ عرض کرنا بھی ازبس ضروری ہے کہ ایک قومی جمہوری فلاحی ریاست کے قیام کی طرف بڑھتے ہوئے سماج کی شعوری رہنمائی ہمارے قائدین کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ مسائل بہرطور موجود ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی اگر لوگ ایک حکمران جماعت کی جگہ دوسری جماعت کو ووٹ کی قوت سے اقتدار میں لاتے ہیں تو اس کی بنیادی وجہ یہی ہوتی ہے کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے مسائل حل نہیں ہوئے۔ سوال یہ ہے کہ ہم پاکستانی سیاست میں انتقال اقتدار کی جمہوری روایات کو ذاتی اقتدار چھن جانے کا غم کیوں بنا لیتے ہیں۔ جمہوریت کا مطلب ہی یہی ہے کہ نظام ہائے اقتدار کو بہتر تر بنانے کیلئے نئی قیادت کو آگے لایا جائے۔ جمہوریت شخصی یا خاندانی حکمرانی کا نہیں بلکہ عوام دوست پروگرام پر عمل کرنے کیلئے اقتدار میں آنے کا نام ہے۔ یہاں ہم جناب وزیراعظم سے یہ درخواست کرنا بھی ضروری خیال کرتے ہیں کہ وہ حالیہ انتخابات کے حوالے سے حزب اختلاف کی جماعتوں کی شکایات وتحفظات کے ازالے کیلئے ایک قومی پارلیمانی کمیشن کا قیام بلا تاخیر عمل میں لائیں تاکہ ماحول کو پراگندہ بنانے کی کوششیں ہی ناکام نہ ہوں بلکہ عوام حقیقت حال سے بھی آگاہ ہوسکیں۔ یہ امر بجا طور پر درست ہے کہ پاکستانی جمہوریت تسلسل کیساتھ پہلی مرتبہ تیسرے دور میں داخل ہوئی ہے۔ یہ سلسلہ اگر یونہی چلتا بڑھتا رہے تو نظام ہائے حکومت پر بالادست طبقات کی گرفت کمزور ہوگی اور اس کی جگہ درمیانے طبقات کے لوگ بھی آگے آسکیں گے۔ امید واثق ہے کہ نظام حکومت اور جمہوریت کے استحکام کیلئے پارلیمانی سیاست کے سارے فریق اپنا اپنا کردار ادا کریں گے اور اس امر کو بھی یقینی بنائیں گے کہ آئین وقانون سے کسی طور انحراف نہ ہو استحصالی قوتوں کو اپنے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے مواقع نہ ملیں۔ دو جماعتی نظام میں جگہ بنا کر اقتدار میں آنے والی تیسری قوت تحریک انصاف کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عملی طور پر ان اقدامات پر توجہ دے جن سے لوگوں کے مسائل حل ہوں۔ جمہوریت مستحکم ہو اور سماجی انصاف کا بول بالا ہو۔

مزیدخبریں